سوچئے…… بحیثیت قوم ترقی کی بجائے  تنزلی کیوں؟

سوچئے…… بحیثیت قوم ترقی کی بجائے  تنزلی کیوں؟
سوچئے…… بحیثیت قوم ترقی کی بجائے  تنزلی کیوں؟

  

ترقی انسانی زندگی کا لازمی جزو ہے،اس کے بغیر انسان ایک لمحہ بھی جی نہیں سکتا، پیدائش سے لے کر وفات تک یہ سائے کی طرح ہمارے ساتھ لگی رہتی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ہر انسان زندگی میں ترقی کرتا ہے، جس کی بدولت اس کا رہن سہن ہی نہیں،بلکہ گزر اوقات بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ ہر انسان ذاتی حیثیت میں تو ترقی کرتا ہے، بعض افراد تو صرف ترقی ہی نہیں، بلکہ ترقی کی منازل طے کرتے ہیں، اجتماعی طور پر بھی ترقی ہوتی ہے،جو چند یا زیادہ افراد مل کر اپنے کسی کاروبار یا  دیگر مقاصد کے حصول کے لئے کرتے ہیں اور اس میں وہ ہمیشہ فائدہ ہی اٹھاتے ہیں،  نقصان صرف اس صورت میں ہوتا ہے،  جب ان میں سے کوئی بدنیت ہو جائے، لیکن یہ ترقی جو ذاتی یا گروہی طور پر کسی نہ کسی صورت میں ہو رہی ہوتی ہے، درجہ بدرجہ جب  ملک اور قوم تک پہنچتی ہے تو پھر نہ جانے کیوں یہ ساکن ہو جاتی ہے، اس  کو بریکیں لگ جاتی ہیں، پھر ترقی ترقی نہیں تنزلی بن جاتی ہے اوربجائے فائدے کے نقصان پہنچانا شروع کر دیتی ہے اور نقصان بھی اس قدر پہنچاتی ہے کہ رفتہ رفتہ تباہی اس ملک یا قوم کا مقدر بن جاتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح سے من حیثیت القوم آج ہم دوچار ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ذاتی حیثیت میں فائدہ پہنچانے والی ترقی،قومی سطح پر نقصان دہ کیسے ہو جاتی ہیاور نقصان بھی پاکستان یا اس جیسے دیگر ممالک کو  ہی پہنچاتی ہے، دنیا میں وہ ممالک بھی ہیں جو دن دوگنی رات چوگنی ترقی کررہے ہیں، بلکہ ترقی کرتے تھکتے ہی نہیں ہیں اور ایک ہم ہیں کہ ترقی ہم سے کوسوں دور ہو چکی ہے، لگتا ہے جیسے یہ ہم سے روٹھ چکی ہے، وہ ترقی جو قوم کے ہر فرد کی انفرادی یا اجتماعی زندگی میں تو اسے فائدہ پہنچاتی ہے،لیکن قومی زندگی میں ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

ترقی کے زمرے میں ہر وہ چیز آتی ہے جو روز بروز بہتر سے بہتر ہوتی جائے۔ ترقی کا عمومی مفہوم کسی بھی معاشرے میں اس کے رہنے والوں کے معیار زندگی میں ہونے والی وہ بہتری ہوتی ہے، جس سے براہِ راست ہر فرد مستفید ہو رہا ہے،جس کی بدولت اسے زندگی میں راحت و سکون نصیب ہوتا ہے، راحت الوجود سے مراد ہر ایک انسان کا ذہنی اور جسمانی سکون ہے، یہ وہ بنیادی عنصر ہے، جو کسی بھی معاشرے کی انفرادی اکائیوں، یعنی اس کے افراد کو مثبت انداز میں متحرک کر سکتا ہے اور ترقی میں نا صرف اضافہ بلکہ اس کا تسلسل بھی قائم رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔ راحت الوجود میں عزتِ نفس اور بلا تفریق ِ حیثیت و مذہب، فردی عظمت و وقار کا احساس و تحفظ جب تک کسی معاشرے میں مہیا نہ کیا جا سکے، اس کی ترقی کے امکانات تاریک ہی رہیں گے۔کاروبار زندگی، گھر اور خاندان کا معاشرے میں کردار اور تجارت و معاشی ترقی جیسے لوازمات کو سائنس میں ترقی کے لئے لازمی قرار دیا جاتا ہے اور بنیادی طور پر یہ تمام عوامل راحت الوجود اور عزت نفس سے مشروط ہیں، ان کی ناپیدی سے معاشی و مالی استحکام مفقود ہو جاتا ہے اور سائنس کے لئے درکار بنیادی لوازمات کی فراہمی محدود ہو کر کسی بھی قوم کے زوال کا سبب بن سکتی ہے، چونکہ ہم سب اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ترقی کے معنی و مفہوم سے بخوبی واقف ہیں، لیکن قومی زندگی میں ہم اس کی ابجد سے جانتے بوجھتے ہوئے واقف نہیں ہیں، یہ ہماری بدقسمتی ہی ہے بلکہ اسے قومی نااہلی کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ یہ  ہماری قومی نااہلی اور بدنیتی ہے، جس پر صرف اب افسوس ہی کیا  جا سکتا ہے۔ بحیثیت قوم ہم مردہ ہوتے جا رہے ہیں جھوٹ،  نفرت،  بغض اور قول و فعل کا  تضاد ہماری رگ رگ میں بس چکا ہے۔ ایک دوسرے کی عزت نفس سے کھیلنا اور پگڑی اچھالنا ہمارا محبوب مشغلہ بن چکا ہے،جس معاشرے میں جھوٹ سرایت کر جائے، انا، خودغرضی، لاقانونیت اور بے راہ روی عام ہو جائے تو پھر  وہاں ترقی نہیں تنزلی ہی ہوتی ہے۔ بحیثیت قوم ہم میں سے ہر فرد  کو اپنے گریبان میں جھانکنے اور اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے، ہم نے بطور پاکستانی ملک اور قوم  کے لئے اپنی وہ ذمہ داریاں ادا نہیں کیں جو ہمیں ادا کرنی چاہئے تھیں،ہم میں سے ہر فرد نے اس ملک کی تباہی میں تو جہاں تک ممکن ہوا اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے، لیکن اس کی فلاح و بہبود کے لئے وہ کچھ نہیں کیا، جو اس کا متقاضی تھا اور جس کسی نے بھی جو تھوڑا بہت کیا ہے، یہ ملک اتنا ہی تھوڑا بہت خوشحال بھی دکھائی دیتا ہے، یہ ہماری اس تھوڑی بہت کاوشوں کی بدولت ہی ہے،جو ہم دکھاوے کے لئے اس کی فلاح و بہبود کے لئے کرتے رہے ہیں اگر ہم میں سے ہر شخص نے مکمل ایمانداری، نیک نیتی اور تندہی سے اپنے اپنے فرائض ادا کئے ہوتے تو آج پاکستان کا شمار بھی ترقی پذیر نہیں، بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا۔ یہ اب بھی ممکن ہے، لیکن اس کے لئے ہر پاکستانی کو صحیح معنوں میں اپنا اپنا محاسبہ کرتے ہوئے، آئندہ اپنے فرائض کما حقہ ادا کرنے کا عہد کرنا ہو گا۔ 

جزاکم اللہ خیرا کثیرا

مزید :

رائے -کالم -