مثبت سرگرمیوں کے ذریعے بہتر قوم کی تشکیل

مثبت سرگرمیوں کے ذریعے بہتر قوم کی تشکیل
مثبت سرگرمیوں کے ذریعے بہتر قوم کی تشکیل

  



نوجوانوں کا جذبہ اور تخلیقی صلاحتیںکسی بھی ملک کی ترقی میں اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا صحیح استعمال اور اس کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔سماجی ماہرین کے مطابق صحت مند جسم کے لئے صحت مند دماغ کا ہونا ضروری ہے اور کسی بھی مذہب، معاشرے یا خطے میں کھیل کی اہمیت سے انکار نہیں کیا گیا، بلکہ قبل از تاریخ زمانہ میں جب انسانی شعور ارتقاءکے ابتدائی مراحل میں تھا کھیل انسان کی پہلی مثبت مصروفیت ثابت ہوا۔ کھیل نہ صرف فرد کی انفرادی صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ ہیں، بلکہ سماجی، معاشی اور دیگر تعلقات کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے پر توجہ نہیں دی گئی اور نوجوان نسل خود کو ترقی کی بھیڑ میں بے سمت ہی سمجھتی رہی مگر وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے عنان اقتدار سنبھالتے ہی نوجوان نسل کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور ان کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کے علاوہ انہیں صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کا موقع دینے کی ٹھانی۔ محمد شہباز شریف نے صورت حال کی نزاکت کا تجزیہ کرتے ہوئے ملک کی کثیر آبادی پر مشتمل نوجوان طبقے کو صلاحیتوں کے مثبت اظہار کی سمت دینے کا بیڑا اٹھایا تاکہ دور دراز گاﺅں سے لے کر جدید شہری علاقوں کے مکین نوجوانوں کو خداداد صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کا موقع حاصل ہوسکے ۔

وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے ”یوتھ انرجی“ کے بھرپور استعمال کو یقینی بنانے کے لئے سپورٹس بورڈ پنجاب کی ازسرنو تنظیم کا فیصلہ کیا اور عثمان انور جیسی فعال اور متحرک شخصیت کو سپورٹس بورڈ کی سربراہی سونپی۔ عثمان انور نے پنجاب سپورٹس فیسٹیول ، یوتھ فیسٹیول ، انٹرنیشنل سپورٹس فیسٹیول اور گنیز بک کا ورلڈ ریکارڈز کے لئے شب و روز اپنی ٹیم کے ہمراہ محنت کی۔پنجاب سپورٹس بورڈ نے گلی محلے سے لے کر صوبائی سطح تک سپورٹس اور ڈویلپمنٹ کونسلز تشکیل دیں تاکہ گراس روٹ لیول پر کھیلوں کی سہولت یقینی بنائی جا سکے۔ پنجاب سپورٹس بورڈ کی مشن سٹیٹمنٹ ” مثبت سرگرمیوں کے ذریعے بہتر قوم کی تشکیل“ قرار پائی۔ انہی خطوط پر تنظیمی اصلاحات کے ذریعے پنجاب گھر میں سپورٹس کے احیاءاور مثبت سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا ۔

پنجاب سپورٹس بورڈ نے پنجاب بھر میں 4312 کھیلوں کے میدانوں کی نشاندہی کی جہاں سپورٹس بورڈ کی طرف سے نوجوان کھلاڑیوں کو 18310کھیلوں کی سہولتوں کی فراہمی کا اہتمام کیا گیا، ان میں 576 کھیلوں کے میدان راولپنڈی ڈویژن،417سرگودھا ڈویژن، 632 گوجرانوالہ ڈویژن، 547 لاہور ڈویژن، 387 بہاولپور ڈویژن جبکہ 496کھیلوں کے میدان ڈیرہ غازیخان ڈویژن کے گاﺅں، قصبے اور شہروں میں واقع ہیں ۔ان کھیلوں کے میدانوں میں کرکٹ گراﺅنڈ، کرکٹ نیٹ، ہاکی گراﺅنڈ، والی بال، فٹ بال ، بیڈمنٹن، کبڈی ، سائیکلنگ ، اتھلیٹکس ، ریسلنگ ، باسکٹ بال کورٹ سمیت دیگر شامل ہیں۔سپورٹس بورڈ پنجاب صوبہ بھر میں کھیلوں کے میدانوں کی تزئین و آرائش اور آپریشنز کے لئے ایک مخصوص کمپنی بنانے کے لئے ابتدائی کام مکمل کر رہاہے۔

پنجاب کے طول و عرض میں 137کثیرالمقاصد سپورٹس جمنیزیم قائم کئے جا چکے ہیں ۔پنجاب کی تقریباً ہر تحصیل میں ایک کثیرالمقاصد سپورٹس جمنیزیم موجود ہے، جبکہ سپورٹس بورڈ پنجاب صوبہ بھر میں ایک ہزار سے زائد مقامات پر نجی شعبے کے اشتراک سے کھیلوں کے میدان بنانے کے لئے نشاندہی کر چکا ہے ۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے کھیلوں کے میدان کو سپانسر کرنے والے اداروں کو سپانسر شپ حقوق دینے کی پالیسی کی تشکیل کے لئے خصوصی کمیٹی بنا دی ہے اور اسے اختیارات بھی سونپ دیئے گئے ہیں۔

پنجاب بھر میں یوتھ فیسٹیول کے انعقاد اور انتظامات کے لئے تحصیل کی سطح پر 17ہزار سپورٹس ویٹرن کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جاچکی ہے جو گلی، محلے، گاﺅں، شہر، تحصیل، ضلع ، ڈویژن اور صوبائی سطح پر سپورٹس فیسٹیول کے انعقاد کے انتظامات میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر تحصیل اور ڈسٹرکٹ لیول پر لوکل گورنمنٹ سپورٹس سرگرمیوں اور نوجوان کی دیگر سرگرمیوں کے لئے دو فیصد بجٹ مختص کر رہی ہے۔ ضلعی حکومتوں کو بجٹ کے دائرہ کار میں سپورٹس اکیڈمیز قائم کرنے کی ہدایات بھی جاری کی جا چکی ہیں۔ سپورٹس ویٹرن کی خدمات ان سپورٹس اکیڈمیز میں نوجوانوں کی تربیت اور ان کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لئے استعمال کی جائیں گی۔ سپورٹس فیسٹیول کے دوران پرانے آزمودہ کار کھلاڑی جنہیں ویٹرن کے نام سے پکارا جاتا ہے نوجوان کھلاڑیوں کی بلامعاوضہ ٹریننگ کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ سپورٹس بورڈ شاندار سپورٹس سٹی اور سٹیٹ آف دی آرٹ سپورٹس یونیورسٹی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔اضلاع میں موجود سپورٹس اکیڈمیز کو سپورٹس سٹی اور سپورٹس یونیورسٹی سے منسلک کیا جائے گا۔

جدید دور میں سپورٹس بھی ایک سائنس کا درجہ اختیار کر چکی ہے، کھلاڑیوں کے لئے کھیلوں کا سامان ، یونیفارم اور دیگر ضروریات کو پورا کرنا معاشی بوجھ کا سبب بنتا ہے ۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے کھلاڑیوں کی سہولت کے لئے 2ارب روپے سے پنجاب سپورٹس انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کی منظوری دی ہے، جس سے باصلاحیت کھلاڑیوں اور سپورٹس ویٹرن کو وظائف کی ادائیگی ممکن ہو سکے گی۔

پنجاب سپورٹس فیسٹیول کا باضابطہ انعقاد2012ءمیں کیا گیا، جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے 95ہزار ٹیموں نے شرکت کی ۔یہ اپنی نوعیت کاپہلا اور منفرد سپورٹس فیسٹیول تھا جس میں 12لاکھ سے زائد کھلاڑیوں نے مختلف کھیلوں میں حصہ لیا، جبکہ ایک لاکھ باصلاحیت کھلاڑیوں کو سپورٹس فیسٹیول کے ذریعے اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملا۔ سپورٹس فیسٹیول کے انعقاد کا حقیقی مقصد پنجاب سمیت ملک بھر میں سپورٹس کلچر کا فروغ ہے۔ پنجاب سپورٹس فیسٹیول 2012ءکے انعقاد کو معاشرے کے ہر طبقے نے اسے سراہا اور عوام کی طرف سے ایسے مزید ایونٹ کے انعقادکا مطالبہ بھی سامنے آیا۔ اس سپورٹس فیسٹیول میں 55ہزار گلی، محلے اور گاﺅں لیول پر سپورٹس ایونٹ منعقد ہوئے جبکہ 3464مقابلے یونین کونسل لیول پر ہوئے، جبکہ 137تحصیلوں ، 36اضلاع اور 9ڈویژنوں میں درجہ بدرجہ تقریباً ہر کھیل کے مقابلے منعقد ہوئے اور ڈویژنل لیول پر فاتح قرار پانے والے کھلاڑیوں نے صوبائی سطح کے مقابلوں میں حصہ لیا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ انفرادی اور ٹیم لیول 257سے زائد سپورٹس ایونٹ منعقد ہوئے، جس میں تمام طبقہ ہائے زندگی کے لوگ بشمول جنرل پبلک ، سپورٹس ، رورل سیکٹر ، سکولز ، کالجز ، یونیورسٹی ، فنی تربیت کے ادارے ، پرنٹنگ ، فوٹوگرافی، ڈرامہ ، ڈریس ڈیزائنگ، فیملی ایونٹ، دستکاری ، انجینئرنگ ، انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں۔غرض کہ سپورٹ فیسٹیول میں یوتھ کو اپنا مستقبل سنوارنے کا ایک بہترین موقع فراہم کیا جس میں تمام عمر کے لوگوں کو حصہ لینے کے یکساں مواقع فراہم کئے گئے۔

پنجاب یوتھ فیسٹیول 2012ءکے دوران پاکستان کے نوجوانوں نے 25 سے زائد نئے عالمی ریکارڈز قائم کئے۔ 428013لوگوں نے ایک مقام پر قومی ترانہ گانے کا ریکارڈ قائم کیا اور 15243افراد کا اکٹھے قومی ترانہ گانے کا بھارتی ریکارڈ توڑ ڈالا۔ 24200 نوجوانوں نے سب سے بڑا انسانی قومی پرچم بنا کر ہانگ کانگ کا ریکارڈ توڑا ۔1936افراد نے سب سے بڑی انسانی تصویر بنانے کا ریکارڈ قائم کیا اور امریکی ریکارڈ کو چکنا چور کیا ۔گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کی ٹیم نے ان تمام مواقع کا مشاہدہ کیا اور نئے پاکستانی ریکارڈز قائم ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب یوتھ فیسٹیول 2012ءکو 32لاکھ افراد کی شرکت کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا سپورٹس ایونٹ اور یوتھ فیسٹیول ہونے کا اعزاز حاصل ہے،جبکہ لندن اولمپکس 2012ءمیں حصہ لینے والوں کی تعداد لگ بھگ 11ہزار تھی۔پنجاب یوتھ فیسٹیول 2012ءکے بعد نیشنل یوتھ فیسٹیول 2012ءمنعقد ہوا جس میں ملک بھر سے تمام صوبوںکی ٹیموں نے حصہ لیا اور پنجاب انٹرنیشنل سپورٹس فیسٹیول 2012ءمیں 26ممالک کے کھلاڑی شریک تھے۔

پنجاب یوتھ فیسٹیول 2012ءکے کامیاب انعقاد نے پہلی بار نوجوانوں کے چہروں پر بشاشتت اور مسکراہٹ پیدا کی اور انہیں کسی بھی عالمی ریکارڈ کو توڑنے کی صلاحیت ہونے کا اعتماد بخشا۔ فیسٹیول کے دوران متعدد ملکی اور غیرملکی مبصرین اور ماہرین نے بھی شرکت کی اور تمام تقریبات کا مشاہدہ کر کے اسے بہترین انتظام قرار دیا ۔یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ یوتھ فیسٹیول کے قومی اور عالمی سطح کے مقابلوں میں فاتح کھلاڑیوں کی اکثریت کا تعلق محروم معیشت طبقات سے ہے یہی پنجاب یوتھ فیسٹیول کی اصل کامیابی اور حسن ہے۔  ٭

مزید : کالم