زندگی پیار کی دو چار گھڑی ہوتی ہے!

زندگی پیار کی دو چار گھڑی ہوتی ہے!
 زندگی پیار کی دو چار گھڑی ہوتی ہے!

  


 امیر عبدالرحمن الناصرالدین جسے تاریخ میں عبدالرحمن سوئم بھی کہا جاتا ہے ۔اس نے 300 ھ سے 350 ھ تک 50 سال اندلس موجودہ اسپین پر بادشاہت کی۔ اس نے 73 سال عمر پائی اور اس کا دور اندلس کی اموی حکومت کا زریں دور کہلاتا ہے ۔ حکومت کی آمدنی شمار سے باہر تھی ۔ خلیفہ اس آمدنی کو تین حصوں میں تقسیم کرتا تھا۔ ایک حصہ و ہ فوج کی ترقی، ایک حصہ تعمیرات پر اور ایک حصہ بیت المال میں جمع کرتا تھا۔ رعایا بھی خوشحال اور اس سے خوش تھی۔ یہ خلیفہ اپنے روزمرہ امور اپنے ہاتھ سے ایک ڈائری میں لکھتا رہتا تھا جو وہ دوسروں سے خفیہ رکھتا تھا۔بعد وفات خلیفہ ناصراس کے کاغذات میں سے یہ ڈائری بھی نکلی جس میں مرحوم خلیفہ نے اپنے دنوں کا احوال لکھا تھا۔ اتنی دولت جو شمار سے باہر تھی، حسین بیویوں اور لونڈیوں کا بھی شمار نہ تھا۔ دنیا بھر کے سلاطین کے نمائندے قیمتی تحائف کے ساتھ دربار میں حاضر رہتے۔ ماہر ترین باورچی لذیذ ترین کھانے خلیفہ کے لئے تیار کرتے رہتے، لیکن ان سب کے باوجودہر دن پریشانیوں کا دن تھا۔ مرحوم خلیفہ نے وہ دن کمال احتیاط سے لکھے تھے جو اس کے پچاس سالہ دور حکومت میں تفکرات سے خالی تھے۔ شمار کرنے سے معلوم ہواکہ اس طویل اور دراز زمانہ میں اسے ایسے صرف تین دن نصیب ہوئے ۔ (حوالہ تاریخ ابن خلدون ۔ تاریخ کامل ابن اثیر) ناصر الدین نے تو ایک ایک دن کا حساب رکھا تو تین دن نکالے جو ایک حساب سے اس کی اصل زندگی ہے کیونکہ باقی سب تو پریشانیوں اور مسائل سے عبارت تھی ۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ امیر ناصر کی تقلید میں ’’ہم پاکستانی‘‘ بھی اپنی زندگی کے دنوں کا کچھ حساب کتاب کرلیں ۔پاکستان میں اوسط عمر 50 سال کے لگ بھگ ہے اس کے باوجود ہم ایک پاکستانی کی عمر ساٹھ سال فرض کرلیتے ہیں۔ ساٹھ سال کی اس عمر میں سے اب زندگی ڈھونڈتے ہیں۔ان ساٹھ سالوں میں سے پہلے پانچ سال تو بچپن کے نکال دیں، کیونکہ یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جو کسی کو یاد نہیں ہوتا باقی رہ گئے پچپن سال ۔ ہم لوگ مغربی ممالک کی نسبت کافی ’’ہڈحرام‘‘ واقع ہوئے ہیں اور دس سے زیادہ گھنٹے سونے کے عادی ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ سویا انسان مردہ ہی کے برابر گنا جاتا ہے سو کم از کم بیس سال اس مد میں نکال دئے جائیں توپچپن میں پینتیس سال پیچھے بچتے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ زندگی وہی جو بامقصد ہو، محبت اور سکون سے عبارت ہو۔ نفرت، لڑائی جھگڑوں،پریشانیوں، مسائل،دکھوں اوربیماریوں سے بھری زندگی، زندگی تو نہیں کہلائے گی جیسا کہ کسی زمانے میں ریڈیو پر مالا بیگم کی آوازمیں ایک گانا لگا کرتا تھا ’’جو ہم گزار رہے ہیں یہ زندگی تو نہیں‘‘ اس تناظر میں اگر ہم جمع تفریق کریں تو ہمیں بھی زندگی کے دو چار دن ہی اصل زندگی کے نصیب ہوں گے کیونکہ ہمیں اپنی عمر میں سے بہت کچھ تفریق کرنا پڑے گا۔ اگر ہم نے کسی پر مقدمہ کیا ہے یا کسی نے ہم پر مقدمہ کیا ہے تو جوگھنٹے ہم نے وکیل کو تلاش کرنے اور پھرکیس سمجھانے پرصرف کئے ہیں وہ بھی اس زندگی سے نکالنا پڑیں گے ۔جو گھنٹے اپنے دوستوں سے ناراضی میں گزرے، جو جھگڑے کسی سے کئے ، جو گھنٹے کسی کے خلاف سازش بننے میں گزارے وہ سب بھی اپنی زندگی سے نکالنا پڑیں گے ۔جو بے مقصد گھنٹے ہم نے آج کے کسی نام نہاد ’’رہنما‘‘ کے پیچھے گلے پھاڑ کے نعرے لگاتے گزارے یا ان کے کسی دھرنے میں صرف کئے وہ بھی زندگی سے نکالنے پڑیں گے، بلکہ اگر کسی دھرنے کی وجہ سے ڑیفک جام ہوگئی اور ایمبولنس رکنے کی وجہ سے کسی مریض کی جان گئی تولینے کے دینے پڑجائیں گے کیونکہ اس گناہ میں ہم اپنے لیڈر کے ساتھ شریک مجرم ٹھہریں گے اور دنیا میں نہ سہی، آخرت میں تو اس کئے کی سزا ضرور بھگتیں گے۔سو ہم اور آپ اپنی عمر میں جس طرح سے بھی جمع تفریق کریں، خوشیوں اور سکون کی زندگی کے چند ہی دن نصیب ہوں گے ، یہی ہماری اصل زندگی ہے ۔ حیرانی ہوتی ہے جب ہم لوگ اس چار روزہ زندگی کے لئے کیا کیا ’’کارنامے ‘‘سر انجام دیتے ہیں ۔ اگر کھلاڑی ہیں تو عزت ہمیں راس نہیں آتی اور وہ دولت جو جائز ذریعے سے ہمیں ملتی ہے وہ بھی کم نہیں ہوتی مگرزیادہ کے لالچ میں آکر میچ فکسنگ میں ملوث ہوکر خود بھی ذلیل ہوتے ہیں اور وطن کا نام بھی بدنام کرتے ہیں ۔ اگر اﷲہمیں حکمرانی عطا کرتا ہے تو بجائے اس کی مخلوق کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے ہم اپنی ذات کے لئے آسانیاں ڈھونڈتے ہیں ۔ اپنے اختیار کا فائدہ اٹھا کر شوگر ملیں لگاتے ہیں۔ حریفوں کی شوگر ملوں کی طرف جانے والی ٹرالیاں روک کر ان کا رخ اپنی شوگر مل کی طرف موڑتے ہیں اور ان کو تنگ کرکے، ڈرا دھمکا کر ان کی ملوں پر قبضہ کرتے ہیں ۔ اسلحے کی نوک پر لوگوں سے بھتا لیتے ہیں اور بھتا نہ ملنے پر سینکڑوں لوگوں کو زندہ جلا دیتے ہیں ۔ نوجونوں کو بجائے ’’منزل‘‘ پر پہنچانے کے ان سے ایک نہیں دو نہیں ، سو سو قتل کرا کر ان کو پھانسی کے تختے پر پہنچاتے ہیں ۔ اربوں، کروڑوں کی کرپشن کرکے ملک کو کھوکھلا کرتے ہیں اور یہ رقم اپنے اصل ملک برطانیہ پہنچانے کے لئے ’’ایان علی‘‘ کو کیرئر بناتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کروڑوں بددعائیں پیچھا کرتی ہیں اور ایسی رقم استعمال کرنے سے پہلے ’’ملک الموت‘‘ آ جاتا ہے اور کبھی کبھی ملک الموت کی بجائے ’’اسکاٹ لینڈ یارڈ‘‘ والے آجاتے ہیں۔ دوستو، اصل زندگی وہی ہے جو انسانیت کی محبت اوربھلائی کے کاموں میں گزرے، جو سکون اور پیار سے گزرے۔ چاہے یہ زندگی تھوڑی بھی ہو پھر بھی بہت ہوتی ہے ۔ کالم کا اختتام ہم مولانا رومیؒ کے الفاظ سے کرتے ہیں ’’محبت کے بغیررہنا مردہ رہنے جیسا ہے اور محبت میں مرنا ہی ہمیشہ کی زندگی دیتا ہے‘‘ کالم ختم کیا ہے تو پاس پڑوس سے کسی نے ٹیپ ریکارڈلگا رکھا ہے اور فضاؤں میں اس گیت کی آواز آرہی ہے۔ زندگی پیار کی دو چار گھڑی ہوتی ہے چاہے تھوڑی بھی ہو یہ عمر بڑی ہوتی ہے تاج یا تخت یا دولت ہو زمانے بھر کی کون سی چیز محبت سے بڑی ہوتی ہے زندگی پیار کی دو چار گھڑی ہوتی ہے

مزید : کالم