”ک“ سے کوئٹہ اور” ک “ سے کراچی

”ک“ سے کوئٹہ اور” ک “ سے کراچی
”ک“ سے کوئٹہ اور” ک “ سے کراچی

  

عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے باوجود اس کی ڈور کئی جگہ پھنسی ہوئی ہے اور بے اعتباری کی فضا اس طرح برقرار ہے کہ شاید اپریل کا پورا مہینہ گزرجائے مگر اعتبار قائم نہ ہوسکے۔ 20مارچ کو سپریم کورٹ نے بلوچستان میں شفاف انتخابات کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صوبہ اغواءبرائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی آماجگاہ بن چکا ہے اور لاپتہ افراد کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، ایک شخص بھی بازیاب نہیں کرایا جاسکا بلکہ مسخ شدہ لاشیں برآمد ہورہی ہیں۔ عدالت کے مطابق بلوچستان میں امن و امان کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے بلوچستان میں انتخابات کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کا حکم ان ہی مقتدر لوگوں کو دیا ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ امن و امان کے لئے ان کے اقدامات ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھے۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ اب انتخابات سے چھہ ہفتے قبل وہ کوئی قابل اطمینان قدم اُٹھالیں گے اور بلوچستان میں انتخابات کے لئے سازگار ماحول نہ سہی، ایسی صورت بن جائے گی کہ بلوچستان کے عوام کی رائے کے مطابق وہاں قیادت کا فیصلہ ہوجائے! یاشاید یہ ایک خواب ہے کیونکہ مسئلہ بلوچستان کی مختلف جہتیں ہیں اور وہاں بین الاقوامی طاقتوں کے گریٹ گیم کے ساتھ ہمارے مقتدر افراد کی نالائقیوں کا سرکس بھی لوگ حیرت اور افسوس سے دیکھتے چلے آرہے ہیں اور دکھ کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ آخر ہم نے سقوط ڈھاکہ سے کوئی سبق کیوں نہیں لیا؟

بلوچستان کی طرح22مارچ کو سپریم کورٹ نے نگران سندھ حکومت کو کراچی میں قیام امن کے لئے 15دن کی مہلت دیتے ہوئے شہر میں نوگر ایریاز ختم کرنے کے لئے فوراً آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا ہے اور آئی جی پولیس اور ڈی جی رینجرز سے آپریشن کی خود قیادت کرنے کے لئے کہا ہے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالتوں کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے، مزید وقت نہیں دے سکتے الیکشن سر پر ہیں، مجرموں کا صفایا چاہتے ہیں۔ اسلحہ و لینڈ مافیا کے خاتمے اور نئی حلقہ بندیوں تک کراچی میں امن ممکن نہیں۔ اسی روز گورنر اور نگران وزیر اعلیٰ کی مشترکہ پریس کانفرنس میں کی جانے والی باتیں بھی قابل توجہ تھیں۔ نگران وزیر اعلیٰ نے جن کے بارے میں مسلم لیگ (ن) اور سندھ کے بہت سے لوگ تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں، ایک گھسے پٹے حکومتی جملے کو دہرایا کہ ”میرے پاس جادو کی چھڑی نہیں، لیکن بسم اللہ کرکے کام شروع کررہے ہیں“۔ جبکہ گورنر سندھ نے اعتراف کیا کہ کراچی میں نوگو ایریاز ہیں، شہر کے مختلف علاقوں میں حکومت کی رٹ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

کراچی میں قیامِ امن کے ساتھ نئی حلقہ بندیوں کا پھندا کھولنا بھی اہم ہو گیا ہے ، مگر ایک روز بعد ہی1988ءکے انتخابات سے موجودہ زمانے میں 25سال تک کراچی کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت رہنے والی ایم کیو ایم نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے نئی حلقہ بندیوں کو کراچی کے ساتھ امتیازی سلوک سے تعبیر کیا ہے اور الطاف حسین نے الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کردیاہے ، اس کے بعد ایم کیو ایم سندھ ہائی کورٹ نے درخواست بھی دائر کردی ہے ۔

حکومتی قاعدے میں ”ک“ سے کوئٹہ اور ”ک“ سے کراچی کا سبق شاید کسی امتحان کے لئے غیر ضروری ہوگیا ہے مگر یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان دشمن قوتوں کے لئے یہ سبق سب سے اہم ہے اور اسے ہماری کمزوری کو اُجاگر کرنے کے لئے وہ بار بار ”پڑھتے“ ہیں۔

25مارچ کو جلا وطن بلوچ لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل کراچی پہنچ گئے ہیں ، مگر ان کا جہاں یہ کہنا ہے کہ اداروں کی مداخلت ختم کئے بغیر شفاف الیکشن کا سوچ بھی نہیں سکتے، وہیں انہوں نے یہ اہم بات بھی کہی ہے کہ ہم مسلح جدوجہد کرنے والوں سے کہیں گے کہ ہم آپ کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے بلکہ آپ کے لئے دُعا گو رہیں گے، لیکن ہماری راہ میں آپ بھی رکاوٹ نہ ڈالیں ان کی انتخابات میں حصہ لینے کے ارادے کے ساتھ وطن واپسی پر کی جانے والی دونوں باتیں بہت اہم ہیں، سب جانتے ہیں کہ اداروں سے ان کی مراد کون سے ادارے ہیں اور مسئلہ بلوچستان کو بگاڑنے میں بہت سے لوگوں کے نزدیک ”اداروں“ کا کردار بھی رہا ہے۔ اختر مینگل کی دوسری بات ہم وطنوں کے لئے اچھی خبر کی مانند ہے کہ انہوں نے بلوچستان کے حقوق کے لئے مسلح جدو جہد کرنے والوں سے اپنی راہ جدا ہونے کا واضح اظہار کر دیا ہے، اس سوچ کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے، مگر ساتھ ہی یہ بھی عیاں ہوا ہے کہ مسلح جدو جہد کرنے والے انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور وہ سازگار ماحول جس کی منتظر سپریم کورٹ ہے، کسی ایک بڑے واقعہ سے بھی مزید اوجھل ہو سکتا ہے۔ 26مارچ کو ”کاوش“ نے کوئٹہ سے اپنے نمائندے کی جو رپورٹ شائع کی ہے اس کا عنوان بھی یہی ہے کہ بلوچستان میں بد امنی الیکشن کے لئے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے اور اس رپورٹ کا آغاز ہی یہاں سے کیا گیا ہے کہ بد امنی کے شکار بلوچستان میں انتخابات ہونے یا نہ ہونے کی تلوار لٹک رہی ہے۔

اگر کوئٹہ اور اس کے ساتھ بلوچستان کو سنبھال لیا گیا تو پھر شاید کراچی اور اس کے ساتھ سندھ میں پُر امن انتخابات کا انعقاد بھی ممکن ہوجائے ،وگرنہ یہ عین ممکن ہے کہ ”ک“ سے کوئٹہ بے قابوہو تو ”ک“ سے کراچی کو برہم اور بے قابو کرنے کے لئے کسی بھی عنوان سے پکا راگ چھیڑ دیا جائے جس کا چھیڑنا آسان ہے۔     ٭

مزید :

کالم -