جب شکست محسوس کریں تو اعلیٰ سوچ کو مدنظر رکھیں،یہ ممکن نہیں ہے کہ بڑی کامیابی، سختیوں اور پسپائیوں کے بغیر حاصل ہو جائے 

جب شکست محسوس کریں تو اعلیٰ سوچ کو مدنظر رکھیں،یہ ممکن نہیں ہے کہ بڑی ...
جب شکست محسوس کریں تو اعلیٰ سوچ کو مدنظر رکھیں،یہ ممکن نہیں ہے کہ بڑی کامیابی، سختیوں اور پسپائیوں کے بغیر حاصل ہو جائے 

  

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز

آخری قسط

-1خود سے پوچھیں۔ کیا یہ بحث حقیقت میں بہت اہم ہے کہ کوئی قدم اٹھایا جائے؟

-2خود کو یاد کرائیں کہ اس جھگڑے یا بحث سے کچھ فائدہ نہیں بلکہ کچھ کھو جانے کا اندیشہ ہے۔

-D جب آپ شکست محسوس کریں تو اعلیٰ سوچ کو مدنظر رکھیں۔

یہ ممکن نہیں ہے کہ بڑی کامیابی، سختیوں اور پسپائیوں کے بغیر حاصل ہو جائے لیکن یہ ممکن ہے کہ شکست سے بچ سکتے ہیں۔ اعلیٰ سوچ کے حامل لوگ اس طریقے سے پسپائی کے بعد ردعمل کرتے ہیں۔

-1پسپائی سے سبق حاصل کرتے ہیں، پسپائی پر تحقیق کرتے ہیں، اس کو آپ کے آگے والے لوگوں پر استعمال کرتے ہیں۔ پسپائی کے مسائل کو حل کرتے ہیں۔

-2نئے تجربات کرتے ہیں، نئی تکنیکی استعمال میں لاتے ہیں۔

اعلیٰ سوچ کے حوالے سے دیکھیں شکست ذہن کی ایک سطح کا نام ہے۔ اس کے سو اکچھ نہیں۔

-E جب محبت میں ناکامی ہو تو اعلیٰ سوچیں۔

محبوب تو تھا ہی منفی ذہن کا، بے ضمیر بھی تھا، وہ میرے ساتھ مخلص بھی نہ تھا۔

آپ کے ذہن میں اس کے لیے جو بھی محبت ہو اسے دل سے نکال پھینکیں۔

اگر شعبہ محبت ٹھیک طرح سے کام نہ کر رہا ہو تویہ کریں:

-1جس سے آپ محبت کرتے ہیں اس کی اعلیٰ خوبیوں کو مدنظر رکھیں، کمزوریوں کو نظرانداز کریں۔

-2اپنے اس ساتھی کے لیے کچھ خاص کام کریں اور ایسے کام اکثر کرتے رہیں۔ اعلیٰ سوچ کے حوالے سے خوشی کے راز کو تلاش کریں۔

-F جب آپ محسوس کریں کہ آپ کا کام آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے۔ اعلیٰ سوچ کو برقرار رکھیں۔ وہ کون سا معاملہ ہے جو آپ کے کام کو پیچھے لے جا رہاہے۔ آپ کی اعلیٰ کارکردگی سے ہی آپ کواچھی تنخواہ اور معیار زندگی ملتا ہے۔ اس کے لیے آپ کو یہ کام کرنا ہو گا۔

سوچیں کہ آپ اپنے کام کو بہتر کر سکتے ہیں۔ آپ ہر کام کو بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔ اس دنیا میں کوئی بھی کام ایسا نہیں ہے جس کو بہتر طور پر نہ کیا جا سکتا ہو۔

جب آپ سوچتے ہیں، میں بہتر کر سکتا ہوں توکام بہتر ہونا شروع ہو جائے گا۔ یہ سوچنا کہ میں بہتر کام کر سکتا ہوں اس سے آپ کی تخلیقی قوت حرکت میں آ جاتی ہے۔

اعلیٰ سوچ کے حوالے سے دیکھیں کہ اگر میں خدمت میں پہل کروں، تو پیسہ اپنے آپ ہی آئے گا۔

پبلیسیس سائرس کے بقول:

ایک عقل مند شخص اپنے ذہن کا آقا بنے گا۔

اور کھانا اس کا ملازم ہو گا۔

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم “ نے شائع کی ہے ( جُملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -