جب بنگال کی مقامی فوج نے بغاوت کی جو” غدر“ کے نام سے مشہور ہوئی

جب بنگال کی مقامی فوج نے بغاوت کی جو” غدر“ کے نام سے مشہور ہوئی
جب بنگال کی مقامی فوج نے بغاوت کی جو” غدر“ کے نام سے مشہور ہوئی

  

مصنف : ای مارسڈن 

 لارڈ کیننگ ۔۔۔۔(چودہواں گورنر جنرل1856ءسے 1858ءتک)

 لارڈ کیننگ 1856ءمیں گورنر جنرل ہو کر آیا تھا۔ اب اس بات کو 100 برس کا عرصہ ہو گیا تھا جب لارڈ کلائیو نے پلاسی کا میدان مار کر ہندوستان میں انگریزوں کی سلطنت کی بنیاد قائم کی تھی۔ ہر طرف امن و امان نظر آتا تھا۔ کوئی خوف و خطر دکھائی نہ دیتا تھا لیکن بنگال میں یکایک ایک طوفان بپا ہوا۔ یہ طوفان بنگال کی مقامی فوج کی بغاوت تھی جو غدر کے نام سے مشہور ہے۔

 انگریز حکومت کے شروع سے بنگال ایک خاموش اور فرمانبردار صوبہ چلا آتا تھا۔ اس سبب سے وہاں تھوڑے ہی انگریز سپاہی رکھے جاتے تھے۔ پنجاب فتح ہوا تو بہت سے گورے شمال مغربی ہند میں بھیج دیئے گئے۔ البتہ مقامی سپاہی وہاں بہتیرے تھے۔

 اس زمانے میں ریل، تار، ڈاک، مدرسوں اور ہسپتالوں کی سب قدر کرتے ہیں، لیکن جب یہ جاری ہوئے تھے تو اس ملک کے لوگ جنہوں نے کبھی ان کا نام بھی نہ سنا تھا بڑے ڈرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ انگریزوں نے ہمارے نقصان کے لیے یہ چیزیں بنائی ہیں۔ بعض کہتے تھے کہ ریل کی لائنیں اور بجلی کی تار زنجیریں ہیں جن سے زمین مضبوطی سے باندھ دی گئی ہے۔ بعض آدمی ریل کے انجنوں اور گاڑیوں کو گھوڑے، بیل کی مدد کے بغیر دوڑتا دیکھ کر کہتے تھے کہ شیطان کاکام ہے۔ جب انہوں نے معلوم کیا کہ تار برقی کے ذریعے سے منٹ دو منٹ میں سینکڑوں کوس خبر پہنچ جاتی ہے تو وہ نہایت خوفزدہ ہوئے۔ اکثر لوگوں کا یہ خیال تھا کہ انگریزوں نے جو مدرسے اور ہسپتال جاری کیے ہیں۔ رعیت کا دین و ایمان بگاڑنے کے لیے ہیں اور انگریزی پڑھنے سے ہندوﺅں کا دھرم نشٹ ہو جائے گا۔

 شریر لوگوں نے جو خود ان باتوں کا یقین نہیں کرتے تھے۔ شرارت سے یہ بیہودہ خیال بنگال اور اودھ کے سپاہیوں میں خوب پھیلا دیئے۔ اس وقت سپاہیوں کو ایک نئی قسم کی بندوقیں دی گئیں تھیں۔ ان میں جو کارتوس چڑھایا جاتا تھا۔ اس کو چڑھانے سے پہلے چکنا کرنا پڑتا تھا۔ کسی نے سپاہیوں کو بہکا دیا کہ کارتوس تمہارا دین بگاڑنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے کارتوس کے استعمال کرنے سے انکار کیا اور اپنے افسروں کا حکم نہ مانا۔ سپاہیوں نے یہ خیال کیا کہ انگریز ہمیں عیسائی بنانے لگے ہیں۔

 اودھ اور ممالک مغربی و شمالی میں نوابوں کے عہد میں بہت سے تعلقہ دار تھے جو دکن کے پالیگاریا نائکوں کی طرح قلعے رکھتے تھے۔ دیہات پر حکومت کرتے تھے اور ان سے محصول لیتے تھے۔ اگر فرمانروائے وقت زور پکڑتا تھا تو اسے کچھ دے دیتے، ورنہ اکثر کوڑی تک نہ دیتے تھے۔ جب انگریزوں کی حکومت ہوئی تو ان کا اقتدار کم ہو گیا وہ دل ہی دل میں انگریزوں سے بڑی دشمنی رکھنے لگے۔ اب جو موقع ملا تو انہوں نے بھی سپاہیوں کو ورغلایا اور انگریزوں سے باغی کرا دیا۔

 1818ءمیں جنگ مرہٹہ کے اختتام پر بڈھے پیشوا باجی راﺅ کے جیتے جی8 لاکھ روپیہ سالانہ کی پنشن ہو گئی تھی اور کانپور سے 6 میل بٹھور کا مقام اس کی سکونت کے لیے مل گیا تھا۔ اس کا حقیقی بیٹا کوئی نہ تھا، مگر اس نے ایک لڑکے نانا صاحب کو اپنا متبنیٰ کر لیا تھا۔ مرتے وقت اس نے نانا صاحب کے لیے 5 کروڑ روپیہ چھوڑا۔ نانا صاحب کو اس پر قناعت نہ ہوئی اس نے کہا کہ جو پنشن میرے باپ کو ملتی تھی برابر مجھے دی جائے چونکہ اس کا کوئی حق نہ تھا۔ انگریزوں نے پنشن کے جاری رکھنے سے انکار کیا۔ اس سبب سے یہ بھی انگریزوں کا دشمن بن گیا۔ ان کے خلاف سازشیں کرنے لگا اور مقامی سپاہیوں کو چٹھی چپاتی کے ذریعے سے بغاوت پر آمادہ کرنے لگا۔

 اول اول تو اکی دکی رجمنٹ نے اپنے افسر کے حکم کی تعمیل کرنے سے انکار کیا۔ وہ رجمنٹیں توڑ دی گئیں اور سپاہی برخاست کیے گئے۔ برخاست شدہ سپاہی ملک میں ادھر ادھر پھرنے لگے۔ جہاں جاتے تھے وہیں اپنے ہم قوم سپاہیوں کو اپنا ماجرا سناتے تھے۔ دفعتہً 1857ءمیں میرٹھ سے غدر شروع ہوا۔ میرٹھ دہلی سے قریب ہے اور وہاں بہت سی سپاہ رہتی تھی۔ میرٹھ کے سپاہیوں نے اول اپنے افسروں کو گولی سے مارا پھر کل فرنگیوں، ان کی عورتوں اور بچوں کو قتل کیا۔ اس وقت ان پر جن سوار تھا۔ انہوں نے فرنگیوں کی کوٹھیاں اور بنگلے جلائے۔ جیل خانے کھول کر قیدی رہا کر دیئے اور دہلی کی طرف کوچ کر گئے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -