پنجاب پولیس کی کارکردگی خراب کیوں؟  

پنجاب پولیس کی کارکردگی خراب کیوں؟  
پنجاب پولیس کی کارکردگی خراب کیوں؟  

  

 وزیراعظم شہباز شریف نے اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی رائے صرف کارکردگی دکھانے سے ہی بدل سکتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت لاہور میں امن و امان سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللّٰہ اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں امن و امان کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔حکومت نے صوبہ پنجاب کا سب سے زیادہ بجٹ پولیس کو دیا ہے۔ نئی گاڑیاں، خوبصورت دفاتر اور بہترین قسم کے اسکواڈ لیکن تھانے میں بیٹھنے کے لئے کرسی نہیں سپاہی کے رہنے کے لئے کمرے نہیں۔ تھانہ کی بہتری کے لئے کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے جب تک بیٹ افسر، ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے عہدہ کے افسران کی حالت نہیں بدلی جاتی، پولیس کا نظام کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ پولیس میں اصلاحات پر کام بہت کم ہو رہا ہے اور اگر ہو رہا ہے تو اوپر کی سطح پر ہو رہا ہے جس کے ثمرات تھانہ تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ریسرچ اور ڈویلپمنٹ پر کچھ بھی نہیں ہو پا رہا۔ دنیا بھر میں پولیس کی اصلاحات اور مورال پر ہمہ وقت کام کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں سڑکوں کی تعمیر پر سارا فوکس کیا جاتا ہے۔ہر واقعہ کے محرکات تلاش کرنے اور اس طرح کے واقعات کے مستقبل میں روک تھام کے لئے کچھ نہیں کیا جاتا۔ دنیاکا سب سے بڑا واقعہ نائن الیون کا ہوا۔ سینکڑوں لوگ مارے گئے دنیا کی طاقتور ایٹمی طاقت پٹ کر رہ گئی۔ لیکن اس میں ایک سپاہی بھی معطل نہیں ہوا۔ طیارے امریکہ کے تمام سیکورٹی حصار توڑتے ہوئے ٹارگٹ تک پہنچ گئے لیکن انتظامیہ پر کریک ڈاون کی بجائے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر کام ہوا۔ یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہوا۔؟ مثبت اور منفی پہلووں کو کھنگالا گیا اور اس کے لئے نئے ایس او پیز بنائے گئے۔ اور مستقبل میں اس جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے تھینک ٹینک نے کام کیا اور سسٹم میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کیا گیا۔ لیکن قابل غور امر یہ کہ کیا ہمارے ملک میں بھی کبھی ایسا ہوا؟جوڈیشل کمیشن، فیکٹ فائیڈنگ رپورٹ، انکوائری کمیٹی بننے سے کیا عوام کے جان و مال کا تحفظ ہوسکا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی پنجاب پولیس جرائم سے لڑنے کی بجائے میدان سے بھاگ رہی ہے۔ اس وقت پنجاب پولیس کا مورال گزشتہ کئی برسوں سے بدستور زبوں حالی کا شکار ہے۔

جب بھی کوئی سکیورٹی کابڑا مسئلہ پیدا ہوتا ہے یا کوئی بڑا ایونٹ ہوتا ہے تو ہر برائی کا ذمہ دار پولیس کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔عدلیہ، حکومت اور ریاست کے تمام ستون ہی پولیس پر دباو ڈالتے ہیں، جس سے پولیس ایک ادارہ کے طور پر کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاون، سانحہ ساہیوال سامنے ہے کہ با اثر افراد کو مقدمہ سے خارج کر دیا گیا لیکن چند پولیس والوں کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا۔ پولیس اور سیاستدانوں نے ایک دوسرے پر الزامات لگائے۔ اس سارے کھیل میں انصاف اور نظام پٹ گیا اور سفارش جیت گئی۔ سی آر پی سی اور پی پی سی میں موجود ہے کہ کوئی بھی انتظامی افسر یا پولیس افسر جب ریاست کے تحفظ کے خلاف اقدام اٹھائے گا تو اسے بھی قانون کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن یہاں پر سب کچھ الٹ ہو رہا ہے۔ مجھے یاد ہے پنجاب میں ایک بڑے پولیس مقابلے کے بعد چند فیلڈ افسران نے حکومت سے درخواست کی تھی کہ انہیں فیلڈ سے واپس بلایا جائے۔ پنجاب پولیس نے پولیس کے شہداء کے لئے انعامی رقم بڑھا کر ایک خوش آئند قدم اٹھایاجس سے کانسٹیبل کی سطح پر پولیس کی حوصلہ افزائی بڑھی لیکن گزشتہ سال کے بجٹ میں پولیس کے تین ارب روپے کاٹنے سے اس پر احتجاج کرنے کی ضرورت تھی۔ پولیس کی وردی کی تبدیلی کا عمل بھی ہو گزرالیکن کیا ان تمام اصلاحات سے پولیس کا مورال بھی بلند ہوا۔؟ اس وقت فیلڈ میں جانے کے لئے اچھے افسران کی کمی ہے اور جو اس وقت فیلڈ میں تعینات ہیں ان میں سے اکثرفیصلہ کرنے کی قوت سے محروم ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ میں وہاں کے آئی جی پولیس ڈی پی او سے لے کر ایڈیشنل آئی جی تک کی تعیناتی میں مکمل با اختیار ہیں۔ ان کے وزیر اعلی نے انہیں پولیس کے معاملات میں فری ہینڈ دے رکھا ہے لیکن پنجاب میں ایسا نہیں۔ یہاں پر تو ڈی پی او کو ایس ایچ او لگانے کے لئے ایوان وزیر اعلی کے فون پر عمل کرنا پڑتا ہے۔

جس صوبے میں ایس ایچ او سے لے کر آر پی او تک کی سیاسی بنیادوں پر سفارش کی بنیاد پر تعیناتی کی جاتی ہے وہاں پر آئی جی پولیس راؤ سردارسے امن و امان کی بہتر توقع کرنا یا انہیں پولیس کی ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا ایک زیادتی سے کم نہیں ہوگا۔ پولیس میں سفارشی کلچر کا یہ عالم ہے کہ اس فورس کے سالار کی تقرری میں بھی میرٹ کو مد نظر نہیں رکھا جاتا،باخبر حلقے اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ آئی جی شپ کیلئے ایسے افسران کا انتخاب کیا جاتاہے جو ڈی ایم جی کے مفادات کے مقابلے میں ذاتی رائے نہ رکھتے ہوں۔پولیس کا مورال گرنے کی ایک بڑی وجہ ان کی بروقت پرموشن کا نہ ہونا ہے۔اب بھی ایڈیشنل آئی جی اور ڈی آئی جی عہدے کی بہت سی سیٹیں خالی پڑی ہیں،روٹیشن پالیسی کی وجہ سے متعدد افسران جوپنجاب سے دوسروں صوبوں میں گئے ان میں سے کئی ایک واپس آگئے ہیں دیگر افسران جو اس پالیسی کا حصہ بنے تھے ان کے واپس نہ آنے سے ادارے کامورال ڈاؤن ہوا ہے۔پنجاب پولیس کے ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس جاوید اقبال کا دور محکمے کے لئے سْنہرا رہاہے جس میں محکمے نے تاریخی ترقی کی ہے۔ تاہم بعدازاں آنے والے انسپکٹر جنرل صاحبان میں شعیب دستگیر اور انعام غنی کا دور بھی یاد گار سمجھا جاتا ہے،اسی طرح لاہور میں کام کرنے والے افسران میں سی سی پی او لاہور بی اے ناصر،غلام محمود ڈوگر اور فیاض احمد دیو اور ان کی ٹیم کاقابلِ ذکر کردار دکھائی دیتا ہے، اِن سی سی پی او صاحبان کی اپنے پولیس آفیسران کی باہمی مشاورت اور تعاون سے لاہور پولیس میں افرادی قوت دْگنی کی گئی اور وسائل یعنی ساز و سامان (گاڑیاں، اسلحہ وغیرہ) بھی بڑی تعداد میں مہیا کیا گیا۔شہر میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی بھی دیکھنے کو ملی،موجودہ آئی جی پولیس راؤ سردار اور سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ وہ شہرت حاصل نہیں کرسکے جس کے لیے یہ مشہور تھے موجودہ آئی جی پولیس اور سی سی پی او لاہور بعض اقدامات کی وجہ سے متنازعہ آفیسر تصور کیے جاتے ہیں ضرورت اس امرکی ہے کہ ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے پولیس کو مکمل طور پر غیر سیاسی ہونا چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -