چار سیکنڈ آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں ،مگر کیسے؟جانئے

چار سیکنڈ آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں ،مگر کیسے؟جانئے
 چار سیکنڈ آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں ،مگر کیسے؟جانئے

  


برمنگھم (نیوز ڈیسک) غیر یقینی صورت حالات یا جلد بازی کے دوران فیصلہ سازی ایک مشکل عمل بن جاتا ہے اور اکثر ہم دباؤکے تحت غلط فیصلہ کر بیٹھتے ہیں۔ پریشانی یا دبا? کی صورت میں دماغ کا صحیح فیصلے میں غلطی کرنا ایک قدرتی عمل ہے لیکن مصنف پیٹر بریگمین اپنی نئی کتاب 4 Seconds میں صحیح اور بہترین فیصلہ کرنے کا نہایت آسان نسخہ بتاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کی کسی سے تکرار ہوجائے یا آپ کسی بحث میں مصروف ہوں اور آپ کو محسوس ہو کہ صورتحال آپ کے کنٹرول سے نکلتی جارہی ہے تو آپ کو معاملات دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینے کے لئے محض چار سیکنڈ کے وقفے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ چار سیکنڈ کا توقف کریں اور لمبی سانس لیں تو اس دوران آپ کے دماغ کو قدرتی طور پر اتنا وقت، آرام اور آکسیجن مل جاتی ہے کہ آپ صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ ذہنی دبا? محسوس کررہے ہیں اور کسی ملاقات یا انٹرویو سے پہلے گھبراہٹ کا شکار ہیں اور آپ کی پریشانی میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے تو صرف 4 سیکنڈ کے لئے تمام سوچوں کو ذہن سے نکال کر لمبی سانس لیں، نہ صرف آپ کا ذہن پرسکون ہوجائے گا بلکہ آپ آنے والے چیلنج کا بھی بہتر طور پر مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوجائیں گے۔ اگر آپ کسی اہم گفتگو یا تقریر میں مصروف ہیں اور گھبراہٹ اور بے یقینی کا شکار ہورہے ہیں تو اس صورت میں بھی چار سیکنڈ کی مکمل خاموشی آپ کے حواس کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ مصنف کہتے ہیں کہ آپ کسی بھی صورت میں خود پر قابو پانے اور حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے چار سیکنڈ کی پرسکون سانس کا طریقہ استعمال کرسکتے ہیں، یہ ہر قسم کے حالات میں آپ کی مدد کرے گا۔

مزید : علاقائی