دانشورکو چاہیے کہ جاہل کو اس طرح مخاطب کرے جس طرح طبیب مریض کو مخاطب کرتا ہے

دانشورکو چاہیے کہ جاہل کو اس طرح مخاطب کرے جس طرح طبیب مریض کو مخاطب کرتا ہے
دانشورکو چاہیے کہ جاہل کو اس طرح مخاطب کرے جس طرح طبیب مریض کو مخاطب کرتا ہے

  

مصنف : ملک اشفاق

 قسط :38

٭ غلط کار پر اس کی غلطی لوٹاﺅنہیں کیونکہ وہ تم سے معلومات کرے گا اور تجھے دشمن بنا لے گا۔

٭ کہا گیا ”ہم نے تمہیں کبھی مغموم نہیں پایا“ اس نے کہا ”میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے کہ ضائع ہو تو اس پر غم کروں۔“

٭ کوئی یہ چاہتا ہو کہ اس کی خواہش فوت نہ ہو تو ممکن کی خواہش کرے۔

٭ جس سے ملو۔ محبت کی اچھی تعریف کرو کیونکہ محبت کی بنیاد حسن تعریف ہے، جب کہ دشمنی کی بنیا سوءتعریف ہے۔

٭ کسی کام کا تجھے سربراہ بنایا جائے تو اصحاب بد کو دور رکھو کیونکہ ان کے سارے عیوب تمہاری جانب ہی منسوب ہوں گے۔

٭ سب سے عمدہ کام اعتدال کے ہیں۔

٭ ایک شریف النسل بدخلق نے اس سے کہا ”سقراط! اپنی نسل کی ذلت سے کراہت نہیں کرتے۔“ اس نے جواب دیا۔ ”تمہاری نسل تم تک ختم ہو رہی ہے او رمیری نسل مجھ سے شروع ہو رہی ہے۔“

٭ دنیا والوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کتاب کی تصویریں، ایک ورق کھلتا ہے تو دوسرا بند ہوجاتاہے۔

٭ صبر ہر کام کا معین اور مددگار ہے۔

٭ جو تیز چلتا ہے اسے ٹھوکریں زیادہ لگتی ہیں۔

٭ آدمی کی عقل اس پر سب سے زیادہ غالب نہ ہو تو جو شے اس پر غالب ہو گی اسی میں اس کی بربادی ہوگی۔

٭ حکیم جب تک جسمانی خواہشات پر غالب نہیں ہوتا حکیم نہیں ہوتا۔

٭ اپنے والدین کے ساتھ ویسے ہی رہو جس طرح چاہتے ہو کہ تمہاری اولاد تمہارے ساتھ رہے۔

٭ دانشورکو چاہیے کہ جاہل کو اس طرح مخاطب کرے جس طرح طبیب مریض کو مخاطب کرتا ہے۔

٭ طالب دنیا کی عمر کم اور فکر زیادہ ہوتی ہے۔

٭ جو شریر ہوتاہے موت اس کے شر سے راحتِ عالم بن جاتی ہے۔

٭ پوچھا گیا ”سب سے قریب تر؟“ جواب دیا ”موت“ اور سب سے منتشر؟ جواب دیا ”آرزو“ ا ور سب سے مانوس تر؟ جواب دیا ”موافق دوست“ اور ”سب سے وحشت ناک؟“ جواب دیا ”موت“

٭ انسان کی زبان ایک اور کان دو اس لیے بنائے گئے کہ بولنے سے زیادہ سنے۔

٭ شہنشاہ وہ جو اپنی خواہش کو قابو رکھے۔

٭ پوچھا گیا ”سب سے لذیذ شے؟“ جواب دیا ”ادب سے استفادہ اور ان سنی خبروں کا سننا۔“

٭ سب سے عمدہ چیز جو بچوں کو لازم ہے ادب ہے اس کا سب سے پہلا فائدہ یہ ہے کہ یہ خراب کاموں سے رشتہ کاٹ دیتا ہے۔

٭ انسان کا سب سے نفع بخش ذخیرہ مخلص دوست ہے۔

٭ خاموش رہنے والے کو عجز کلامی کی جانب منسوب کر دیا جاتا ہے اور وہ محفوظ رہتا ہے بولنے والے کو فضول گوئی کی جانب منسوب کیا جاتا ہے۔ اس لیے شرمندہ ہوتا ہے۔

٭ موت کو بے وقعت سمجھو کیونکہ اس کی تلخی اس کا اندیشہ کرنے میں ہے۔

٭ پوچھا گیا ”عمدہ ذخیرہ؟“ ”جو خرچ کرنے سے بڑھتا ہو۔“

٭ مشکور وہ ہے جو راز پوشیدہ رکھنے کی خواہش پر اسے پوشیدہ رکھے باقی جس نے راز پوشیدہ رکھنے کی خواہش کی ہے اس پر توپوشیدہ رکھنا واجب ہے۔

٭ دوسروں کا راز اسی طرح پوشیدہ رکھو جس طرح چاہتے ہو کہ دوسرے تمہاراراز پوشیدہ رکھیں۔

٭ تمہارے سینہ کے اندر تمہارے اپنے راز کی سمائی نہ ہو تو دوسروں کا سینہ تو اس کے لیے اور زیادہ تنگ ہو گا۔

٭ پوچھا گیا ”دانشور مشورہ کیوں کرتا ہے؟“ جواب دیا ”اس لیے کہ وہ رائے کو خواہش سے پاک رکھنا چاہتا ہے۔“

٭جس کے اخلاق اچھے ہوں گے اس کی زندگی خوشگوار ۔ اس کی سلامتی دائم اور دلوں میں اس کی محبت جاگزیں ہو گی اور جس کے اخلاق برے ہوں گے۔ اس کی زندگی بے کیف، ا س کی مکروہیت دائم اور دل متنفر ہوں گے۔

٭ حسن اخلاق دوسری صفات مذمومہ کو ڈھانک لیتا ہے اور بدخلقی دیگر محاسن کو بھی مذموم بنا دیتی ہے۔

٭ حکمت کا سرا حسن خلق ہے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -