کسان اتحاد کنونشن کے شرکاء پر تشدداور گرفتاریوں قابل مذمت ہیں، ڈاکٹر سید وسیم

کسان اتحاد کنونشن کے شرکاء پر تشدداور گرفتاریوں قابل مذمت ہیں، ڈاکٹر سید ...

 لاہور( نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب و پارلیمانی لیڈر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سید وسیم اخترنے کسان اتحاد کنونشن کے شرکاء پر پولیس کابدترین تشدداور گرفتاریوں پر مذمت کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے واقعہ کابروقت نوٹس لینا خوش آئند ہے مگر جب تک بے گناہ کاشتکاروں پر وحشیانہ مظالم ڈھانے والے گرفتار نہیں ہوجاتے تب تک تمام اقدامات طفل تسلیوں کے مترادف ہیں۔کسان اپنے جائز مطالبات کے حق میں پر امن مظاہرہ کرنا چاہتے تھے جوکہ ان کا آئینی وقانونی حق بھی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت کا60فیصددارومدارزراعت کے شعبے سے وابستہ ہے اسے نظر اندازنہیں کیاجاسکتا۔کاشتکار ایک لمبے عرصے سے حکومت اور بیوروکریسی کی بے حسی کاشکار ہیں۔انہیں فصلوں کے صحیح نرخ،پانی کی مقدار اور سستی ملاوٹ سے پاک کھادمیسر نہیں۔آڑھتی اونے پونے کسانوں سے فصلیں خرید کرمہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ڈاکٹر سید وسیم اختر نے مزیدکہاکہ بھارت سے ڈیوٹی فری زرعی اجناس کی درآمد سے مقامی کسانوں کومسلسل نقصان پہنچ رہا ہے۔وفاقی حکومت بھارت سے درآمد شدہ زرعی اجناس پرٹیکس عائد کرے تاکہ مقامی کاشتکار اپنی محنت کاپورا صلہ پاسکیں۔کسانوں کے مسائل ان کی دہلیزپر حل ہونے چاہئیں۔مہنگائی پر قابو پانے کے لئے زرعی مداخل کے ریٹ کم کئے جائیں تاکہ زرعی پیداوارمیں اضافہ ممکن ہوسکے۔انہوں نے کہاکہ ناجائز منافع خورجوکسانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ان کے خلاف بلاامتیازکاروائی ہونی چاہئے۔کھاد کی بوری پرقیمت فروخت پرنٹ کی جائے تاکہ کاشتکاروں کواندھی مارکیٹ سے نجات مل سکے۔ملک کے86فیصد کاشتکار ساڑھے بارہ ایکڑتک کے مالک ہیں جوجننگ فیکٹریاں،سپننگ ملز اور شوگرملوں کے عتاب کاشکار ہیں۔حکومت نے اگر کسانوں کی فلاح وبہبود کے لئے کچھ نہ کیا تو معاشی زبوں حالی کے باعث اس شعبے سے منسلک افراد کی زندگی کومحفوظ بناناممکن نہیں ہوگا۔بھارت اپنے کسانوں کو طرح طرح کی مراعات دے رہاہے۔ہمارے حصے کے دریاؤں کاپانی بھی چوری کرکے اپنے کھیتوں میں لے کر جارہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران خواب خرگوش سے بیدار ہوکر ملکی کسانوں کو خوشحال بنانے کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کریں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1