پاکستانی معیشت پر جی ایس پی پلس کے مثبت اثرات واضح ہونا شروع

پاکستانی معیشت پر جی ایس پی پلس کے مثبت اثرات واضح ہونا شروع

کوئٹہ (اے پی پی) بلوچستان کی غیرسرکاری تنظیموں نے جی ایس پی پلس پروگرام میں پاکستان کی شمولیت کوملک کے لیے سوُدمند قرار دیتے ہو ئے اس پروگرام میں شامل27 معاہدوں اور کنوینشنز پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت پرزوردیاہے اورمطالبہ کیاہے کہ انسانی حقوق خصوصاً سول و سیاسی حقوق کا بھرپور احترام کیا جائے اور صوبائی و وفاقی حکومتیں صوبے میں جاری تنازع کا سیاسی حل ڈھونڈیں، بے گناہ شہریوں خصوصاً ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ روکنے کے لیے مؤثر قدم اٹھائیں اور صوبے میں ترقیاتی کاموں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ یہ سفارشات ڈیموکریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل (ڈی آر آئی)، آل پاکستان لیبر فیڈریشن (اے پی ایل ایف) اور اسٹرینتننگ پارٹیسپیٹری آرگنائزیشن (ایس پی او) کے زیرِ اہتمام ’’جی ایس پی معاہدے پر عمل درآمد کی مانیٹرنگ میں سول سوسائٹی کا کردار‘‘ کے موضوع پر کوئٹہ میں منعقدہ گول میزکانفرنس میں پیش کی گئیں۔

جس میں شرکاء نے حکومتی اداروں کے ساتھ تعمیری شراکت کے ذریعے جی ایس پی معاہدے میں شامل انسانی حقوق اور محنت کش حقوق سے متعلق ٹریٹیز پر عمل درآمد کو باقاعدگی سے مانیٹر کرنے کا عہد کیا۔کوئٹہ میں منعقدہ یہ گول میزکانفرنس ملک بھر میں منعقد ہونے والی مشاورتی سیریز کا تیسرا اجلاس تھا ۔جس میں سول سوسائٹی بشمول سول سوسائٹی تنظیموں، بار کاؤنسلز، ذرائع ابلاغ اور ٹریڈ یونینز کے پچاس سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔ گول میز کانفرنس کے شرکاء کو بتایاگیاکہ جی ایس پی پلس پاکستان کے لیے تجارتی مراعات پر مبنی مکینزم ہے تاکہ ملک میں جمہوری اور انسانی حقوق اصلاحات کو فروغ حاصل ہوسکے اوریورپی منڈیوں تک پاکستانی اشیا کی مفت رسائی انسانی حقوق، محنت کش حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور بہتر طرزِ حکمرانی سے متعلق 27اہم ترین بین الاقوامی کنوینشنز کی توثیق اور مؤثر عمل درآمد سے مشروط ہے ڈی آر آئی کے ٹیم لیڈر ذوالفقار شاہ نے جی ایس پی پلس پر عمل در آمد کی ضروریات اور رپورٹنگ میکنزم سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جی ایس پی پلس کا درجہ بحال رکھنے کے لیے معاہدے کی کڑی مانیٹرنگ کی ضرورت ہوگی اور نئے معاہدے کے مطابق یورپی یونین اپنے جائزے کے عمل میں سول سوسائٹی کی جانچ کو بھی زیرِ غور لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سول سوسائٹی کے لیے بہترین موقع ہے جس کے ذریعے ملک میں انسانی حقوق پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ذوالفقار شاہ نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستانی معیشت پر جی ایس پی پلس کے مثبت اثرات واضح ہونا شروع ہوگئے ہیں اور پہلے سال (جنوری سے دسمبر 2014ء) کے دوران پاکستان سے یورپی یونین برآمدات میں بیس فی صد اضافہ ہوا جس سے ملک کو 1.15ارب ڈالر سے زائد کا فائدہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان جی ایس پی پلس کی شرائط کو پورا کرے تو اس کے ذریعے معیشت کو وسیع فوائد حاصل ہونے کے امکانات ہیں۔ذوالفقار شاہ نے مزید کہا کہ جی ایس پلس جیسے معاہدے کاروبار اور حکومت کے لیے تجارت میں اضافے کی صورت میں فائدہ مند ہوتے ہیں اور عام عوام بھی ان کے ذریعے انسانی حقوق اور محنت کش حقوق کی عمومی صورت حال میں بہتری کی توقع کرتے ہیں۔

مزید : کامرس