سویڈن نے لاک ڈاﺅن نہ کیا اور اب اس حکمت عملی کے پیچھے سائنسدان نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر عمران خان خوش ہوجائیں

سویڈن نے لاک ڈاﺅن نہ کیا اور اب اس حکمت عملی کے پیچھے سائنسدان نے ایسی بات ...
سویڈن نے لاک ڈاﺅن نہ کیا اور اب اس حکمت عملی کے پیچھے سائنسدان نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر عمران خان خوش ہوجائیں

  

سٹاک ہوم(مانیٹرنگ ڈیسک) اٹلی، فرانس اور دیگر یورپی ممالک کے برعکس سویڈن بھی دنیا کے ان چند گنے چنے ممالک میں شامل ہے جنہوں نے کورونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کے لیے لاک ڈاﺅن نہیں کیا۔ اب وہاں کے کورونا وائرس ایکسپرٹ نے لاک ڈاﺅن کرنے والے ممالک کے متعلق ایسی بات کہہ دی ہے کہ سن کر ہمارے وزیراعظم خوش ہو جائیں گے۔

میل آن لائن کے مطابق سویڈن میں کورونا وائرس کے خلاف مہم کی سربراہی کرنے والے ماہر اینڈرس ٹیگ نیل نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وباءپھیلتے ہی دنیا پاگل ہو گئی اور دھڑا دھڑ لاک ڈاﺅن کرنے شروع کر دیئے۔ ایسے تمام لیڈر دباﺅ میں آ گئے اور اسی دباﺅ کے زیراثر انہوں نے لاک ڈاﺅن سمیت دیگر پابندیوں کے فیصلے کیے۔ آج سائنسی تحقیقات ان فیصلوں کی نفی کرتی نظر آ رہی ہیں۔لاک ڈاﺅن کرنے والے لیڈرز یہ نہیں سمجھ سکے کہ اس کے معاشی نقصانات اس کے فائدے سے کہیں زیادہ ہوں گے۔

اینڈرس ٹیگ نیل اپنی اس گفتگو میں عالمی ادارہ صحت پر بھی برس پڑے اور اس پر صدر ٹرمپ کی طرح الزام عائد کر دیا کہ اس نے دنیا کو کورونا وائرس کے متعلق بروقت اور مناسب معلومات نہیں دیں جس کی وجہ سے مختلف ممالک کے سربراہوں نے غلط فیصلے کیے۔

رپورٹ کے مطابق اینڈرس ٹیگ نیل نے ابتداءسے ہی سویڈن کی حکومت کو لاک ڈاﺅن نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا جس پر عمل بھی کیا گیا۔ اینڈرس ٹیگ نیل اپنے ملک کو ’ہرڈ امیونٹی‘ کی طرف لے کر چلے۔ ہر ڈامیونٹی ایسا طریقہ ہے جس میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو وائرس میں مبتلا ہونے دیا جاتا ہے ، جس کے بعد باقی بچ جانے والے لوگ وائرس سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی جگہ کی آبادی کا 40فیصد اگر وائرس میں مبتلا ہو جائے تو باقی آبادی میں وائرس کا پھیلاﺅ رک جاتا ہے۔

واضح رہے کہ سویڈن میں اب تک کورونا وائرس کے 68ہزار 390کیس سامنے آ چکے ہیں اور 5ہزار 230اموات ہو چکی ہیں۔ یہ تعداد سویڈن کے ہمسایہ ممالک سے کہیں زیادہ ہے لیکن معاشی نقصان ان ممالک کی نسبت سویڈن کو بہت کم پہنچا ہے اور اس کی معیشت تاحال مستحکم ہے اور اس میں گراوٹ کی بجائے قدرے ترقی آئی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -