آزادی مارچ ، پی ٹی وی پر حملے کے بعد عمران خان اورعارف علوی کی مبینہ ٹیلی فونک گفتگوسامنے آگئی

آزادی مارچ ، پی ٹی وی پر حملے کے بعد عمران خان اورعارف علوی کی مبینہ ٹیلی فونک ...
آزادی مارچ ، پی ٹی وی پر حملے کے بعد عمران خان اورعارف علوی کی مبینہ ٹیلی فونک گفتگوسامنے آگئی

  


اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) 14اگست 2014ءکو لاہور سے شروع ہونیوالے عمران خان کے آزاد ی مارچ کے بعد دھرنے کے دوران نامعلوم افراد پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت میں گھس گئے جہاں نامعلوم افراد کے پہنچتے ہی نشریات بند کردی گئی تھیں اورالزام لگایاگیاتھاکہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنان عمارت پر دھاوابول دیا اور نشریات بھی بند کردی گئیں اور اب مبینہ طورپر اُسی عرصے کے دوران عمران خان اور ڈاکٹرعارف علوی کی مبینہ ٹیلی فونک گفتگوسامنے آگئی ہے جس میں آوازیں اصلی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئیں آوازوں کوآگے پیچھے کرکے جوڑاگیاہے ۔

مبینہ آڈیوریکارڈنگ میں شروع میں ٹیلی فون کی بیل جاتی ہے اور عمران خان ٹیلی فون اٹینڈ کرتے ہیں ۔

عمران خان : یس ، ڈاکٹر صاحب ، جی

ڈاکٹر عارف علوی: نیازی صاحب میری درخواست یہ تھی کہ یہ پی ٹی وی کے اندر گھس کر نشریات بھی بند ہوگئی ہیں ۔

عمران خان : چلواچھاہے ، اب اِسے پتہ چلے گا، دباﺅ جاری رکھو، نواز کو استعفیٰ دیناچاہیے ، اِسے جاری رکھو، یہ کل جارہاہے ، ورنہ یہ مستعفی نہیں ہوگا، کل جو جوائنٹ سیشن ہے ، میں کہہ رہاہوں ، اس سے پہلے استعفیٰ دے ۔

ڈاکٹرعارف علوی: رات کو ہم نے سار ا رﺅوف صدیقی جو ایم کیوایم والوں سے بات ہوگئی تھی ،پریس ریلیز بھی تیار کرلی تھی کہ جب فون کریں گے الطاف حسین تو جاری کریں گے، انتظا رکرتے رہے رات اڑھائی تین بجے تک ، فون آیانہیں ، فاروق ستار سے بھی کافی تفصیلی بات چیت ہوئی ۔

عمران خان : ابھی ٹرائی کرلیں ، آپ کو آج بھی اپنا دباﺅ جاری رکھناہے تاکہ کل نتیجہ ملے ۔اوکے

ڈاکٹرعارف علوی: اللہ حافظ

اس ساری صورتحال پر کال کے دوران عمران خان سے گفتگوکرتے ڈاکٹرعارف علوی نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئیٹ میں لکھاکہ وہ پرائیویسی کے قائل ہیں ، کبھی کسی کی فون کال ریکارڈنہیں کی ، آوازیں اصل لگتی ہیں اور اِس میں ڈبنگ نہیں کی گئی بلکہ مختلف اوقات میں اداکیے گئے الفاط کو آگے پیچھے کرکے جوڑ دیاگیا تاکہ ایک واضح پیغام بن سکے ، مختلف الفاظ کاٹ کر ایک جگہ پر لگادیئے گئے ۔

پی ٹی آئی کے رہنماءعمران اسماعیل نے کہاکہ اس بارے میں پی ٹی آئی ترجمان یا ڈاکٹرعارف علوی بہترموقف دے سکتے ہیں تاہم وہ یہ جانتے ہیں کہ کسی بھی سیاسی رہنماءکا ٹیلی فون ریکارڈ کرناکوئی اچھی بات نہیں ۔

مزید : قومی /اہم خبریں