ایٹمی پاکستان کپریڈ‘‘دشمنوں کے لئے پیغامی ’’

ایٹمی پاکستان کپریڈ‘‘دشمنوں کے لئے پیغامی ’’
 ایٹمی پاکستان کپریڈ‘‘دشمنوں کے لئے پیغامی ’’

  

پاکستان نے بھارت کے طول و عرض اور بحرالکاہل میں اس کے تمام ٹھکانوں کو ایٹمی ہتھیاروں سے نشانہ بنانے کی استعداد کے حامل بیلسٹک میزائل ’’ شاہین تھری‘‘ کو پہلی بار یوم پاکستان کے موقع پر مسلح افواج کی پریڈ میں نمائش کے لئے پیش کر دیا۔ پریڈ کے دوران ائر فورس کے اواکس ’’ساب 2000‘‘ نے بھی فلائی پاسٹ میں حصہ لیا جو کامرہ ائر بیس پر دہشت گردوں کے حملے میں تباہ ہو گیا تھا، لیکن پاکستانی ماہرین نے غیر ملکی امداد کے بغیر طیارے کو مکمل طور پر مرمت کرکے اس کے فضائی آپریشنز شروع کردیئے ہیں۔ پریڈ ایونیو پر پاکستان کی فوجی طاقت و ہیبت کا شاندار مظاہرہ کیا گیا جو یہ واضح کرنے کے لئے کافی تھا کہ پاکستان، بھارت سمیت کسی بھی ملک کے لئے تر نوالہ نہیں۔ خیال رہے کہ پریڈ میں ایٹمی ہتھیاروں کی نمائش نہیں کی جاتی، لیکن ان ہتھیاروں کو ہدف پر داغنے والے تمام میزائل اور طیارے پریڈ کا حصہ تھے۔ قوم نے اس عزم کے ساتھ یوم پاکستان منایا کہ مُلک سے دہشت گردی اور شدت پسندی کی لعنت کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ دن کا آغاز اسلام آباد میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں اکیس، اکیس توپوں کی سلامی سے ہوا۔ مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ میں صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنر ل راشد محمود، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت دیگر وفاقی وزرا، غیرملکی سفارت کار اور اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی۔

مہمان خصوصی صدر مملکت ممنون حسین صدارتی بگھی پر پریڈ گراؤنڈ پہنچے، وزیراعظم اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے ان کا استقبال کیا۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز قومی ترانے سے کیا گیا، جس کے بعد صدر نے جیپ میں سوار ہو کر مسلح افواج کے دستوں کا معائنہ کیا۔ پاک فضائیہ کے طیاروں نے شاندار فلائی پاسٹ کیا۔ قیادت پاک فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل سہیل امان نے کی۔ فلائی پاسٹ میں ایف۔ 16، جے ایف۔ 17، میراج طیاروں اور پاک بحریہ کے جاسوس و نگران طیاروں نے حصہ لیا۔ مسلح افواج کے مختلف دستوں نے سلامی کے چبوترے کے سامنے پریڈ کی۔ پاکستان آرمی، فضائیہ، بحریہ، فرنٹیئر کور، رینجرز، پولیس، بوائز سکاؤٹس اور گرلز گائیڈ کے دستوں نے شاندار مارچ پاسٹ کیا اور مہمان خصوصی کو سلامی پیش کی۔ الخالد ٹینک، الضرار ٹینک اور میزائل دستوں نے بھی مہمان خصوصی کو سلامی پیش کی۔ مہمانوں کے چبوترے کے سامنے سے گزرتے ہوئے ٹینکوں کی توپوں کا رخ زمین کی جانب کردیا گیا تھا۔ مسلح افواج کی پُروقار تقریب میں پاکستان آرمی اور فضائیہ کے ایوی ایشن ونگ کے ہیلی کاپٹروں اور جنگی جہازوں نے شاندار فلائی پاسٹ کا بھی مظاہرہ کیا۔ چینی ساختہ زیڈ۔ 10، ایچ ایچ۔ 1 کوبرا، پوم اور ایم آئی۔ 17 ہیلی کاپٹروں نے فلائی پاسٹ میں حصہ لیا۔ پاک فضائیہ کے شیر دل فارمیشن نے حسب روایت شاندار فضائی کرتب دکھائے۔

ایف۔16 اور جے ایف۔ 17 تھنڈر طیاروں نے بھی فضا میں مہارت کا مظاہرہ کرکے شرکا کا لہو گرما دیا۔ پریڈ کے دوران تینوں مسلح افواج کے کمانڈوز نے قومی پرچم تھامے 10 ہزار فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگائی اور داد سمیٹی۔ ایس ایس جی کے افسروں و جوانوں کی آمد اور اللہ اکبر کے نعروں نے شرکاء کا خون گرما دیا۔

پریڈ کے موقع پر بچوں نے بھی ملی نغموں پر شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کرکے حاضرین کی بھرپور داد وصول کی۔ سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے ثقافتی ملبوسات پہنے اور پاکستانی پرچم تھامے بچے پھولوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے میدان میں داخل ہوئے تو سب کے چہرے کھل اٹھے۔ مُلک کے تمام علاقوں کی ثقافتوں کی نمائش کرنے والے فلوٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ غیرملکی سفارت کار، فوجی قوت کے مظاہرے کو بغور دیکھتے رہے۔

بیلسٹک میزائل شاہین تھری کی موجودگی کو خصوصی طور پر محسوس کیا گیا، بعض سفارت کاروں کے نزدیک اس میزائل کی نمائش کرکے پاکستان نے کھلا پیغام دیا ہے کہ اب دشمن کا کوئی علاقہ اس کے ان میزائلوں سے محفوظ نہیں جو ایٹمی ہتھیار لے جا سکتے ہیں۔ میزائل دستوں میں غزنوی، ابدالی، بطور خاص نصر میزائل اور کروز میزائل بابر نمایاں تھے۔ نمائش میں ائر فورس اور آرمی ائر ڈیفنس کے دستوں نے ملکی فضاؤں کے تحفظ کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ صدرِ مملکت ممنون حسین نے کہا کہ آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جو آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ پاکستان سے بدامنی کا خاتمہ ہماری منزل ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی شکل میں نئے دشمن کا سامنا ہے، وطنِ عزیز کو کئی بار دشمن کی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، جسے ہمیشہ دندان شکن جواب د یا گیا، آج بھی مادر وطن کے دفاع کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور اس سلسلے میں مسلح افواج کی تمام ضروریات پوی کریں گے۔ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل چاہتے ہیں، جبکہ پاکستان کشمیری بھائیوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

صدرِ مملکت نے مُلک کو درپیش داخلی و بیرونی چیلنجوں، داخلی سماجی و معاشی مسائل سمیت متعدد امور پر توجہ مرکوز کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ دشمن کا خیال تھا کہ پاکستان زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا، لیکن آج پاکستانی قوم کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان ایک مسلمہ ایٹمی طاقت اور روایتی اسلحے سے لیس مُلک ہے، لیکن ہم کبھی ہتھیاروں کی دوڑ میں شریک ہوئے ہیں نہ ہوں گے۔ مُلک میں مسائل کی بڑی وجہ میرٹ کی پامالی، اقربا پروری اور قانون پر عمل نہ ہونا ہے، تاہم حکومت مسائل کا ادراک رکھتی ہے اور ان کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ ہمیں قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد حاصل کرنا ہوں گے، کیونکہ پاکستان کو اسلامی اور فلاحی ریاست بنانے کا یہی طریقہ ہے۔ امن کے لئے پاکستان کی خدمات کا دُنیا اعتراف کرتی ہے، پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات کا خواہشمند ہے، لیکن ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ دشمن جان لے کہ پاکستان کی طرف اُٹھنے والی کوئی میلی آنکھ سلامت نہیں رہے گی۔ اقوام متحدہ، گانگو، صومالیہ، بوسنیا اور دیگر ممالک میں قیام امن کے لئے شاندار کارکردگی پر پاکستان کے کردار کا اعتراف پوری دُنیا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انسانیت کو دہشت گردی کی جنگ اور عفریت سے نکالنے کے لئے کردار جاری رکھے گا۔یوم پاکستان پر شاندار پریڈ پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے مبارکباد دی ہے۔ کہتے ہیں شرکاء نے عسکری طاقت کا غیر معمولی مظاہرہ کیا۔ عاصم باجوہ نے شاندار پریڈ پر ایک ایک شریک کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے سلامتی کی بہتر صورت حال کو آپریشن ضربِ عضب میں کامیابی کا نتیجہ قرار دیا۔

مزید :

کالم -