انسان کو کورونا وائرس دراصل لگتا کیسے ہے؟ سائنسدانوں کو مزید معلومات مل گئیں، آپ بھی جانئے

انسان کو کورونا وائرس دراصل لگتا کیسے ہے؟ سائنسدانوں کو مزید معلومات مل ...
انسان کو کورونا وائرس دراصل لگتا کیسے ہے؟ سائنسدانوں کو مزید معلومات مل گئیں، آپ بھی جانئے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وباءپھیلنے کے 6ماہ بعد عالمی ماہرین میں اس کے پھیلاﺅ کے اسباب پر اتفاق بڑھ رہا ہے۔ پہلے اس کے پھیلاﺅ کی بعض وجوہات پر ماہرین میں تضاد تھا لیکن اب ماہرین کی اکثریت متفق ہو چکی ہے کہ کورونا وائرس مختلف سطحوں، مثلاً میز، کرسی اور پارسل وغیرہ سے پھیلنے کا امکان انتہائی کم ہے۔ اس کے علاوہ محض بازاروں میں گھومنے اور لوگوں سے چند لمحے کی ملاقات یا گفتگو سے بھی یہ بہت کم پھیلتا ہے۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ماہرین اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ کورونا وائرس لوگوں کے تادیر بہت زیادہ قریب رہنے، طویل ملاقات اور گفتگو، پرہجوم تقریبات اور ایسی جگہوں سے زیادہ پھیلتا ہے جہاں ہوا کی آمد و اخراج کا خاطر خواہ انتظام نہ ہو۔ماہرین کے مطابق اگر لوگ دوسروں سے طویل ملاقات اور گفتگو سے گریز کریں، ایسے ریستورانوں اور دیگر جگہوں پر نہ جائیں جن کے ایئرکنڈیشنڈ ہالز ہوں اور وہاں ہوا کی آمدورفت کا انتظام نہ ہو اور کنسرٹس اور دیگر ایسی پرہجوم جگہوں پر نہ جائیں جہاں انہیں زیادہ دیر تک لوگوں کے درمیان رہنا پڑے تو انہیں وائرس لاحق ہونے کا خطرہ نہیں ہوتا۔ بازاروں میں جانے اورکسی سے مختصر گفتگو کرنا زیادہ خطرناک نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا تھا کہ پہلے دستیاب معلومات کے مطابق لاک ڈاﺅن کرنا اور لوگوں کو گھروں تک محدود کر دینا درست تھا لیکن اب ان نئی معلومات سے علم ہوا ہے کہ لوگوں کو گھروں سے نکلنے کی آزادی دے کر بھی وائرس کے پھیلاﺅ کو روکا جا سکتا ہے۔

مزید :

کورونا وائرس -