ناامیدی  میں امیدکی باتیں اورڈاکٹرمحمد شہباز 

 ناامیدی  میں امیدکی باتیں اورڈاکٹرمحمد شہباز 
 ناامیدی  میں امیدکی باتیں اورڈاکٹرمحمد شہباز 

  

یوں تو ہم کم و بیش زندگی کے ہر شعبے میں زوال کا شکار ہیں اور جب ہم ماضی کے ساتھ آج کا موازانہ کرتے ہیں تو ہمیں کئی شعبے زوال پذیر دکھائی دیتے ہیں اور اس کے لئے اب ہم نے اجتماعی زوال کی اصطلاح بھی استعمال کرنا شروع کر دی ہے اور یہ اصطلاح دراصل ہمیں ایک طرح سے اپنے زوال پر اطمینان بھی دلاتی ہے کہ اگرسب کچھ زوال کا شکار ہے تو پھر پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں پھر ہم اپنی خامیوں کا عالمی برادری کے ساتھ بھی موازنہ کرتے ہیں،ترقی یافتہ ممالک کی بعض خامیوں اور اپنی کمزوریوں میں مماثلت پراطمینا ن کااظہارکرتے ہیں۔زوال خواہ ہر شعبے میں ہو لیکن اگرشعبہ تعلیم بھی زوال کا شکار ہو جائے تو اس سے زیادہ افسوسناک بات اور کوئی نہیں ہوتی۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں تعلیم کا شعبہ بھی زوال کا شکار ہے اور اسی سے منسلک تحقیق کے شعبے سے بھی کوئی اچھی خبر نہیں آتی۔ ہمارے ہاں  تحقیق کے شعبے میں جعل سازی عام ہے،تحقیق یا تو ہوتی نہیں اور اگرکہیں ہو بھی تو تحقیق کے نام پر بہت سے رطب ویابس کو یکجا کر دیا جاتا ہے۔ایچ ای سی نے 2016ء میں ان آٹھ افراد کی فہرست جاری کی تھی، جن کے تحقیقی مقالوں میں 40 سے 50 فیصد سرقہ ثابت ہو گیا تھا،اس حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی نے مختلف یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے نام بھی جاری کئے،

جن 8اساتذہ کو اس جعل سازی کامرتکب قراردیاگیاان میں سے  بہت سے اپنی اپنی جامعات میں اہم عہدوں پرفائز تھے، لیکن بعدازاں اس مسئلے پرخاموشی اختیار کر لی گئی۔خاموشی کی وجہ یہ تھی کہ یہ اعلیٰ عہدوں پرفائزہونے والے اساتذہ بااثرشخصیات میں بھی شمارہونے لگے تھے۔ ان تمام شخصیات کے تعلقات ایسے طاقت ور افرادکے ساتھ تھے کہ جن کے آگے کوئی پر مارنے کی بھی جرأت نہیں کرتا،جس معاشرے میں ایسی صورت حال ہو اور تحقیق کے حوالے سے اس قدر مایوسی پائی جاتی ہو وہاں اگرکوئی ایسانام سامنے آجائے کہ جس نے کسی گاؤں میں بیٹھ کریاکسی قصبے میں بیٹھ کر اتنے بہت سے عالمی اعزازات حاصل کرلئے ہوں کہ اس کا شمار تحقیق کے شعبے میں دنیا کے چنیدہ افرادمیں ہونے لگے تواس پرکوئی آسانی سے یقین نہیں کرتااوراگریقین آبھی جائے اورکوئی تمام تر رکاوٹوں اورنامساعد حالات کے باوجود خودکوتسلیم کروابھی لے توپھر اس کے خلاف محکمانہ سازشیں شروع ہوجاتی ہیں اورسازشوں کی یہ کہانیاں شعبہ تعلیم میں تو زبان زدعام ہیں،ہر یونیورسٹی، کالج اور سکول میں باصلاحیت افرادکا راستہ روکا جانا معمول کی بات ہے اور راستہ روکنے والے بھی وہ ہوتے ہیں جوخود کو سیلف میڈ کہتے ہیں،المیہ یہی ہے کہ ہمارے سیلف میڈ کسی اورسیلف میڈ کو برداشت ہی نہیں کرتے۔ہم نے سینیارٹی کی دوڑمیں کئی لوگوں کوقتل ہوتے بھی دیکھا اورقتل بھی ایسا کہ جو طبعی موت کے زمرے میں آتاہے۔

ذہنی اذیتیں،سازشیں،کردارکشی، جنسی ہراسانی کے الزامات یہ سب کہانیاں پاکستان کی کم وبیش تمام جامعات میں کثرت سے سننے کوملتی ہیں۔پھربھی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے عزم اورحوصلے پررشک آتاہے ایسے لوگ ہمارے لئے امیدکی کرن ہوتے ہیں۔ایک مایوس معاشرے میں یہ لوگ سب کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ایساہی ایک نام ڈاکٹرمحمد شہبازکابھی ہے۔ پروفیسرڈاکٹرمحمد شہباز نامورماہر تعلیم ہیں اوربیجنگ یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ شہباز صاحب کانام تحقیق کی عالمی درجہ بندی میں 43ویں نمبرپرہے جبکہ چین میں ان کاشماراس فہرست میں سب سے پہلے نمبرپرہے۔وہ 2014ء سے معاشیات اورفنانس کے حوالے سے اپنے تحقیقی مقالات کی تعدادکی بناء پریہ منفرداعزازحاصل کئے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ وہ ماحولیات،معاشیات اورسوشل سائنسزمیں بھی کئی اعزازاورایوارڈ اپنے نام کرچکے ہیں۔ڈاکٹرمحمد شہباز کاسب سے منفرد اعزازتویہ ہے کہ وہ ساڑھے سات سال کے عرصہ میں ریسرچ سکالرسے پروفیسرکے عہدے تک پہنچے۔ان کے مطبوعہ تحقیقی مقالوں کی تعداد635ہے اور غیرمطبوعہ مقالات کوبھی اس فہرست میں شامل کرلیاجائے تومجموعی تعداد ایک ہزار سے تجاوزکرجاتی ہے۔ڈاکٹرمحمد شہباز کاکہناہے کہ یہ اعزاز مسلسل کئی سال میرے پاس رہا۔ریسرچ ڈاٹ کام میں دنیا بھر میں میری جو پوزیشن 63ویں نمبرتھیں وہ اب بہتر ہو کر43ویں نمبر پر آ گئی ہے۔دنیا بھر میں چونکہ تحقیق کا عمل مسلسل جاری ہے اس لئے ورلڈ انڈیکس میں اتارچڑھاؤ بھی آتا رہتا ہے جب پہلی مرتبہ میں پہلے نمبر سے دوسرے نمبر پر آیا تو میں نے یہ سوچا کہ اپنے تحقیقی کام کو اتنا زیادہ آگے بڑھاؤں کہ میرا ریکارڈ توڑنا آسان نہ رہے اور میں اسی نقطہ نظر سے پوری تندہی کے ساتھ آج بھی مصروف عمل ہوں۔ ڈاکٹر شہباز کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ انہوں نے یہ سارے اعزازات گوجرانوالہ کے قریبی قصبے جھارنولا میں بیٹھ کرحاصل کئے،ان کا ایک کا شتکار گھرانے سے تعلق ہے اوروہ اپنے گھرکے پہلے فردہیں جنہوں نے سکول،کالج اور پھریونیورسٹی تک تعلیم حاصل کی۔ ڈاکٹر محمد شہباز نے میٹرک کے بعد ماسٹرز تک تمام امتحان پرائیویٹ طالب علم کی حیثیت سے دیئے۔وہ گھر میں بیٹھ کر دیے کی روشنی میں پڑھتے تھے اوران کے ذہن میں صرف ایک ہی بات تھی کہ انہیں اپنا نام بنانا ہے اور دنیا بھر میں خود کو منوانا ہے۔

ڈاکٹر محمد شہباز آج بھی گوجرانوالامیں مقیم ہیں اور اس علاقے میں تعلیم اورصحت کی ترویج کے لئے بھی مختلف منصوبوں پرکام کر رہے ہیں۔انہوں نے اپنے گاؤں میں واقع گرلز سکول میں ایک اضافی بلاک بھی تعمیر کیا اس کے علاوہ وہ ایک لائبریری بھی بنا رہے ہیں۔ڈاکٹرمحمد شہباز کیمبرج یونیورسٹی کے شعبہ لینڈ اکانومی میں وزٹنگ ریسرچ فیلوہیں وہ بزنس سکول فرانس میں پروفیسرکی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں،کامسیٹ یونیورسٹی لاہورکیمپس سے منسلک رہے۔انہوں نے نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈاکنامکس لاہور کیمپس سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی،ان کاریسرچ کابنیادی موضوع توانائی،اقتصادیات،ماحولیات،معیشت اورسیاحت ہیں۔لطف یہ ہے کہ دنیا بھرمیں اتنے بہت سے اعزازات حاصل کرنے والا اورپاکستان کانام روشن کرنے والا یہ سپوت اب تک اپنوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ ہم اپنے ٹیلنٹ کی قدرنہیں کرتے،سرکاری سطح پراعزازات کی دوڑ میں وہی کامیاب ہوتے ہیں جن کاسرکاردربارکے ساتھ تعلق ہوتاہے اور ڈاکٹرشہباز تواس دوڑمیں بھی شامل نہیں وہ صرف اپنے کام پریقین رکھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں ستائش اورصلے کی تمنا کے بغیراپناکام جاری رکھوں گااورمجھے یقین ہے کہ میرا اعتراف ضرور ہوگاکام کرنے والے کو صرف اپنے کام سے غرض ہوتی ہے باقی چیزیں اس کے لئے بے معنی ہو جاتی ہیں۔گزشتہ دنوں ڈاکٹرشہبازکے ساتھ یکے بعد دیگرے دو ملاقاتیں ہوئیں،یہ ملاقاتیں ایک ایسے ماحول میں ہوئیں جب پاکستان معاشی بحران کاشکارتھا ہم فیٹف کی گرے لسٹ میں تھے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لئے عوام پربوجھ ڈالاجارہاتھااوربجٹ میں نئے ٹیکس عائد کئے جارہے تھے۔اس ماحول میں بھی ڈاکٹرمحمد شہباز کوہم نے پرامیددیکھااوران کاکہناتھاکہ حکومت کو جومسائل ورثے میں ملے ہیں وہ یقینان سے نبردآزماہوجائے گی،پاکستان پہلی مرتبہ معاشی بحران کا شکارنہیں ہوا یہ ایک مسلسل عمل ہے،جو عالمی سیاست کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔پاکستان کاکردار آج بھی عالمی منظرنامے میں بہت اہم ہے،عالمی برادری کوہماری ضرورت رہے گی اوریقینا آنے والے دن بہتری کے ہوں گے،اس میں کتناوقت لگتاہے یہ کہنا توابھی قبل ازوقت ہوگا، مایوسی کے ماحول میں اگرکہیں سے کوئی امید کی چھوٹی سے کرن بھی دکھادے توہمیں اس کاشکرگزارہوناچاہیے اوریہ کالم ناامیدی کے موسم میں آپ کو یہی امیددلانے کے لئے تحریر کیاہے کہ فی زمانہ مایوسی کی با تیں زیادہ ہیں کہیں سے اچھی خبرملے تووہ بھی اپنے قاری تک پہنچادینی چاہیے۔

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -