ہائی کورٹ ,بلدیاتی انتخابات میں پنجاب حکومت کے ملازمین کی بطور ریٹرننگ افسر تعیناتی کا قانون کالعدم

ہائی کورٹ ,بلدیاتی انتخابات میں پنجاب حکومت کے ملازمین کی بطور ریٹرننگ افسر ...
ہائی کورٹ ,بلدیاتی انتخابات میں پنجاب حکومت کے ملازمین کی بطور ریٹرننگ افسر تعیناتی کا قانون کالعدم

  


لاہور (نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ نے بلدیاتی انتخابات میں پنجاب کے سرکاری ملازمین کوہی ریٹرننگ افسرتعینات کرنے کا صوبائی قانون کالعدم کرتے ہوئے قرار دیاہے کہ آئین کے آرٹیکل 220کے تحت الیکشن کمیشن کے اختیارات اور ذمہ داریوں میں صوبے مداخلت نہیں کر سکتے ۔مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چودھری کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزاروں کے وکلاءفیاض مہر ، بختیار قصوری اور مظہرجوئیہ نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013کی دفعہ 22کے ذریعے الیکشن کمیشن کو پابند کر دیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں ریٹرننگ افسروں کی تعیناتی پنجاب کے سرکاری افسروں میں سے ہی ہو گی، حکومت کا یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت الیکشن کمیشن کو دی گئی آزادی پر حملہ اور اس کے اختیارات اور ذمہ داریوں میں مداخلت کے برابر ہے، صوبوں کو کسی بھی قسم کے انتخابات سے متعلق قانون سازی کا اختیار نہیں ہے، ،لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی اس دفعہ کوآئین سے متصاد قراردے کر کالعدم کیا جائے، وفاقی حکومت کی طرف سے سٹینڈنگ کونسل نصر احمد اور پنجاب حکومت کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نوید رسول مرزا نے عدالت میں ترمیمی ایکٹ جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن اب پنجاب کے علاوہ وفاقی حکومت کے افسروں کو بھی بطور ریٹرننگ افسر تعینات کر سکے گا جس پر درخواست گزاروں کے وکلاءنے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ایک صوبے کے الیکشن سے متعلق قانون سازی کے اختیارات کا ہے اور آئین کے تحت الیکشن سے متعلق قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے،صوبے کا نہیں، عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد بلدیاتی انتخابات میں ریٹرننگ افسروں کی تعیناتی پنجاب کے سرکاری افسروں سے ہی کرنے کی دفعہ کالعدم کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالت اس معاملے پر اپنا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرے گی ۔

مزید : لاہور