قومی اداروں کی نجکاری کا فیصلہ منظورنہیں، آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن

قومی اداروں کی نجکاری کا فیصلہ منظورنہیں، آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن

 لاہور( خبرنگار) آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے سیکرٹری جنرل خورشید احمد خاں نے قومی اداروں کی نجکاری کا فیصلہ نامنظور کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں مزدور کی کم سے کم ماہانہ اجرت 20 ہزار جبکہ بڑھاپے کی شرح پنشن دس ہزار مقرر کی جائے۔ان خیالات کاا ظہار انہوں نے آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے زیر اہتمام مزدور تنظیموں کی قومی کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ہے۔خورشید احمد خان کا کہنا تھاکہ لیبر قوانین صرف کتابوں تک محدود ہوگئے ہیں کیونکہ سیاسی آزادی کے باوجود محنت کشوں کے اقتصادی وسماجی حقوق کا کھلے عام استحصال ہورہا ہے جبکہ ملک میں غربت، جہالت،بے روزگاری اور امیر وغریب کے درمیان خلیج بڑھنے اور جاگیرداری نظام سوشل ایٹم بم کی حیثیت اختیار کررہا ہے۔ اْنہوں نے حکمرانوں اور پالیسی سازوں سے پْرزور مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں فرسودہ جاگیرداری ، سرمایہ داری نظام میں ترقی پسندانہ اصلاحات کا نفاذ کریں بلکہ اسمبلیوں اور سینیٹ میں محنت کشوں ، کسانوں ، دانشوروں کو آبادی کے لحاظ سے نمائندگی دی جائے۔کانفرنس میں پیش کی گئی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ قومی مفادعامہ کے ادارے بجلی، ریلوے، آئل اینڈگیس، پی آئی اے، نیشنل بینک، پاکستان سٹیل ملز اور دیگر مفاد عامہ کے اداروں کو مجوز ہ طور پر نج کاری کے حوالے کرنے کی بجائے اْن اداروں میں انتظامی اصلاحات کا نفاذ کرکے سیاسی مداخلت روک کر اس کی کارکردگی میں اضافہ کرتے ہوئے اسے سرکاری شعبے میں رکھا جائے۔تقریب سے آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کی صدر روبینہ جمیل، یوسف بلوچ چیئرمین، اکبر علی خان ایڈیشنل جنرل سیکرٹری، عبدالطیف نظامانی صوبائی صدر سندھ، حاجی محمد رمضان اچکزئی صدر صوبہ بلوچستان، گوہر تاج صدر صوبہ خیبرپختونخواہ، اْسامہ طارق، ارشد گجر، خوشی محمدکھوکھر، چوہدری انور گجر، غلام دستگیر میتلا، محمد جمیل بٹ، نیاز خان، بابر بٹ، محمود بٹ اور دیگر نمائندگان نے خطاب میں ملک کے تمام محنت کشوں ، محب الوطن طبقات اور سیاسی جماعتوں سے پْرزور اپیل کی کہ وہ متحد ہوکر فرقہ بندی اوردہشت گردی کی قوتوں کو ناکام کریں اور پاکستان میں،جمہوریت ، سماجی انصاف اور قومی اتحاد پر مبنی نظام قائم کرنے کی جدوجہد کو کامیاب بنانے کے علاوہ ملک سے کمسن بچوں سے مشقت ،جبری محنت اور خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کی لعنتوں کا خاتمہ بھی کیاجائے،مقررین نے پاکستان میں نو آبادیاتی دور کے مروجہ بے اثر مزدور قوانین بمعہ مائنز ایکٹ1923 ؁ ، الیکٹریسٹی ایکٹ 1910 ؁، بوائلر ایکٹ 1910 ؁، فیکٹری ایکٹ 1934 ؁، ریلوے ایکٹ 1890 ؁کو جدید تقاضوں کے مطابق کارکنوں کی فلاح وبہبو دکے لئے ترقی پسندانہ ترامیم کرے، جس سے کارکنوں کا استحصال و حادثات کا خاتمہ ہونے میں مدد ملے اور حکومت پاکستان لیبر پالیسی کے اْصولوں کے مطابق ملک میں مروجہ دیرینہ فرسودہ 72 لیبر قوانین کو یکجا کرنے کے لئے اس میں ترقی پسندانہ ترامیم کرے اور جرنلسٹ بورڈ ویج ایوارڈ پر بھی عمل کرائے نیز کارکنوں کے فلاحی لیبر قوانین ورکرز ویلفیئر فنڈ آرڈیننس 1971 ؁اور بڑھاپے کی پنشن کے قانون 1976 ؁ اور ورکرز کیلئے کمپنی میں منافع شراکت کی تقسیم ایکٹ 1963 ؁ پر موثر طور پر عمل کرانے جبکہ فرسودہ قوانین کی وجہ سے کارکنوں کی اکثریت ان کے اطلاق سے محروم ہے پر بھی زور دیا۔ خورشید احمد خان

مزید : صفحہ آخر