نانا صاحب کے سپاہیوں نے انگریز خواتین اور بچوں کو قتل کیا اور لاشیں کنوئیں میں بھر دیں 

نانا صاحب کے سپاہیوں نے انگریز خواتین اور بچوں کو قتل کیا اور لاشیں کنوئیں ...
نانا صاحب کے سپاہیوں نے انگریز خواتین اور بچوں کو قتل کیا اور لاشیں کنوئیں میں بھر دیں 

  

مصنف : ای مارسڈن 

 دہلی میں شاہ عالم کا خاندان باقی تھا جس کے ساتھ انگریزوں نے بڑا اچھا سلوک کیا تھا۔ بہادر شاہ بادشاہ کہلاتے تھے۔ یہ بوڑھے تھے اور ان کو بھی انگریزوں کے یہاں سے بڑی بھاری پنشن ملتی تھی۔ ان کو یہ خیال گزرا کہ شاید نامور شاہان مغلیہ کی طرح میں بھی پھر شہنشاہ ہند ہو جاﺅں یہ اور ان کے بیٹے باغیوں سے مل گئے اور انہوں نے اپنے شہنشاہ ہند ہونے کا اعلان کر دیا۔ 50 میمیں اور بچے جو باغیوں سے بچنے کی خاطر ان کے قلعے میں جا چھپے تھے۔ ان کے حکم سے قتل کیے گئے۔

 جو حال میرٹھ میں ہوا وہی اور بہت سے مقاموں میں گزرا۔ انگریزی افسر اپنے سپاہیوں پر اعتماد کرتے تھے کہ یہ ہمارے پہلو بہ پہلو ہمارے دشمنوں سے لڑتے ہیں اور وفاداری کا عہد کر چکے ہیں، لیکن بہت سے سپاہی اپنی قسم دھرم کو توڑ کر باغی ہو گئے۔ انہوں نے اپنے افسروں کو مار ڈالا اور جو فرنگی ہاتھ آیا اسی پر ہاتھ صاف کیا اور پھر دہلی میں جا داخل ہوئے۔

 کانپور میں نانا صاحب باغیوں کی ایک بڑی جماعت کا سردار اور سرغنہ بنا۔ یہاں انگریز تو تھوڑے تھے مگر میمیں اور بچے بہت تھے جو حفاظت کی غرض سے وہاں بھیج دیئے گئے تھے۔ انگریز لوگ باغیوں کی کثیر جمعیت کے ساتھ 19 دن تک بڑی شجاعت اور دلاوری سے لڑتے رہے۔ مرد ہی مرد ہوتے تو صاف ان کے درمیان سے نکل جاتے لیکن میمیں اور بچے ان کے ساتھ تھے۔ ان کو کس پر چھوڑ جاتے۔ نانا صاحب نے کہا کہ اگر تم لوگ اطاعت قبول کرو تو میں حفاظت کے ساتھ الہٰ آباد پہنچا دوں گا۔ انگریزوں کی عقل ماری گئی اور وہ مان گئے۔ انگریز میم بچے دریائے گنگا کے کنارے جا کر کشتیوں میں بیٹھ گئے۔ کشتیوں کا کنارے سے چھوٹنا تھا کہ نانا صاحب کے بندوقچیوں نے کنارے پر سے بندوقیں چھوڑنی شروع کیں بہت سے مارے گئے۔ کشتیوں میں آگ لگا دی گئی جو باقی بچے ان میں سے مرد تو سپاہیوں کی گولی سے مارے گئے اورمیمیں، بچے اول قید کیے گئے اور پھر نانا صاحب کے حکم سے کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے اور ان کی لاشیں کھینچ کر ایک کنوئیں میں بھر دی گئیں۔

 باغی 5 مہینے تک شہر دہلی پر قابض رہے۔ اس عرصے میں کلکتہ، مدراس اور پنجاب کی فوجیں آ گئیں۔ سکھوں کو مغلوب ہوئے صرف8 ہی سال ہوئے تھے لیکن انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ انگریزوں کی حکومت کیسی عمدہ ہے اور انگریزی عملداری میں ایسے خوشحال تھے کہ مقامی حکومت میں پیشتر یہ بات کبھی نصیب نہیں ہوئی تھی۔ سکھ اور گورکھے وفادار رہے اور انگریزوں کی طرف سے ایسی ہی بہادری سے لڑے جیسے کبھی ان کے مقابلے میں لڑے تھے۔ جنرل ہیولک نے جو بعد میں سرہنری ہیولک کے خطاب سے ممتاز ہوا۔ نانا صاحب کو شکست دی۔ وہ جنگلوں میں بھاگ گیا اور نہیں معلوم کیا ہوا۔ جرنل نیل جنرل ہیولک کے ساتھ آ کر شامل ہوا۔ دونوں نے مل کر کانپور لے لیا اور لکھنؤ کی کمک پر چلے جہاں کئی مہینے سے ہنری لارنس بڑی جوانمردی کے ساتھ 50 ہزار باغیوں کا مقابلہ کر رہا تھا۔ 6 دن کی سخت لڑائی کے بعد جنرل ولسن نے دھاوا کر کے دہلی فتح کی۔ اب سرکولن کمبل اور سرجیمز اوٹرم کی کمان میں گوروں کی اور بہت سی فوج آ پہنچی۔ کانپور، لکھنؤ فتح ہوئے۔ باغی اودھ سے نکال دیئے گئے۔ جنرل نکلسن دہلی کی لڑائی میں مارا گیا۔ چند روز بعد جنرل ہیولک بھی مر گیا۔

 ایک فوج مدراس سے جنرل وٹلک کے ساتھ چلی۔ دوسری بمبئی سے سرہیوروز کے ہمراہ روانہ ہوئی۔ راستے میں سندھیا اور ہلکر کی سپاہ کو شکست دیتی اور قلعے پر قلعے فتح کرتی آہستہ آہستہ شمالی ہند میں جا داخل ہوئی۔ سندھیا اور ہلکر خود تو انگریزوں سے وفاداری کرتے رہے لیکن اپنی سپاہ کو باغیوں کے ساتھ مل جانے سے نہ روک سکے۔ اس بگڑی ہوئی سپاہ کا سپہ سالار ایک مرہٹہ سردار تانتیا ٹوپی تھا۔ باغیوں کو جابجا شکست ہوئی۔ تانتیا ٹوپی پکڑا گیا اور پھانسی پر چڑھایا گیا۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -