کراچی آپریشن کسی صورت رکنا نہیں چاہے

کراچی آپریشن کسی صورت رکنا نہیں چاہے

 کراچی میں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے بدھ کو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے زیر صدارت فیصل بیس کراچی میں اجلاس ہوا جس میں کور کمانڈر کراچی اور ڈی جی رینجرز نے کراچی میں جاری آپریشن پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم کو اجلاس میں کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن سے متعلق تجزیاتی رپورٹ بھی پیش کی گئی،جس میں کراچی آپریشن کے 565 دنوں کا موازنہ ، آپریشن سے پہلے کے 565دنوں سے کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق 5 ستمبر2013ء سے لے کر 23مارچ 2015 ء تک 895 مجرموں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ کراچی آپریشن کے آغاز سے پہلے 1810 مقابلے ہوئے جبکہ اس کے بعد2687 مقابلے کئے گئے۔ آپریشن سے قبل1347 قتل کے ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی جبکہ آپریشن شروع ہونے کے بعد 1549لوگ پکڑے گئے، پہلے283 بھتہ خور گرفتار ہوئے تھے جبکہ بعدمیں 487بھتہ خوروں کو حراست میں لیا گیا۔ستمبر 2013ء سے لے کر اب تک پچاس ہزار ملزم گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ اس سے پہلے 39319 ملزم گرفتار ہوئے تھے۔2014ء میں 142 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ 2015ء میں ان کی تعداد 28 تھی۔ وزیراعظم کا اس موقع پر کہنا تھا کہ شہر کا امن واپس لا کر ہی دم لیں گے اوروفاقی حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کوکامیابی کے لئے ہر ممکن معاونت کرے گی۔دہشت گرد کوئی بھی ہواسے چھوڑا نہیں جائے گا اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا ۔ وزیراعظم نواز شریف نے کراچی سٹاک ایکسچینج میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کمپنیوں کو ایوارڈز دینے کی تقریب سے بھی خطاب کیا اور وہاں بھی ان کا یہی کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو آخری حد تک لے جائیں گے،جنہوں نے یہ جنگ ہم پر مسلط کی ہے، انہیں شکست ہو گی۔ یہ آپریشن کسی سیاسی جماعت کے نہیں، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے۔کراچی میں آپریشن تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر شروع کیا گیا تھا اور اِسی کی وجہ سے شہر میں جرائم پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے، وہ وقت جلد ہی آنے والا ہے، جب شہر قائد سے جرائم کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا ،اس کے بغیر خوشحالی نہیں آسکتی ۔ کراچی میں ترقی نہیں ہوگی تو پاکستان میں بھی ترقی نہیں ہوگی، کراچی میں آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک عوام خود کومحفوظ تصور نہیں کرتے۔ وزیراعظم کو پولیس کی طرف سے پیش کی گئی تجزیاتی رپورٹ کے اعداد وشمار کو سامنے رکھ کر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ کراچی میں آپریشن کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور تیزی سے کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ حالات میں بہتری پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محنت کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے، باوجود تمام تر تنقید کے وہ کا فی حد تک دیانت داری سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔پولیس کے جوان آگ سے کھیل رہے ہیں،اپنی جان داؤ پر لگا رہے ہیں جس کی ان کو داد دینا لازم ہے۔اس کارکردگی میں رینجرز بھی برابری کی حصہ دار ہے، بلکہ اگر کہا جائے کہ پولیس، رینجرز کے سائے تلے کام کر رہی ہے تو غلط نہیں ہو گا۔رینجرز نے کرا چی آپریشن کے دوران بہت سے مشکل مراحل اپنی بہادری اور ذہانت سے طے کر لئے جیسے کہ نائن زیرو پر چھاپہ مارنا ہرگز آسان نہیں تھا۔رینجرزنے نہ صرف وہاں چھاپہ مارا بلکہ وہاں چھپے ہوئے سزا یافتہ لوگوں کو حراست میں لیا اور بھاری اسلحہ بھی بر آمد کیا، جس کا اب تک کوئی لائسنس پیش نہیں کیا جا سکا۔ البتہ یہ اعلان ہو رہے ہیں کہ لائسنس پیش کر دئے جائیں گے۔ رینجرز نے انتہائی احتیاط کے ساتھ یہ آپریشن کیا، کسی کو زدو کوب کیا اور نہ ہی مار دھاڑ کی گئی۔کراچی آپریشن کے آغاز کے بعد سے اب تک ٹارگٹ کلنگ میں بہت واضح کمی آئی ہے، اگر یہ آپریشن ایسے ہی جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب کراچی میں لوگ ہر قسم کے خوف سے آزاد ہو کر چین کی نیند سو سکیں گے۔اب وقت آ گیا ہے کہ کراچی کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں جہاں جہاں بھی شر پسند عناصر موجود ہیں، انہیں ان کے انجام تک پہنچایا جائے، چن چن کر ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا جائے، خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی رنگ، مذہب، فرقے، گروہ یا سیاسی جماعت سے ہو۔ویسے بھی یہ بات بار بار باور کرائی جا رہی ہے کہ یہ کارروائی کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہے، آہنی ہاتھ صرف مجرموں کی گردن کے لئے ہے۔ آپریشن تمام عسکری و قومی قیادت کی رضامندی سے شروع ہوا تھا، اب کسی بھی جماعت کو اپنے اولین مقصد سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔ بعض مبصرین وزیراعظم کے دورہ کراچی کے دوران ان کی ایم کیو ایم کی قیادت سے ملاقات نہ کرنے اورامن و امان کا اجلاس گورنر ہاؤس کی بجائے فیصل بیس کراچی پر کرنے اور اس میں گورنر سندھ عشرت العباد کو مدعو نہ کیے جانے پر سوالات اُٹھا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس نوعیت کے اجلاس میں گورنر شریک نہ ہوئے ہوں، ظاہر ہے اس کے تانے بانے صولت مرزا کے بیان سے بھی جوڑے جا رہے ہیں۔ویسے تو وزیراعظم متحدہ سے ملاقات کر کے ان کے مبینہ دُکھ سُن لیتے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں تھا ۔ متحدہ اب بھی ایک اہم سیاسی قوت ہے ۔جہاں تک گورنر سندھ کا تعلق ہے تو اگر وزیراعظم کا ان پر اعتماد کم ہو رہا ہے تو وہ نئے گورنر کا انتخاب کر لیں اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اُن سے یہ بے رخی کیسی؟بہرحال گلے شکوے اپنی جگہ ، حالات و واقعات جو بھی ہوں ایک بات تو طے ہے کہ اس آپریشن کو ہر حال میں جاری رہنا چاہئے، ایم کیو ایم اور باقی تمام سیاسی جماعتوں کو صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے، کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش صریحاً ناقابل برداشت اور قومی مفاد کے خلاف ہے۔

مزید : اداریہ