”بڑے اچھے لگتے ہیں۔ ۔۔ یہ دھرتی ، یہ ندیا ، یہ رینا اور تم“ 

”بڑے اچھے لگتے ہیں۔ ۔۔ یہ دھرتی ، یہ ندیا ، یہ رینا اور تم“ 
”بڑے اچھے لگتے ہیں۔ ۔۔ یہ دھرتی ، یہ ندیا ، یہ رینا اور تم“ 

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:113

 موسیقی اور عوامی مزاج:

”جس رات کے خواب آئے وہ خوابوں کی رات آئی۔۔۔ “ عثمان کے فون سے محمد رفیع کی امر آواز گونجی۔ گیت ختم ہوا تو عثمان گنگنانے لگا ” بڑے اچھے لگتے ہیں۔ ۔۔ یہ دھرتی ، یہ ندیا ، یہ رینا اور تم۔“ موسیقی کے اثر میں موڈ کے علاوہ ماحول کا بھی بہت ہاتھ ہوتا ہے۔ شمشال کی اس سرد خاموش رات میں کچھ دور بہتے دریا کی قربت میں اس گیت کا مفہوم اور اثر وہ نہیں تھا جس سے ہم پہلے واقف تھے۔ پھر یکے بعد دیگرے کئی گیت گائے اور سنے گئے۔ ”تمھاری زلف کے سائے میں شام کر لوں گا۔۔۔“ مرشد مدن موہن کی دھن ہو اور سننے والے کو مسحور نہ کر دے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے! ہماری آوازیں سن کر احمد علی اور چیمہ بھی کمرے سے نکل کر باہر آ بیٹھے۔ کچھ دیر ہمارے گانے برداشت کرتے رہے پھر احمد نے جماہی لیتے ہوئے کہا۔

”بھئی تم لوگ تو بڑے تُھک ملنگا(تخم ملنگا: نیاز بو یا تلسی کا بیج جو تا ثیر میں ٹھنڈا ہوتا ہے اور موسم اور جوانی کی گرمی کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مشروبات اور فالودے میں اس کا استعمال عام ہے) قسم کے گانے سنتے ہو۔کوئی نصیبو لال کا گانا ہی لگا لو۔“

” ان ہومیو پیتھک گانوں سے تو وہی اچھا ہے ۔۔۔ کنڈی نہ کھڑکا سوہنیا سِدھا اندر آ۔“ چیمے نے گرہ لگائی۔

اس پرجدید پاکستانی پنجابی گانوں پر بات شروع ہوگئی۔ جس قسم کے گانے آج کل بن رہے ہیں وہ گھٹیا پن کی آخری حد تک ہیجان انگیز اور ہوش ربا ہیں۔کسی قوم کی اخلاقی اور ذہنی سطح کا اندازہ لگا نا ہو تو اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اس قوم کے فنون ِ لطیفہ کے معیار کو دیکھا جائے اور فنون ِ لطیفہ میں سب سے عوامی چیز فلمی مو سیقی ہے۔ اعظم ، عثمان، بلال، ندیم اور میں تو مدن موہن، خیام، سلیل چو دھری، جے دیو، نوشاد، ایس ڈی برمن، لکشمی کانت پیارے لال ، شنکر جے کشن ، آر ڈی برمن، رشید عطرے، خواجہ خورشید انور ، ماسٹر عنایت ،سہیل رعنا، روبن گھوش ، نثار بزمی، اے حمید، وجاہت عطرے وغیرہ کی مو سیقی پسند کرنے والے ہیں لیکن اعظم کے ساتھی کچھ اور طرح کی موسیقی کا مذاق رکھتے تھے۔ 

غزل اور نظم کے بر عکس گیت اس خِطّے،اِس زمین کی پیداوار ہے ، یہاں کے لوگوں کے جذبات اور روایت سے جڑا ہوا ہے اسی لیے عوام میں اس کی پزیرائی ہمیشہ زیادہ رہی ہے ۔ ہندوستان میں مو سیقی چوں کہ مذہب کا حصہ تھی اس لیے اس کے اندروہی خوب صورتی ، شائستگی اور لطافت تھی جو تقدیس کے ما تحت فنون میں پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ پا کستانی موسیقار جو مشترک تہذیب کے پروردہ تھے ان کی موسیقی اور گیتوں میں بھی شائستگی اور حسن تھا۔پاکستان بننے کے بعد یہاں مذہب، ثقافت اور آرٹ میں جو تصادم پیدا کیا گیا اس کے نتیجے میں دوسرے فنون کے علاوہ موسیقی کا بھی بہت نقصان ہوا۔ گیت کی نسبت غزل گائیکی کو فنی اعتبار سے زیادہ معزز قرار دیاگیا ۔ایک طرف ملّا تھے دوسری طرف ،ہیرا منڈی کے لوگ ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پرانی نسل کے جانے کے بعد شعبۂ فلم سے وابستہ تمام فنون کا جنازہ نکل گیا۔ اُدھر دولت کے حصول کی دوڑ نے بھارت میں بھی مو سیقی کا کِریا کرم کر دیا ہے۔ پہلے گیتوں سے شاعری رخصت ہوئی پھر میلوڈی نے بستر باندھا اور اب بات ”میرے مونھ میں لالی پاپ“ تک آ گئی ہے۔ ایک بار جب میں نے شہزاد رفیق سے پوچھا کہ وہ اپنی فلموں میں روبن گھوش (تب وہ اپنی بیگم شبنم کے ساتھ پاکستان ہی میں تھا) سے مو سیقی کیوں نہیں لیتا؟ تو شہزاد نے ذرا ہچکچا کر کہا، ”روبن گھوش صاحب مو سیقار تو بہت اچھے ہیں لیکن ردھم کا استعمال بہت کم کرتے ہیں۔“ 

بس یہ ردھم ہی ہمارا معیار بنا۔ بِیٹ، ٹھمکا، تھرکنا، کولھے ، سینہ اور مجرا۔۔۔ ! چلنتر کام۔موسیقی میں کوئی رومان، کو ئی لطافت باقی نہیں رہی۔ جب تخلیق کار کے سامنے کوئی اعلیٰ مقصد نہ ہو اور فن کی نمود خون ِجگر کے بجائے عامیانہ اور سوقیانہ جذبات سے ہونے لگے تووہ لوحِ جہاںپر مقام و دوام کے جھنجھٹ میںنہیں پڑتا اور عامیانہ اور چلنتر چیزوں کو تخلیق و فن کا نام دے کر پیسے کمانے سے غرض رکھتا ہے ۔ 

 کسی ملک کے عوام کی ذہنی و اخلاقی سطح کا سب سے بڑا مخبر وہاں کا فلمی گیت ہوتا ہے۔ اس ایم آر آئی (magnetic resonance imaging)میں عام آدمی کی ذہنی سطح اور ساخت بڑی تفصیل اور سہولت کے ساتھ نظر آجاتی ہے۔ احمد اور چیمہ بور ہو کر اندر گئے تو کچھ دیر ہم خاموش بیٹھے رہے۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -