نوسرباز خاتون نے مظلوم بن کر پنجاب حکومت سے ایک لاکھ روپے اینٹھ لیے

نوسرباز خاتون نے مظلوم بن کر پنجاب حکومت سے ایک لاکھ روپے اینٹھ لیے
نوسرباز خاتون نے مظلوم بن کر پنجاب حکومت سے ایک لاکھ روپے اینٹھ لیے

  


لاہور(ویب ڈیسک)بیماری کا بہانہ بنا کر پنجاب حکومت سے غریب خاندان کی نوسر باز چالیس سالہ شازیہ اعجاز ایک لاکھ روپے نشے میں اڑا گئی ۔نشے اور عیاشی کیلئے والدین کی طرف سے رقم نہ ملنے پر خود کو زخمی کر کے مقدمہ درج کرانے کیلئے عدالت پہنچ گئی ۔مقامی اخبار روزنامہ خبریںکے مطابق لاہور کے علاقے ڈیفنس چڑڑ گاﺅں کی رہائشی شازیہ اعجاز کی چال چلن کے باعث پہلی شادی میں ناکامی پر کاظم نامی شخص نے دوسری شادی کی گئی جو ناکام ثابت ہوئی ۔شازیہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ والدین اسے قحبہ خانے چلانے پر مجبو ر کرتے ہیں ۔تحقیقات میں اہل علاقہ اور والدین سے معلومات حاصل کرنے بعد تحریر کیا گیاہے ۔متاثرہ خاتون شازیہ اعجاز کے مطابق میری ماں ،بھائیوں اور بھابی نے مجھے جلایا ہے ،میراوالد وفات پاچکے ہیں ،میری ماں ظالم ہے اور گھر میں جادو ٹونا کرتی ہے اور قحبہ خانہ بھی بنا رکھاہے ۔جس پر مجھے زبر دستی بٹھا نا چاہتے ہیں اور مجھے باند ھ کر مارا پیٹا جاتاہے ۔گھر والوں نے تین بار زندہ جلانے کی کوشش بھی کی۔

ان واقعات کے بعد موقع پا کر گھر سے بھاگ گئی ۔دو سال قبل میں ماڈل ٹاﺅن میں شہباز شریف کے ھر کے باہر بیٹھ گئی تھی جس پر وزیراعلیٰ نے مجھے ایک لاکھ روپے بطور ماداد دی تھی ۔متاثرہ خاتو نے یہ بھی الزام لگایا کہ بیدیاں روڈ پر واقع میو کے ڈیرے پر زبردستی رکھا گیا ۔جب متاثر ہ خاتون کی طر ف سے اس کے گھروالوں پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات مکمل کیں جس میں میں شازیہ کی ماں فرخندہ بی بی اور دیگر گھر والوں سمیت اہل علاقہ کے معززین سے معلوم کیا تو حالات اس کے برعکس نکلے ۔شازیہ کی ماں نے بتایا کہ شازیہ اعجاز ذہنی مریضہ ہے اور عرصہ دس سالوں سے گھر سے بھاگی ہوئی ہیں ۔نفسیاتی مریضہ ہونے کی وجہ سے اس نے ہمیں بدنام کرنا اور بلیک میل کرنا شروع کر رکھاہے ۔ہم غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور شازیہ پیسوں کی ڈیمانڈ پوری نہ ہونے پر ہمیں بدنام کر رہی ہے اس سے قبل شازیہ نے مختلف تھانوں میںہمارے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرکے درخواستیں دے رکھی ہیں ۔تھانے والے طلب کرتے ہیں لیکن جب ہماری طرف سے سارا ماجراہ بیان جاتاہے تو اسے برابھلا کہہ کر شازیہ کو وہاں سے بھگادیتے ہیں۔

مزید : لاہور