کالاباغ ڈیم مفت بن سکتا ہے!

کالاباغ ڈیم مفت بن سکتا ہے!
کالاباغ ڈیم مفت بن سکتا ہے!

  

چین کی آبادی اس وقت 1.34ارب سے زیادہ ہے جو دنیا کی کُل آبادی کا تقریباً20%بنتی ہے۔ چین کے پاس قابلِ کاشت رقبہ صرف 7فیصد ہے۔ اس میں سے ہر سال 860,000ہیکٹر، یعنی 2,124,200ایکڑ زمین بڑھتی ہوئی آبادی کا شکار ہورہی ہے، یعنی رہائش کے استعمال میں آرہی ہے۔ چین کا زرعی شعبہ اپنے لوگوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہا ہے ،لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ کام مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے ،کیونکہ نہ صرف چین کی غذائی ضروریات بڑھ رہی ہیں ،بلکہ ان کی نوعیت بھی تبدیل ہورہی ہے۔ جوں جوں چین کی اقتصادی حالت بہتر ہورہی ہے، توں توں لوگوں کی قوت خرید بڑھ رہی ہے۔ جب قوت خرید بڑھتی ہے تو سب سے پہلے لوگ گوشت کی کھپت بڑھادیتے ہیں۔ 1978میں چین کی آبادی 97کروڑ 52لاکھ تھی اور اُن کی گوشت کی کھپت 8ملین ٹن تھی، جو فی کس 8کلو بنتی ہے۔ 2012ءمیں چین کی آبادی 37فیصد اضافے کے ساتھ 1.34ارب ،جبکہ گوشت کی کھپت 700فیصد اضافے کے ساتھ 71ملین ٹن، یعنی 53کلو فی کس سالانہ ہوگئی۔ اس کے لئے بھی زرعی شعبے کا کردار اہم رہا ،کیونکہ جانوروں کی خوراک کا بڑا حصہ اجناس پر مشتمل ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ چین کے لئے اپنی غذائی ضروریات اپنے ذرائع سے پوری کرنا گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مشکل ہوتا جارہا ہے۔

 دوسری طرف چین کا ہمسایہ پاکستان ہے ،جس کی آبادی 20کروڑ ہوگئی ہے جو دنیا کی کُل آبادی کا سوا دو فیصد بنتی ہے۔ اس کے پاس بھی قابلِ کاشت رقبہ 7فیصدہے۔ پاکستان کا زرعی شعبہ نہ صرف اپنی ملکی غذائی ضروریات پوری کرسکتا ہے، بلکہ چین اور بھارت کا غذائی ضرورت کا مسئلہ حل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے ،لیکن اسے بھارت کی آبی جارحیت اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جو پاکستان ہی میں رہنے والے اُن ملک دشمن عناصر کی بدولت بڑھ رہی ہے جو غیرملکی قوتوں کے اشاروں پر کالاباغ ڈیم نہ بننے کے لئے اپنی تمام توانائیاں صرف کررہے ہیں۔ کالاباغ ڈیم ایک بہت اہمیت کا حامل پراجیکٹ ہے،جس کی تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ ہوں گے ،لیکن یہ ڈیم ایک روپیہ خرچ کئے بغیر بھی بن سکتا ہے۔ اگر پاکستان چین کو زمینی حقائق سے آگاہ کرے اور اُسے یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجائے کہ اگر پاکستان میں آبی قلت ختم ہوجائے تو اس کا زرعی شعبہ چین کی غذائی ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرسکتا ہے تو چین صرف کالاباغ ڈیم ہی نہیں، بلکہ پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کے جتنے بھی منصوبے ہیں، اُن سب میں سرمایہ کاری کرے گا ،کیونکہ اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے سستی اور وافر خوراک چین کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

صرف چین ہی نہیں ،بلکہ سبھی ممالک کے لئے آنے والے وقتوں میں اپنی آبادی کے لئے خوراک کا حصول بہت بڑا مسئلہ ہوگا۔ دنیا کا سب سے بڑا انڈس بیسن زرعی شعبے کے مسائل کے خاتمے اور زرعی پیداوار کو ناقابل تصور حد تک بڑھانے کی اہلیت رکھتا ہے ،مگر اس سے بھرپور استفادہ نہ کرپانے کی راہ میں بھارت ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے جو ہمارے دریاﺅں پر بند باندھ کر اور پاکستان میں رہنے والے ملک دشمن عناصر کو اپنا آلہ کار بناکر ڈیموں کی تعمیر روکنے کے لئے ہر ہتھکنڈہ استعمال کررہا ہے۔ بھاشا ڈیم کی تعمیر کی بات ہوتو بھارت واویلا کرتا ہے کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے اور این او سی کے بغیر یہاں ڈیم نہیں بن سکتا ،لیکن خود اُس متنازعہ علاقے میں دھڑا دھڑ ڈیم بنائے جارہا ہے ،جبکہ ہماری حکومتیں یہ تماشا یوں دلچسپی سے دیکھے جارہی ہیں، جیسے بچے بندر کا تماشا دیکھتے ہیں۔ پاکستان کو ڈیم بنانے سے روکنے کا مطلب انسانیت کے لئے خوراک کی پیداوار روکنا ہے۔ انسانیت کو خوراک سے محروم رکھنا ایک ایسا گھناﺅنا جرم ہے جو کسی بھی لحاظ سے قابل معافی نہیں،لیکن بھارت یہ جرم کررہا ہے اور معذرت کے ساتھ ....ہماری حکومتیں اس سلسلے میں اُس سے تعاون کررہی ہیں.... کیونکہ کالاباغ ڈیم پر تو ہماری حکومتیں اتفاق رائے کا شوشہ چھوڑ دیتی ہیں ،لیکن اربوں ڈالر کے قرضے لیتے ،ملک کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے، ٹارگٹ کلرز کو کھلی چھوٹ دینے ، بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں بڑھاتے ہوئے ان حکومتوں نے کبھی اتفاق رائے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور ہمیشہ اپنی من مانی کی۔

گزشتہ دنوں ایک کالم پڑھ کر تو حواس ہی گم ہوگئے کہ بھارت ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔ بھارت نے سندھ، چناب اور جہلم پر 100ڈیم بنا لئے ہیں ،جبکہ اس کا منصوبہ 35بڑے ،135درمیانے اور 3000چھوٹے ڈیم بنانے کاہے ۔ ان سارے منصوبوں کی تکمیل کے بعد وہ 33سے 35ملین ایکڑ فٹ پانی روک لے گا، اتنا پانی ہر سال سندھ کو ڈبوتا اور تباہ و برباد کرتا ہواسمندر میں گر کر ضائع ہوجاتا ہے۔ بھارت کے ایجنٹ جو پاکستان میں ڈیموں کی مخالفت کررہے ہیں، وہ بھارت کے سب سے بڑے مددگار ثابت ہورہے ہیں،پاکستان کے بدنصیب عوام کو اندھیروں میں دھکیل رہے ہیں ، ہمارے زرعی رقبے کو بنجر بنارہے ہیں ،تاکہ ہم خوراک حاصل کرنے کے لئے بھی اُس کے مرہون منت ہوجائیں ۔ بھارت پاکستان دشمنی میں اندھا ہورہاہے ،لیکن اُسے یہ حقیقت ضرورمدّنظر رکھنی چاہیے کہ بھوکا ،مگر مسلح ہمسایہ اور مسلح بھی ایسا جس کے پاس درجنوں ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ہوں، اُس کی اپنی بقا کے لئے ہی بہت بڑا خطرہ ہے اور یہ حقائق بھی ہمیں ہی بھارت کو دکھانا ہوں گے اور سمجھانا ہوگا کہ وہ پاکستان کے لئے مسائل پیدا نہ کرے ،بلکہ حل کرے اور کرائے ،کیونکہ اسی طرح وہ اپنے عوام کی فوڈ سکیورٹی یقینی بناسکتا ہے۔

اگر وہ اپنی روش پر عمل پیرا رہا تو پھر اُسے سمجھ جانا چاہیے کہ پاکستان کے عوام کچھ بھی برداشت کرسکتے ہیں ،مگر بھارت کی بالادستی کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرسکتے۔ یہ رویہ بھی بھارت کی جارحیت نے پیدا کیا ہے ورنہ پاکستانی عوام امن پسند اور دنیا بھر کے لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔ بھارت کے عوام بھی پاکستان دشمنی میں اندھے ہونے کے بجائے اپنی حکومت کو سمجھائیں ،تاکہ دونوں ممالک کے عوام خوشحال، پُرسکون اور پُرامن زندگی بسر کرسکیں۔ بھارت پاکستان کے ساتھ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرے ،کیونکہ صرف امن کی خواہش سے امن حاصل نہیں ہوتا ،بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات اٹھانا پڑتے ہیں اور ہمسایوں کا حق تسلیم کرنا پڑتا ہے ۔ پاکستان کو بھارت کا کوئی حق نہیں چھیننا چاہیے ،لیکن کشمیر حاصل کرنے تک چپ کرکے بیٹھنا بھی نہیں چاہیے، کیونکہ کشمیر بھارت کا نہیں، بلکہ پاکستان کا حصہ ہے اور اس کے بغیر ہمارا وجود نامکمل ہے۔

 بھارت کا رقبہ 32لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے ،لیکن وہ صرف 222,236مربع کلومیٹر پر محیط کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جماکر خطے کا امن اور خود اپنی بقاءداﺅ پر لگائے ہوئے ہے۔ اس غاصبانہ قبضے نے ڈیڑھ ارب لوگوں کی ترقی کا عمل منجمد کررکھا ہے، اُن کا امن اور سکون برباد کیا ہوا ہے ،کیونکہ بھارت اربوں ڈالر اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی پر خرچ کرنے کے بجائے اسلحے کی دوڑ پر برباد کررہا ہے اور طاقت کا توازن قائم رکھنے کے لئے مجبوراً ہمیں بھی ایسا ہی کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر دونوں ممالک اربوں ،بلکہ کھربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے کے بجائے،اپنے عوام کی ترقی پر خرچ کریں تو یہ خطہ سونے کی کان بن سکتا ہے، لیکن کشمیر پر قبضہ اور پاکستان کے خلاف آبی جارحیت ختم کرکے اوّلین قدم بھارت ہی کو اٹھانا ہوگا۔ دوسری طرف پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے منصوبوں پر چین سے بات چیت کرنے میں ایک لمحہ کی تاخیر بھی نہیں کرنی چاہیے ،کیونکہ اس سے جہاں چین کو فائدہ ہوگا ،وہاں تھوڑی سی رقم بھی خرچ کئے بغیر کالاباغ ڈیم جیسا میگا پراجیکٹ مکمل ہوسکتا ہے جس سے نہ صرف زرعی شعبے کے مسائل حل ہوں گے، بلکہ وافر بجلی بھی پیدا ہوگی۔ ٭

چین کی آبادی اس وقت 1.34ارب سے زیادہ ہے جو دنیا کی کُل آبادی کا تقریباً20%بنتی ہے۔ چین کے پاس قابلِ کاشت رقبہ صرف 7فیصد ہے۔ اس میں سے ہر سال 860,000ہیکٹر، یعنی 2,124,200ایکڑ زمین بڑھتی ہوئی آبادی کا شکار ہورہی ہے، یعنی رہائش کے استعمال میں آرہی ہے۔ چین کا زرعی شعبہ اپنے لوگوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہا ہے ،لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ کام مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے ،کیونکہ نہ صرف چین کی غذائی ضروریات بڑھ رہی ہیں ،بلکہ ان کی نوعیت بھی تبدیل ہورہی ہے۔ جوں جوں چین کی اقتصادی حالت بہتر ہورہی ہے، توں توں لوگوں کی قوت خرید بڑھ رہی ہے۔ جب قوت خرید بڑھتی ہے تو سب سے پہلے لوگ گوشت کی کھپت بڑھادیتے ہیں۔ 1978میں چین کی آبادی 97کروڑ 52لاکھ تھی اور اُن کی گوشت کی کھپت 8ملین ٹن تھی، جو فی کس 8کلو بنتی ہے۔ 2012ءمیں چین کی آبادی 37فیصد اضافے کے ساتھ 1.34ارب ،جبکہ گوشت کی کھپت 700فیصد اضافے کے ساتھ 71ملین ٹن، یعنی 53کلو فی کس سالانہ ہوگئی۔ اس کے لئے بھی زرعی شعبے کا کردار اہم رہا ،کیونکہ جانوروں کی خوراک کا بڑا حصہ اجناس پر مشتمل ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ چین کے لئے اپنی غذائی ضروریات اپنے ذرائع سے پوری کرنا گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مشکل ہوتا جارہا ہے۔

 دوسری طرف چین کا ہمسایہ پاکستان ہے ،جس کی آبادی 20کروڑ ہوگئی ہے جو دنیا کی کُل آبادی کا سوا دو فیصد بنتی ہے۔ اس کے پاس بھی قابلِ کاشت رقبہ 7فیصدہے۔ پاکستان کا زرعی شعبہ نہ صرف اپنی ملکی غذائی ضروریات پوری کرسکتا ہے، بلکہ چین اور بھارت کا غذائی ضرورت کا مسئلہ حل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے ،لیکن اسے بھارت کی آبی جارحیت اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جو پاکستان ہی میں رہنے والے اُن ملک دشمن عناصر کی بدولت بڑھ رہی ہے جو غیرملکی قوتوں کے اشاروں پر کالاباغ ڈیم نہ بننے کے لئے اپنی تمام توانائیاں صرف کررہے ہیں۔ کالاباغ ڈیم ایک بہت اہمیت کا حامل پراجیکٹ ہے،جس کی تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ ہوں گے ،لیکن یہ ڈیم ایک روپیہ خرچ کئے بغیر بھی بن سکتا ہے۔ اگر پاکستان چین کو زمینی حقائق سے آگاہ کرے اور اُسے یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجائے کہ اگر پاکستان میں آبی قلت ختم ہوجائے تو اس کا زرعی شعبہ چین کی غذائی ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرسکتا ہے تو چین صرف کالاباغ ڈیم ہی نہیں، بلکہ پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کے جتنے بھی منصوبے ہیں، اُن سب میں سرمایہ کاری کرے گا ،کیونکہ اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے سستی اور وافر خوراک چین کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

صرف چین ہی نہیں ،بلکہ سبھی ممالک کے لئے آنے والے وقتوں میں اپنی آبادی کے لئے خوراک کا حصول بہت بڑا مسئلہ ہوگا۔ دنیا کا سب سے بڑا انڈس بیسن زرعی شعبے کے مسائل کے خاتمے اور زرعی پیداوار کو ناقابل تصور حد تک بڑھانے کی اہلیت رکھتا ہے ،مگر اس سے بھرپور استفادہ نہ کرپانے کی راہ میں بھارت ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے جو ہمارے دریاﺅں پر بند باندھ کر اور پاکستان میں رہنے والے ملک دشمن عناصر کو اپنا آلہ کار بناکر ڈیموں کی تعمیر روکنے کے لئے ہر ہتھکنڈہ استعمال کررہا ہے۔ بھاشا ڈیم کی تعمیر کی بات ہوتو بھارت واویلا کرتا ہے کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے اور این او سی کے بغیر یہاں ڈیم نہیں بن سکتا ،لیکن خود اُس متنازعہ علاقے میں دھڑا دھڑ ڈیم بنائے جارہا ہے ،جبکہ ہماری حکومتیں یہ تماشا یوں دلچسپی سے دیکھے جارہی ہیں، جیسے بچے بندر کا تماشا دیکھتے ہیں۔ پاکستان کو ڈیم بنانے سے روکنے کا مطلب انسانیت کے لئے خوراک کی پیداوار روکنا ہے۔ انسانیت کو خوراک سے محروم رکھنا ایک ایسا گھناﺅنا جرم ہے جو کسی بھی لحاظ سے قابل معافی نہیں،لیکن بھارت یہ جرم کررہا ہے اور معذرت کے ساتھ ....ہماری حکومتیں اس سلسلے میں اُس سے تعاون کررہی ہیں.... کیونکہ کالاباغ ڈیم پر تو ہماری حکومتیں اتفاق رائے کا شوشہ چھوڑ دیتی ہیں ،لیکن اربوں ڈالر کے قرضے لیتے ،ملک کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے، ٹارگٹ کلرز کو کھلی چھوٹ دینے ، بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں بڑھاتے ہوئے ان حکومتوں نے کبھی اتفاق رائے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور ہمیشہ اپنی من مانی کی۔

گزشتہ دنوں ایک کالم پڑھ کر تو حواس ہی گم ہوگئے کہ بھارت ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔ بھارت نے سندھ، چناب اور جہلم پر 100ڈیم بنا لئے ہیں ،جبکہ اس کا منصوبہ 35بڑے ،135درمیانے اور 3000چھوٹے ڈیم بنانے کاہے ۔ ان سارے منصوبوں کی تکمیل کے بعد وہ 33سے 35ملین ایکڑ فٹ پانی روک لے گا، اتنا پانی ہر سال سندھ کو ڈبوتا اور تباہ و برباد کرتا ہواسمندر میں گر کر ضائع ہوجاتا ہے۔ بھارت کے ایجنٹ جو پاکستان میں ڈیموں کی مخالفت کررہے ہیں، وہ بھارت کے سب سے بڑے مددگار ثابت ہورہے ہیں،پاکستان کے بدنصیب عوام کو اندھیروں میں دھکیل رہے ہیں ، ہمارے زرعی رقبے کو بنجر بنارہے ہیں ،تاکہ ہم خوراک حاصل کرنے کے لئے بھی اُس کے مرہون منت ہوجائیں ۔ بھارت پاکستان دشمنی میں اندھا ہورہاہے ،لیکن اُسے یہ حقیقت ضرورمدّنظر رکھنی چاہیے کہ بھوکا ،مگر مسلح ہمسایہ اور مسلح بھی ایسا جس کے پاس درجنوں ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ہوں، اُس کی اپنی بقا کے لئے ہی بہت بڑا خطرہ ہے اور یہ حقائق بھی ہمیں ہی بھارت کو دکھانا ہوں گے اور سمجھانا ہوگا کہ وہ پاکستان کے لئے مسائل پیدا نہ کرے ،بلکہ حل کرے اور کرائے ،کیونکہ اسی طرح وہ اپنے عوام کی فوڈ سکیورٹی یقینی بناسکتا ہے۔

اگر وہ اپنی روش پر عمل پیرا رہا تو پھر اُسے سمجھ جانا چاہیے کہ پاکستان کے عوام کچھ بھی برداشت کرسکتے ہیں ،مگر بھارت کی بالادستی کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرسکتے۔ یہ رویہ بھی بھارت کی جارحیت نے پیدا کیا ہے ورنہ پاکستانی عوام امن پسند اور دنیا بھر کے لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔ بھارت کے عوام بھی پاکستان دشمنی میں اندھے ہونے کے بجائے اپنی حکومت کو سمجھائیں ،تاکہ دونوں ممالک کے عوام خوشحال، پُرسکون اور پُرامن زندگی بسر کرسکیں۔ بھارت پاکستان کے ساتھ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرے ،کیونکہ صرف امن کی خواہش سے امن حاصل نہیں ہوتا ،بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات اٹھانا پڑتے ہیں اور ہمسایوں کا حق تسلیم کرنا پڑتا ہے ۔ پاکستان کو بھارت کا کوئی حق نہیں چھیننا چاہیے ،لیکن کشمیر حاصل کرنے تک چپ کرکے بیٹھنا بھی نہیں چاہیے، کیونکہ کشمیر بھارت کا نہیں، بلکہ پاکستان کا حصہ ہے اور اس کے بغیر ہمارا وجود نامکمل ہے۔

 بھارت کا رقبہ 32لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے ،لیکن وہ صرف 222,236مربع کلومیٹر پر محیط کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جماکر خطے کا امن اور خود اپنی بقاءداﺅ پر لگائے ہوئے ہے۔ اس غاصبانہ قبضے نے ڈیڑھ ارب لوگوں کی ترقی کا عمل منجمد کررکھا ہے، اُن کا امن اور سکون برباد کیا ہوا ہے ،کیونکہ بھارت اربوں ڈالر اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی پر خرچ کرنے کے بجائے اسلحے کی دوڑ پر برباد کررہا ہے اور طاقت کا توازن قائم رکھنے کے لئے مجبوراً ہمیں بھی ایسا ہی کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر دونوں ممالک اربوں ،بلکہ کھربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے کے بجائے،اپنے عوام کی ترقی پر خرچ کریں تو یہ خطہ سونے کی کان بن سکتا ہے، لیکن کشمیر پر قبضہ اور پاکستان کے خلاف آبی جارحیت ختم کرکے اوّلین قدم بھارت ہی کو اٹھانا ہوگا۔ دوسری طرف پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے منصوبوں پر چین سے بات چیت کرنے میں ایک لمحہ کی تاخیر بھی نہیں کرنی چاہیے ،کیونکہ اس سے جہاں چین کو فائدہ ہوگا ،وہاں تھوڑی سی رقم بھی خرچ کئے بغیر کالاباغ ڈیم جیسا میگا پراجیکٹ مکمل ہوسکتا ہے جس سے نہ صرف زرعی شعبے کے مسائل حل ہوں گے، بلکہ وافر بجلی بھی پیدا ہوگی۔ ٭

چین کی آبادی اس وقت 1.34ارب سے زیادہ ہے جو دنیا کی کُل آبادی کا تقریباً20%بنتی ہے۔ چین کے پاس قابلِ کاشت رقبہ صرف 7فیصد ہے۔ اس میں سے ہر سال 860,000ہیکٹر، یعنی 2,124,200ایکڑ زمین بڑھتی ہوئی آبادی کا شکار ہورہی ہے، یعنی رہائش کے استعمال میں آرہی ہے۔ چین کا زرعی شعبہ اپنے لوگوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہا ہے ،لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ کام مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے ،کیونکہ نہ صرف چین کی غذائی ضروریات بڑھ رہی ہیں ،بلکہ ان کی نوعیت بھی تبدیل ہورہی ہے۔ جوں جوں چین کی اقتصادی حالت بہتر ہورہی ہے، توں توں لوگوں کی قوت خرید بڑھ رہی ہے۔ جب قوت خرید بڑھتی ہے تو سب سے پہلے لوگ گوشت کی کھپت بڑھادیتے ہیں۔ 1978میں چین کی آبادی 97کروڑ 52لاکھ تھی اور اُن کی گوشت کی کھپت 8ملین ٹن تھی، جو فی کس 8کلو بنتی ہے۔ 2012ءمیں چین کی آبادی 37فیصد اضافے کے ساتھ 1.34ارب ،جبکہ گوشت کی کھپت 700فیصد اضافے کے ساتھ 71ملین ٹن، یعنی 53کلو فی کس سالانہ ہوگئی۔ اس کے لئے بھی زرعی شعبے کا کردار اہم رہا ،کیونکہ جانوروں کی خوراک کا بڑا حصہ اجناس پر مشتمل ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ چین کے لئے اپنی غذائی ضروریات اپنے ذرائع سے پوری کرنا گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مشکل ہوتا جارہا ہے۔

 دوسری طرف چین کا ہمسایہ پاکستان ہے ،جس کی آبادی 20کروڑ ہوگئی ہے جو دنیا کی کُل آبادی کا سوا دو فیصد بنتی ہے۔ اس کے پاس بھی قابلِ کاشت رقبہ 7فیصدہے۔ پاکستان کا زرعی شعبہ نہ صرف اپنی ملکی غذائی ضروریات پوری کرسکتا ہے، بلکہ چین اور بھارت کا غذائی ضرورت کا مسئلہ حل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے ،لیکن اسے بھارت کی آبی جارحیت اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جو پاکستان ہی میں رہنے والے اُن ملک دشمن عناصر کی بدولت بڑھ رہی ہے جو غیرملکی قوتوں کے اشاروں پر کالاباغ ڈیم نہ بننے کے لئے اپنی تمام توانائیاں صرف کررہے ہیں۔ کالاباغ ڈیم ایک بہت اہمیت کا حامل پراجیکٹ ہے،جس کی تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ ہوں گے ،لیکن یہ ڈیم ایک روپیہ خرچ کئے بغیر بھی بن سکتا ہے۔ اگر پاکستان چین کو زمینی حقائق سے آگاہ کرے اور اُسے یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجائے کہ اگر پاکستان میں آبی قلت ختم ہوجائے تو اس کا زرعی شعبہ چین کی غذائی ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرسکتا ہے تو چین صرف کالاباغ ڈیم ہی نہیں، بلکہ پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کے جتنے بھی منصوبے ہیں، اُن سب میں سرمایہ کاری کرے گا ،کیونکہ اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے سستی اور وافر خوراک چین کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

صرف چین ہی نہیں ،بلکہ سبھی ممالک کے لئے آنے والے وقتوں میں اپنی آبادی کے لئے خوراک کا حصول بہت بڑا مسئلہ ہوگا۔ دنیا کا سب سے بڑا انڈس بیسن زرعی شعبے کے مسائل کے خاتمے اور زرعی پیداوار کو ناقابل تصور حد تک بڑھانے کی اہلیت رکھتا ہے ،مگر اس سے بھرپور استفادہ نہ کرپانے کی راہ میں بھارت ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے جو ہمارے دریاﺅں پر بند باندھ کر اور پاکستان میں رہنے والے ملک دشمن عناصر کو اپنا آلہ کار بناکر ڈیموں کی تعمیر روکنے کے لئے ہر ہتھکنڈہ استعمال کررہا ہے۔ بھاشا ڈیم کی تعمیر کی بات ہوتو بھارت واویلا کرتا ہے کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے اور این او سی کے بغیر یہاں ڈیم نہیں بن سکتا ،لیکن خود اُس متنازعہ علاقے میں دھڑا دھڑ ڈیم بنائے جارہا ہے ،جبکہ ہماری حکومتیں یہ تماشا یوں دلچسپی سے دیکھے جارہی ہیں، جیسے بچے بندر کا تماشا دیکھتے ہیں۔ پاکستان کو ڈیم بنانے سے روکنے کا مطلب انسانیت کے لئے خوراک کی پیداوار روکنا ہے۔ انسانیت کو خوراک سے محروم رکھنا ایک ایسا گھناﺅنا جرم ہے جو کسی بھی لحاظ سے قابل معافی نہیں،لیکن بھارت یہ جرم کررہا ہے اور معذرت کے ساتھ ....ہماری حکومتیں اس سلسلے میں اُس سے تعاون کررہی ہیں.... کیونکہ کالاباغ ڈیم پر تو ہماری حکومتیں اتفاق رائے کا شوشہ چھوڑ دیتی ہیں ،لیکن اربوں ڈالر کے قرضے لیتے ،ملک کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے، ٹارگٹ کلرز کو کھلی چھوٹ دینے ، بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں بڑھاتے ہوئے ان حکومتوں نے کبھی اتفاق رائے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور ہمیشہ اپنی من مانی کی۔

گزشتہ دنوں ایک کالم پڑھ کر تو حواس ہی گم ہوگئے کہ بھارت ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔ بھارت نے سندھ، چناب اور جہلم پر 100ڈیم بنا لئے ہیں ،جبکہ اس کا منصوبہ 35بڑے ،135درمیانے اور 3000چھوٹے ڈیم بنانے کاہے ۔ ان سارے منصوبوں کی تکمیل کے بعد وہ 33سے 35ملین ایکڑ فٹ پانی روک لے گا، اتنا پانی ہر سال سندھ کو ڈبوتا اور تباہ و برباد کرتا ہواسمندر میں گر کر ضائع ہوجاتا ہے۔ بھارت کے ایجنٹ جو پاکستان میں ڈیموں کی مخالفت کررہے ہیں، وہ بھارت کے سب سے بڑے مددگار ثابت ہورہے ہیں،پاکستان کے بدنصیب عوام کو اندھیروں میں دھکیل رہے ہیں ، ہمارے زرعی رقبے کو بنجر بنارہے ہیں ،تاکہ ہم خوراک حاصل کرنے کے لئے بھی اُس کے مرہون منت ہوجائیں ۔ بھارت پاکستان دشمنی میں اندھا ہورہاہے ،لیکن اُسے یہ حقیقت ضرورمدّنظر رکھنی چاہیے کہ بھوکا ،مگر مسلح ہمسایہ اور مسلح بھی ایسا جس کے پاس درجنوں ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ہوں، اُس کی اپنی بقا کے لئے ہی بہت بڑا خطرہ ہے اور یہ حقائق بھی ہمیں ہی بھارت کو دکھانا ہوں گے اور سمجھانا ہوگا کہ وہ پاکستان کے لئے مسائل پیدا نہ کرے ،بلکہ حل کرے اور کرائے ،کیونکہ اسی طرح وہ اپنے عوام کی فوڈ سکیورٹی یقینی بناسکتا ہے۔

اگر وہ اپنی روش پر عمل پیرا رہا تو پھر اُسے سمجھ جانا چاہیے کہ پاکستان کے عوام کچھ بھی برداشت کرسکتے ہیں ،مگر بھارت کی بالادستی کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرسکتے۔ یہ رویہ بھی بھارت کی جارحیت نے پیدا کیا ہے ورنہ پاکستانی عوام امن پسند اور دنیا بھر کے لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔ بھارت کے عوام بھی پاکستان دشمنی میں اندھے ہونے کے بجائے اپنی حکومت کو سمجھائیں ،تاکہ دونوں ممالک کے عوام خوشحال، پُرسکون اور پُرامن زندگی بسر کرسکیں۔ بھارت پاکستان کے ساتھ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرے ،کیونکہ صرف امن کی خواہش سے امن حاصل نہیں ہوتا ،بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات اٹھانا پڑتے ہیں اور ہمسایوں کا حق تسلیم کرنا پڑتا ہے ۔ پاکستان کو بھارت کا کوئی حق نہیں چھیننا چاہیے ،لیکن کشمیر حاصل کرنے تک چپ کرکے بیٹھنا بھی نہیں چاہیے، کیونکہ کشمیر بھارت کا نہیں، بلکہ پاکستان کا حصہ ہے اور اس کے بغیر ہمارا وجود نامکمل ہے۔

 بھارت کا رقبہ 32لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے ،لیکن وہ صرف 222,236مربع کلومیٹر پر محیط کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جماکر خطے کا امن اور خود اپنی بقاءداﺅ پر لگائے ہوئے ہے۔ اس غاصبانہ قبضے نے ڈیڑھ ارب لوگوں کی ترقی کا عمل منجمد کررکھا ہے، اُن کا امن اور سکون برباد کیا ہوا ہے ،کیونکہ بھارت اربوں ڈالر اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی پر خرچ کرنے کے بجائے اسلحے کی دوڑ پر برباد کررہا ہے اور طاقت کا توازن قائم رکھنے کے لئے مجبوراً ہمیں بھی ایسا ہی کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر دونوں ممالک اربوں ،بلکہ کھربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے کے بجائے،اپنے عوام کی ترقی پر خرچ کریں تو یہ خطہ سونے کی کان بن سکتا ہے، لیکن کشمیر پر قبضہ اور پاکستان کے خلاف آبی جارحیت ختم کرکے اوّلین قدم بھارت ہی کو اٹھانا ہوگا۔ دوسری طرف پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے منصوبوں پر چین سے بات چیت کرنے میں ایک لمحہ کی تاخیر بھی نہیں کرنی چاہیے ،کیونکہ اس سے جہاں چین کو فائدہ ہوگا ،وہاں تھوڑی سی رقم بھی خرچ کئے بغیر کالاباغ ڈیم جیسا میگا پراجیکٹ مکمل ہوسکتا ہے جس سے نہ صرف زرعی شعبے کے مسائل حل ہوں گے، بلکہ وافر بجلی بھی پیدا ہوگی۔    ٭

مزید :

کالم -