حج کوٹہ کی منڈی لگانے سے گریز کیا جائے

حج کوٹہ کی منڈی لگانے سے گریز کیا جائے
 حج کوٹہ کی منڈی لگانے سے گریز کیا جائے

  


 2012ء پیپلزپارٹی کے دور میں حج کوٹہ کی تقسیم کا پنڈورا بکس کھلنے کی وجہ سے بدنامی کا سامنا کرنا پڑا 2012ء میں وزارت مذہبی امور نے بھی منفرد اندازمیں نام کمایا اس سال جو حج کوٹہ کے نام پر بروکروں نے منڈی لگائی آج کل پھر وزارت مذہبی امور کے حلقوں میں اس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے لاوا اس وقت پھوٹا جب وزارت مذہبی امور کی طرف سے حج پالیسی 2015ء کا ڈرافٹ تیار کر کے مختلف سیکشنز کو ڈلیور کیا گیا جس میں کہا گیا ہے حج 2015ء میں 143250 افراد فریضہ حج ادا کریں گے 50 فیصد سرکاری اور 50 فیصد پرائیویٹ سکیم کے تحت جائیں گے۔ ساتھ سرکاری حج سکیم کا پیکج دیا گیا ہے۔ سرکاری حج اور پرائیویٹ حج سکیم کے لئے لازمی واجبات کی تفصیل اور سرکاری حج سکیم مکہ، مدینہ اور ٹرانسپورٹ محافظ فنڈ قربانی کی رقم کی تفصیل کے ساتھ پرائیویٹ حج سکیم کے لئے کڑی شرائط کا ذکر کرتے ہوئے اشارہ کر دیا گیا ہے وزارت اس سال بھی انرول کمپنیوں میں سے چند کو حج کوٹہ دے سکتی ہے البتہ پرائیویٹ حج سکیم کے لئے گزشتہ 9سال سے خدمات انجام دینے والے حج آرگنائزر کا یہ آخری سال ہوگا اور اگلے سال بذریعہ بولی اوپن آکشن کوٹہ کی تقسیم انرول کمپنیوں میں کی جائے گی اس سال گزشتہ سال کی سپریم کورٹ کے حکم پر کوٹہ حاصل کرنے والی 19 کمپنیاں فارغ کر دی گئی ہیں اور 2006ء سے کام کرنے والی کمپنیوں کو آخری دفعہ کوٹہ دینے کے لئے لائحہ عمل تشکیل دیا جا رہا ہے الحمدللہ روزنامہ پاکستان نے اپنی روایات کے مطابق حج پالیسی کا ڈرافٹ گزشتہ روز شائع کر دیا ہے البتہ بہت سی باتیں جو وفاقی سیکرٹری مذہبی امور سہیل عامر مرزا نے اپنی پٹاری میں بند کر رکھی تھیں وہ بھی آہستہ آہستہ باہر آنا شروع ہو گئی ہیں بیورو کریسی کا المیہ رہا ہے ہر سیکرٹری اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے اور باقی سب کو بھیڑ بکریاں تصور کرتا ہے اور یہ بھی روایت رہی ہے بیورو کریسی جو خود کرتی ہے اس کو درست اور پہلے والوں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے موجودہ وفاقی سیکرٹری جو عرصہ تک پنجاب میں اعلیٰ عہدوں پر قابل،ذہین، ایماندار افسر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے اسلام آباد میں 22 واں گریڈ ملتے ہی ان کو ایسے پر لگے۔ حج 2015ء میں 50 فیصد کے سٹیک ہولڈر پرائیویٹ حج سکیم کے منتخب نمائندے ان سے ملاقات تو کجا ان کی شکل دیکھنے کو ترس گئے۔ مخصوص لابی جو ہمیشہ سکریٹری اور ہوپ کے نمائندوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے اس دفعہ بھی نئے سیکرٹری کے درپے رہی اور ہوپ کو اچھوت بنا کر پیش کیا اور رہی سہی کسر ہوپ کے منتخب نمائندوں کی اپوزیشن نے وٹس اپ میں گروپ بنا کر سوشل میڈیا کا سہارا لے کر پوری کر دی انہوں نے ثابت کیا ہم بیورو کریسی کی طرح عقل کل ہیں ہوپ نا اہل لوگوں کا ٹولہ ہے جو ہماری نمائندگی نہیں کر پا رہے واٹس اپ پر ایسی بیہودہ گفتگو سننے کو ملی ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنے اور کردار کشی کی گھناؤنی روایت متعارف کرا دی گئی ہے افسوس یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب ہوپ کے نمائندوں کی پشت پناہی اور انہیں مضبوط کرنے کی ضرورت تھی۔ ہوپ کو اس انداز میں پیش کیا جیسے ان کے ملازم ہیں جو تنخواہ تو لے رہے ہیں مگر ان کے شیڈول کے مطابق کام نہیں کر رہے مزے داری والی بات اس وقت سامنے آئی جب اس گروپ میں وہ لوگ نمایاں ہونے لگے جو عملاً دور اندیشی کا مظاہرہ کر کے اپنی کمپنیاں فروخت کر کے موجودہ ایچ جی او کو تماشا بنانا چاہتے تھے تمام ایچ جی او سے بات سے بخوبی آگاہ ہیں ہوپ حج آرگنائزر ایسوسی ایشن آف پاکستان کی وہ نمائندہ تنظیم ہے جو اپنے ساتھیوں کی خالصتاً ویلفیئر کی بنیاد پر نمائندگی کرتی ہے کوئی فرد تنخواہ نہیں لیتا اپنا کاروبار بیوی بچوں کو چھوڑ کر دن رات ان کے مسائل کے حل کے لئے مصروف رہتا ہے۔ میرے دوست نے میرے ساتھ ملاقات میں سارا خاکہ میرے سامنے پیش کیا ہے ان کا کہنا ہے اگر آج آپ کسی کو گرانے اور نالائق ثابت کرنے میں بظاہر کامیاب ہو گئے ہیں عملاً اپنے آج کو اور اپنے کل دونوں کو برباد کر لیا ہے۔ اللہ کے مہمانوں کی خدمت کا اعزاز آپ کو دوسروں سے منفرد کرتا ہے اپنے کردار اور عمل سے آپ ثابت نہیں کر پا رہے یہ وقت ایک دوسرے کو گناہ گار ثابت کرنے یا نیچا دکھانے کا نہیں ایک دوسرے کا دست بازو بننے کا ہے۔ وٹس اپ گروپ کے لئے درخواست تحریر کر دی ہے ہوپ کے چیئرمین جناب حاجی مقبول احمد اور احسان اللہ کے حوالے سے آج بھی اپنے موقف پر قائم ہوں ایماندار لوگ ہیں عزت اللہ نے انہیں دی ہے۔ ان کا احترام کیا جانا چاہئے پیچھے باتیں کرنے کی بجائے ان کے سامنے بیٹھ کر گلے شکوے کرنا چاہئیں۔ بات دوسری طرف نکل گئی۔ حج پالیسی 2015ء کے اعلان سے پہلے حج کوٹہ حاضر ہے بولی لگانے والوں کے نیٹ ورک کی کہانی دوست نے سنائی ہے پیپلزپارٹی کے دور میں تو ایسی کہانیاں معمول تھیں۔ البتہ میاں برادران کے دور میں واقعی انہونی لگ رہی ہیں وفاقی سکریٹری اور ان کی ٹیم سے گزارش کرنی ہے خدا راہ حج کوٹہ کی منڈی لگنے کو روکئے۔ پرائیویٹ حج سکیم کا پودا جناب وکیل احمد خاں نے جس طرح لگایا واقعی قابل ستائش ہے اس پودے کی آبیاری جس طرح آغا سرور رضا قزلباش، ارشد بھٹی، شہزاد احمد اور دیگر افسروں نے کی جس انداز میں شفاف بنایا اس کی قدر کی جانی چاہئے میرے دوست جاوید اختر نے توجہ دلائی ہے حج 2014ء میں خدمات انجام دینے والی بعض کمپنیوں کا کوٹہ کم کر کے اور دو تین کمپنیوں پر پابندی لگا کر جو کوٹہ بچے گا اس کوٹہ کو مخصوص لابی بندر بانٹ کے ذریعے دے کر کرپشن کے نئے دروازے کھولنا چاہتی ہے۔ایک دفعہ پنڈورا بکس کھل گیا تو شاید بند نہ ہو سکے۔ اس لئے چند سو کے کوٹہ کو ایک سال بعد آپ نے واپس انہی کمپنیوں کو دینا ہے جن کا کوٹہ کاٹ رہے ہیں بہتر ہو گا یہ کوٹہ ان مستحق کمپنیوں میں اس سال تقسیم کریں جن کا کوٹہ 50 افراد کا ہے۔ 50 افراد والے جس طرح مینج کرتے ہیں کسی کو بلا کر سچ ضرور سنیں سارا سال دفتر کُھلارکھنا، ایاٹا، ٹورازم، انکم ٹیکس پروفیشنل ٹیکس سعودیہ میں دو سے تین دفعہ جانا جو 300 کوٹہ والے کرتے ہیں سارے مرحلے 50 کوٹہ والوں کو بھی کرنا پڑتے ہیں لائحہ عمل ضرور بنایئے مگر زمینی حقائق کے مطابق 50 والوں سے تحریری وعدہ لے لیں وہ اگلے سال ان کو کوٹہ واپس کر دیں اگر آپ نئے لوگوں کو دیں گے تو وہ واپس کیسے کریں گے؟ جاوید اختر مارکیٹ کے تجربہ کار حج آرگنائزر ہیں ان کی تجویز پر غور ہونا چاہئے۔ ہوپ کے پیڈ آف کیپٹل کے حوالے سے سیکرٹری سے مذاکرات کامیاب رہے ہیں اب پیڈ آف کیپٹل بڑھانا نہیں پڑے گا پرفارمنس گارنٹی 5 فیصد پر غور ہونا چاہئے اپنے طور پر پیڈ آف کیپٹل 10 ملین کروانے والوں کا بھی علاج ڈھونڈنا چاہئے۔ حج پالیسی 2015ء پر باقی باتیں اعلان کے بعد انشااللہ کریں گے۔

مزید : کالم