بہاول پور کی قدیم عمارات، محلات، قلعے ثقافت و تہذیب و تمدن قیمتی اثاثہ ہیں،اقبال چنٹر

بہاول پور کی قدیم عمارات، محلات، قلعے ثقافت و تہذیب و تمدن قیمتی اثاثہ ...

 لاہور ( جنرل رپورٹر) صوبائی وزیر امداد باہمی ملک محمد اقبال چنڑ نے کہا ہے کہ بہاول پور کی قدیم عمارات، محلات، قلعہ جات اور ثقافت و تہذیب و تمدن قیمتی اثاثہ ہیں۔ان کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری ہم سب پر یکساں عائد ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میں بہاول پور میوزیم نہایت مثبت انداز میں خدمات سرانجام دے رہا ہے جس سے نوجوان نسل اپنے ماضی کو حال میں خوبصورت انداز میں دیکھ سکتی ہے۔وہ گزشتہ روز بہاول پور میوزیم ، انفارمیشن اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام ثقافتی ورثہ کے موضوع پر نیشنل کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وائس چانسلر دی اسلامیہ یونیورسٹی اور گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر قیصر مشتاق، پروفیسر ڈاکٹر رفیق مغل، پروفیسر ڈاکٹر عمیر صدیقی، ڈائریکٹر میوزیم حافظ حسین احمد مدنی، پروفیسر ڈاکٹر شاہد رضوی، ڈاکٹر ایلین قیصر، پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد، وسیم احمد، مسز یاسمین چیمہ، سجاد احمد، میاں عتیق احمد، علی لاشاری، زبیر ربانی، اپسارہ گل، سمیع اللہ، ملک جہانزیب وارن، شمس الرحمن، ڈاکٹر نصر اللہ خاں ناصر، فاروق احمد خاں،سول سوسائٹی کے ممبران اور طلباوطالبات بڑی تعداد میں موجود تھے۔صوبائی وزیر امداد باہمی نے کہا کہ تاریخ دان نوجوانوں کو اس خطہ کی عمارات اور آثار قدیمہ و ثقافت سے روشناس کرائیں تاکہ ان کو اپنی تاریخی و جغرافیائی معلومات حاصل ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ قدیمی عمارات بہاول پور کی پہچان ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ثقافت، ورثہ اور تاریخ کو محفوظ کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ اس خطہ کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر آ سکیں۔انہوں نے بتایا کہ دانش سکولز ،ویمن یونیورسٹی کا قیام اور یونیورسٹی آف اینمل سائنسز قائم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بہاول پور میوزیم کی بہتری اور تعمیراتی کاموں کی جلد تکمیل کے لئے وہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ ثقافتی ورثہ کو محفوظ بنانے اور ملک میں تعمیر و ترقی اور خوشحالی لانے کے لئے کردار ادا کریں۔وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی اور گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر قیصر مشتاق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہاول پور اور چولستان کی تاریخ، ثقافت اور ورثہ کو محفوظ کرنے اور اس کی تاریخی اہمیت کو نوجوان نسل تک پہنچانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اس خطہ کی قدیم تاریخی عمارات مخدوش ہو رہی ہیں۔علاقہ کے سکالرز ورثہ اور ثقافت کو محفوظ کرنے کے لئے آگے آئیں۔انہوں نے بہاول پور میوزیم کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ یونیورسٹی اس خطہ کے سماجی اقدار، علم اور ورثہ کو محفوظ کرنے کے لئے کردار ادا کرے گی۔پروفیسر آف ایمریٹس بوسٹن یونیورسٹی امریکہ پروفیسر ڈاکٹر رفیق مغل نے کہا کہ ہاکڑہ دریا ہی نہیں بلکہ تہذیب و تمدن کا مرکز تھا۔ اس خطہ میں چار پانچ ہزار سال قبل مسلسل بہنے والا دریا تھا اور اب ہاکڑہ صحرا بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا شمالی حصہ چولستان ہے جو کہ سندھ تک پھیلا ہوا ہے۔ ڈاکٹر رفیق مغل نے کہا کہ چولستان میں قدیم زمانے کی آبادی کے آثار ملے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خطہ کی تہذیب و تمدن اور پائے جانے والے برتن اور دیگر اشیاء کو محفوظ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صاحب علم و دانش اور مؤرخ اس کی تاریخ اور ثقافت کو محفوظ کرنے کے لئے کام کریں۔انہوں نے بہاول پور میوزیم کی کلچر اور تہذیب و تمدن کو ماڈل کی صورت میں محفوظ کرنے کے اقدامات اور شاندار طرز کا میوزیم بنانے پر ڈائریکٹر میوزیم حافظ حسین احمد مدنی کو مبارکباد پیش کی۔پروفیسر ڈاکٹر شاہد رضوی چیئر مین شعبہ تاریخ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے ’’پاکستان کا ثقافتی ورثہ قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے‘‘ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہاکڑہ تہذیب چولستان میں سے دریافت ہوئی جہاں چار سو سے زائد آبادیوں کے نشانات ملے ہیں۔یہ خطہ دریاؤں کی گزرگاہ ہونے کے ناطے اپنی زرخیزی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس خطہ کی دستکاری اور لوک فنکار بہت مشہور ہیں جن کی سرپرستی کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر حفیظ قیصر نے کہا کہ اس خطہ کے سیاستدان اور صاحب علم و دانش مل کر اس علاقہ کی ثقافت، تہذیب و تمدن اور ورثہ کو محفوظ بنانے کے لئے پلان ترتیب دیں۔ قبل ازیں ڈائریکٹر میوزیم حافظ حسین احمد مدنی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کلچر ہیریٹیج پر قومی سطح کی کانفرنس کا انعقاد بہاول پور میوزیم کے لئے اعزاز ہے جس میں ملک کے نامور محققین اوردانشوروں نے شرکت کی ہے۔ اس سے بلاشبہ نوجوان نسل سیکھنے اور سمجھنے کا علم ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا انعقاد راصل نوجوانوں کو ان کی ثقافت اور ورثہ سے روشناس کرانا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1