جموں وکشمیر متنازعہ علاقہ ہے ، یہاں پاکستانی پرچم لہرانا کوئی جرم نہیں ہے،آسیہ اندرابی

جموں وکشمیر متنازعہ علاقہ ہے ، یہاں پاکستانی پرچم لہرانا کوئی جرم نہیں ...

 سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے یوم پاکستان پر پاکستانی پرچم لہرانے پر بھارتی پولیس کی طرف سے ان کیخلاف مقدمہ درج کرنے پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی اقدام نہیں کیا ہے ۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق آسیہ اندرابی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ انہوں نے یوم پاکستان پرپوری کشمیری قوم کی طرف سے پاکستانی پرچم لہرایا کیونکہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ انہوں نے اپنے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے کہاکہ انہوں نے بھارتی سرزمین پر توکوئی غیر قانونی کارروائی نہیں کی ہے ۔ آسیہ اندرابی نے عزم ظاہر کیا جب تک کشمیری بھارتی تسلط سے مکمل آزادی حاصل نہیں کر لیتے وہ اس طرح کی سرگرمیاں جاری رکھیں گی۔ انہوں نے واضح کیاکہ جموں وکشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اوریہاں پاکستانی پرچم لہرانا کوئی جرم نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگرنئی دلی یا ممبئی میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا تویہ ایک جرم ہو سکتا ہے ۔دختران ملت کی سربراہ نے کہاکہ بھارت کے معتصب نیوز چینل پاکستانی پرچم لہرانے کی خبر کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور تمام چینلوں نے پولیس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کیلئے دباؤ بڑھایا۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی ذرائع ابلاغ کشمیری عوام کیلئے جج کا کردار ادا کررہے ہیں اور وہ بھارتی پولیس کو کوئی بھی اقدام اٹھانے یا نہ اٹھانے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ آسیہ اندرابی نے واضح کیا کہ وہ کشمیر کی سرزمین پر پاکستانی پرچم کو لہراتی رہیں گی اور بھارتی میڈیا یا کٹھ پتلی انتظامیہ کے دباؤ میں نہیںآئیں گی۔واضح رہے کہ بھارتی پولیس نے 23مارچ کو یوم پاکستان منانے اور پاکستانی پرچم لہرانے آسیہ اندرابی کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا ہے۔ نوہٹہ پولیس اسٹیشن سرینگر میں درج کی گئی ایف آئی آر میں آسیہ اندرابی پر غیر قانونی سرگرمیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔

مزید : عالمی منظر