امریکہ اور یورپ سےآئے 450کنٹینرز کی کلیئر نس کیوں روک دی گئی ؟ جانیے

امریکہ اور یورپ سےآئے 450کنٹینرز کی کلیئر نس کیوں روک دی گئی ؟ جانیے
امریکہ اور یورپ سےآئے 450کنٹینرز کی کلیئر نس کیوں روک دی گئی ؟ جانیے

  

     کراچی(این این آئی)ملک میں لکڑی کی درآمدات کو برآمد کنندہ ملک کی فائیٹو سرٹیفکیٹ سے مشروط کیے جانے کے باعث امریکا و یورپ سے درآمد ہونے والے لکڑی کے 450 کنٹینرز کی کلیئرنس رک گئی ہے جس کی وجہ سے امپورٹرز کو اضافی اخراجات ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ملک میں امریکا،آسٹریا، سوئیڈن، جرمنی، فرانس، کینیڈا ودیگر یورپین ممالک سے مختلف اقسام کی لکڑی کے ماہانہ 1500 کنٹینرز کی درآمدات ہوتی ہیں اور حکومت کو یہ شعبہ ڈیوٹی و ٹیکسوں کی مد میں سالانہ 700کروڑ روپے کی ادائیگیاں کرتا ہے۔آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین شرجیل گوپلانی نے بتایا کہ لکڑی کی درآمدات کو فائیٹو سرٹیفکیٹ سے مشروط کرنے کا اقدام محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کی ایما ءپر کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 16جون سے لکڑی کے درآمدی کنسائنمنٹس کی کسٹم کلئیرنس رک گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بعدازاں محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کی جانب سے متعلقہ حکام کو ایک خط بھی جاری کیا گیا ہے جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ملک میں 16جون سے قبل درآمد ہونے والے لکڑی کے تمام کنسائنمنٹس کو کسٹم کلئیرنس دی جائے لیکن کسٹمز حکام مذکورہ خط کو تسلیم نہیں کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ نئی پابندی کو امریکی کمپنیوں نے مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے لیے لکڑی کے برآمدی آرڈرز قبول کرنے سے انکار کردیا ہے حالانکہ پاکستان میں امریکا کی تمام ریاستوں سے سالانہ 54ملین ڈالر زمالیت کی لکڑی درآمد کی جاتی ہے، امریکی برآمد کنندگان کا موقف ہے کہ انکے ملک میں جراثیم اور بیکٹیریا کش مہم پاکستان سے سخت ہے لہٰذا انکے کنسائنمنٹس کے لیے فائیٹو سرٹیفکیٹ ضروری نہیں ہے۔

مزید :

قومی -بزنس -