بین الاقوامی سیاست پرتشدد آمیز سوچوں کا غلبہ

بین الاقوامی سیاست پرتشدد آمیز سوچوں کا غلبہ
 بین الاقوامی سیاست پرتشدد آمیز سوچوں کا غلبہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

معاشرے مل کر قومیں بناتے ہیں۔ قومیں اس وقت تک تباہ نہیں ہوتیں، جب تک ان کے اندرمعاشرتی خوبیاں دھیرے دھیرے زوال پذیر نہ ہو جائیں۔

معاشرے جب اخلاقی زوال کا شکار ہوتے ہیں تو پھر ادنیٰ ترین لوگوں کو راہبر چن لیا جاتا ہے۔ معاشرے کمزور ہوتے ہیں تو قومیں مختلف گروہوں میں بٹتی چلی جاتی ہیں۔مذہب ہر ایک کے لئے حساس مسئلہ ہوتا ہے، اس لئے تمام مذاہب کے لوگوں کو برابر حقوق ریاست کے وجود کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔انڈیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کرنے والا اور گجرات کے بدترین فسادات کا مرکزی کردار نریندر سنگھ مودی، اس کے بعد امریکہ میں دوسرے مذاہب، خصوصاً مسلمانوں سے شدید مخاصمت رکھنے والا ڈونلڈ ٹرمپ اور اب پھر بھارت کی ریاست اترپردیش میں بدنام زمانہ دہشت گرد گروہ آر ایس ایس کے راہنمایوگی کا اقتدار میں آنا، کیاان معاشروں کے اخلاقی زوال کی نشانی نہیں؟جن لوگوں کی سوچ میں فساد ، انارکی، دوسرے مذاہب اور اقوام کے لئے نفرت بھری ہے، انہیں اقتدار میں لا کر اپنے ایجنڈے کی تکمیل کا موقع دینا انتہائی تشویشناک ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ایٹمی ممالک کے اندر ایسے گروہ پروان چڑھ رہے ہیں اور مسلسل طاقت حاصل کر رہے جو پوری دنیا کے لئے خطرے کی بات ہے۔

معاشرے ایسے لوگوں کو کیوں قبول کر رہے ہیں اور انہیں ووٹ کی طاقت سے منتخب کر کے اقتدار میں کیوں لا رہے ہیں، اس پہلو پر ضرور غور کرنا چاہئے جو ابھی تک ویسٹرن میڈیایا ایشیائی میڈیا میں مجھے نظر نہیں آیا کہ وہ ان محرکات پر غور کریں کہ معاشرے اس قدر اخلاقی زوال کا شکار کیوں ہو رہے ہیں؟ چند سال پہلے تک ایسے لوگوں کی منفی سوچوں کی جہاں کھلے بندوں حوصلہ شکنی کی جاتی تھی اور یہ لوگ ایک چھوٹی سی اقلیت کی شکل میں معاشروں میں کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں کرپارہے تھے، اب وہ اس قدر طاقتور ہو رہے ہیں کہ ریاستوں کی حکومتیں انہیں مل رہی ہیں۔ وہ بھی کسی آمرانہ اقدام سے نہیں، بلکہ وہ عوام کے ووٹوں کی طاقت سے اقتدار میں آ رہے ہیں۔ایسے لوگوں کو پروموٹ کرنے اور معاشرے میں دوسرے مذاہب اور اقوام سے نفرت کا آغاز بلا شبہ امریکی میڈیا نے امریکی ڈاکٹرئن کو کامیاب بنانے کے لئے کیا۔ اس کے اثرات امریکی معاشرے پر صاف محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ امریکی معاشرے کی دوسرے مذاہب کو قبول کرنے کی خوبیاں نائن الیون کے بعد میڈیا پروپیگنڈے کے اثرات کی وجہ سے کافی کم ہو گئی ہیں۔ امریکہ اب ماضی کی طرح کا روشن خیال اور مہذب معاشرہ نہیں رہا۔ اس کے اندر دوسرے مذاہب کے لئے نفرت کا زہر بڑی حد تک سرائیت کر چکا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن مہم اسی گھٹن زد ہ اور تنگ نظر ایجنڈے کو لے کر آگے بڑھی، اسے امریکیوں کی واضح اکثریت نے قبول کیااور اسے اس ایجنڈے کی تکمیل کے لئے وائٹ ہاؤس تک پہنچا دیا۔یہی کارنامہہندوستانی میڈیا نے بھی رائے عامہ کو متشدد گروہوں کے حق میں ہموار کرکے انجام دیا۔بد قسمتی سے ریٹنگ کے چکر میں اب پاکستان میں بھی ایسے گروہوں کو میڈیا پرموٹ کر رہا ہے جو لمح�ۂ فکریہ ہے ۔

ہندوستانی نیوز چینل دیکھ لیں یا پاکستانی نیوز چینل، عام سرحدی فائرنگ کے کسی واقعہ پر، جو ماضی میں اگلے دن کے اخبارات کی چھوٹی سرخی بنتی تھی، اسے آج کل فور اً بریکنگ نیوز بنا لیا جاتا ہے اور اس پر تبصرے کرنے کے لئے ایسے جوش و جنون سے لبریز شعلے اگلتے بہادر و غیرت مندوں کو میڈیا ڈھونڈ ڈھونڈ کر پیش کرتا ہے کہ ان کا بس چلے تو ابھی ایٹم بم کا بٹن دبا کر سرحد پار سب ملیا میٹ کردیں۔ان کی شعلہ بیانی سے یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے کو ئی سنجیدہ گفتگو نہیں ہو رہی، بلکہ دنیا کو جہنم بنانے کا اپنا اپنا آئیڈیا پیش کیا جارہا ہو کہ کون زیادہ آگ اگلتا ہے۔ ایسے اہم مواقع پر میڈیا تحمل ، بردباری اور برداشت سے گفتگو کرنے والے سنجیدہ لوگوں کی بجائے ایکشن ، تھرلنگ اور جذبات ابھارنے والے جوالا مکھی خصوصی طور پر سامنے لا رہا ہوتا ہے، جن کی باتوں سے نفرت بڑھتی ہے اور ایک دوسرے کو تباہ و برباد کرنے والوں کے منفی ایجنڈے کی حوصلہ افزائی ہو تی ہے۔میڈیا ریٹنگ کے چکر میں زمینی حقائق کے برعکس ہوائی قلعے قائم کرنے اور شعلے اگلنے والوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے ،جبکہ صلح جوئی اور ہم آہنگی کی بات کرنے والوں کو بزدل، ملک دشمن اور غدار جیسے القابات سے نواز کر مثبت سوچوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔۔۔میڈیا نے ریٹنگ کے چکر میں معاشروں کو زوال پذیر کیا ہے۔

وہ ممالک جہاں پچھلی کئی دہائیوں سے مختلف مذاہب کے لوگ ایک قوم کے روپ میں مل جل کر رہ رہے تھے، وہاں چند مذہبی جنونی گروہوں کو پروموٹ کرکے نفرت کی ایسی فضا قائم کی گئی ہے کہ عام شہری ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ اقلیتی مذاہب کے شہریوں کو وہاں دوسرے درجے کا شہری محسوس کرایا جانے لگا ہے۔میڈیا کی اس روش سے اقلیتوں کے حقوق بری طرح مٹاثر ہو رہے ہیں۔اکثریتی گروہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو تیسرے درجے کا شہری اور اپنا غلام سمجھنے میں خود کو حق بجانب سمجھنے لگے ہیں اور تعصب پر مبنی تنگ نظر قوانین بناکران کے لئے وہاں زندگی گذارنا مشکل کیا جا رہا ہے۔آپ سرحدی فائرنگ یا کسی حادثے کے بعد انڈو پاک میڈیا کو دیکھ لیں، ان پر آگ اگلتے رستم مزید آگ بھڑکانے کے عمل میں مصروف نظر آئیں گے۔میڈیا ایسے مواقع پر ان لفظی رستموں کو نظر انداز کر دیا کرے اور ان کی جگہ سنجیدہ اور ذمے دارانہ گفتگو کرنے والے لوگوں کو بات کا موقعہ دیا کرے تو یقین جانئے نفرت کی فضا نچلے درجے پر آ جائے اور سرحدی کشیدگی میں بھی نمایاں کمی نظر آئے۔ عوام میں دوسرے مذاہب کے خلاف نفرت نہ بڑھے گی۔ لفظوں کی جنگ ہمارے معاشروں کو برباد کر رہی ہے ۔زہر اگلتے فقرے اور غیر ضروری بڑھکیں معاشرے میں شدت پسند گروہوں کو تقویت دے رہی ہیں۔آر ایس ایس اور بے جی پی کے اندر مودی اور یوگی جیسے لوگوں کا آگے آنا اسی میڈیا ہائپ کا کمال ہے۔ہمارے ہاں بھی بعض تنظیموں اور رہنماؤں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا رہا ،لیکن دوسری طرف، کیونکہ ہم طالبان کے عظیم تاریخی ایڈونچر سے حاصل ہونے والے سبق سے کافی زخم برداشت کرچکے تھے، اس لئے ایسے گروہ اقتدار حاصل نہ کرسکے اورمنقسم پاکستانی معاشرہ دہشت گردی کے زخم چاٹتا مزید تباہی سے بچ گیا۔

ہندوستان شائد اس لذت درد کا مزہ لینا چاہتا ہے، اس لئے وہ ایسے تجربے سے گزرنا پسند کر رہا ہے ۔ مودی کے بعد ایک انتہائی متعصب تنگ نظر اور مسلمانوں سے نفرت کرنے والے یوگی کو یوپی کا وزیراعلیٰ اسی خود فریبی کے سفر کا آغاز ہے ۔ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں کو پاکستان جانے اور پاکستانی ہونے کے طعنے ملنے شروع ہو گئے ہیں۔بھارت ایسے لوگوں کو آگے لا کر خطرناک کھیل کھیل رہا ہے۔اس سے اس کے اپنے وجود کو خطرہ لاحق ہوگا اور اس عمل سے وہ اپنی حماقت سے ہندوستان کے اندر ایک اور پاکستان بننے کی راہ ہموار کرے گا۔۔۔میڈیا کو عہد کرنا ہو گا کہ وہ ریٹنگ کے منحوس چکر سے باہر نکلے اور عوامی ذہنوں کو تعمیری سوچوں کی طرف راغب کرے۔مہم جو قسم کے جنگجوؤں اور افراتفری پسند کرنے والوں کو آگے لانے اور ہیرو بنا کر پیش کرنے کا عمل روکنا ہوگا۔یہ ان ریاستوں کے لئے ہی نہیں، پوری دنیا کے لئے ایک خطرناک عمل ہے۔دنیا کے طاقتور ممالک، خصوصاً ایٹمی طاقتوں پر ایسے جذباتی،شدت پسند اور دوسروں کے لئے نفرت کا زہر اگلنے والے تنگ نظر اور متعصب گروہوں کا اقتدار میں آناپوری دنیا کے لئے کسی بڑے خطرے کی علامت ہے۔ایسے لوگوں کا اقتدار میں آنا زمین پرقیامت برپا کرنے کی خواہش ہے۔اللہ پاک رحم فرمائے اور میڈیا کو ہدایت دے کہ وہ امن پسند لوگوں کو آگے لا کر دنیا کا امن کا گہوارہ بنانے کے لئے کام کریں۔

مزید : کالم