وہ آزاد ملک جس کا رقبہ چھوٹے بحری جہاز کے برابر ہے

وہ آزاد ملک جس کا رقبہ چھوٹے بحری جہاز کے برابر ہے
وہ آزاد ملک جس کا رقبہ چھوٹے بحری جہاز کے برابر ہے

  


لندن (نیوز ڈیسک) دنیا میں ایک ایسا آزاد ملک بھی ہے  جو بے انتہا وسیع سمندر کے عین درمیان واقع ہے، اس کا رقبہ ایک چھوٹے بحری جہاز کے برابر اور آبادی صرف 22 افراد  پر مشتمل ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ اس ملک کا ایک شہزادہ اور شہزادی بھی ہے اور اس ملک نے 1967ءسے آزادی کا اعلان کررکھا ہے۔

سی لینڈ (Sealand) نامی یہ ملک برطانیہ کے ساحلوں سے دور بین الاقوامی سمندر میں واقع ہے اور اس کی اپنی کرنسی، ڈاک ٹکٹ اور قومی ترانہ بھی ہے۔ دراصل یہ ایک پرانا قلعہ ہے جس پر دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے ایک سابقہ میجر رائے بیٹس نے قبضہ کیا تھا اور اس قلعے کو 1950ءکی دہائی میں خالی چھوڑ دیا گیا تھا۔ رائے نے جنگ کے بعد ماہی گیری اور ریڈیو براڈ کاسٹنگ کے مشاغل اختیار کرلئے لیکن برطانوی حکومت کی پابندیوں سے تنگ آکر اس نے بالآخر اس قلعے میں اپنی آزاد ریاست قائم کرنے کا منصوبہ بنالیا۔ اس نے اپنی بیوی ہوان کے ساتھ یہاں رہائش اختیار کرلی اور اسے برطانیہ سے آزاد ریاست قرار دے دیا۔

رائے اور ہوان اس ریاست کے پہلے بادشاہ اور ملکہ بن گئے۔ کنکریٹ کے دو بڑے ستونوں کے اوپر لوہے کا ایک بڑا پلیٹ فارم ہی اس ملک کی کل ”زمین“ ہے اور یہاں کے لوگ پینے کیلئے پانی بھی خود ہی صاف کرتے ہیں اور اپنی زیادہ تر خوراک اور دیگر اشیاءبرطانیہ اور یورپ سے درآمد کرتے ہیں۔

ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ایک آن لائن دکان ہے جہاں یہ اپنی ریاست کی یادگاری اشیاءاور اس ملک کے القابات بیچتے ہیں۔ آپ تقریباً 200 پاﺅنڈ دے کر اس ریاست کے نواب کا خطاب حاصل کرسکتے ہیں۔ اس منفرد ریاست کا دعویٰ ہے کہ جرمنی اور فرانس نے اس کی آزادی حیثیت کو تسلیم کرلیا ہے۔ ریاست کے بانی رائے کی وفات کے بعد اب اس کا بیٹا مائیکل اس سلطنت کا حکمران ہے۔

مزید : رئیل سٹیٹ