ملتان میں خواتین کا پہلا داد رسی سنٹر

ملتان میں خواتین کا پہلا داد رسی سنٹر

  

ملتان میں خواتین کا پہلا داد رسی سنٹر فعال ہو گیا ہے، اِس سنٹر میں گھریلو تشدد، اغوا، بداخلاقی اور دیگر شکایات پر قانونی کارروائی کی جائے گی، سنٹر کا تمام سٹاف خواتین پر مشتمل ہو گا، مصالحتی کے علاوہ کونسلنگ کمیٹی بھی موجود ہو گی، ملزموں کو گرفتار بھی خواتین سٹاف ہی کرے گا، متاثرہ خواتین پہلے فرنٹ ڈیسک پر آئیں گی جہاں عملہ تعزیراتی کارروائی ہونے کی صورت میں متاثرہ خاتون کو پولیس افسر کے پاس لے کر جائے گا، جس کے بعد تحریری کارروائی مکمل ہو گی، سنٹر کے اندر ہی لیڈی ڈاکٹر بھی موجود ہوں گی، متاثرہ خاتون کی تصاویر بنائی جائیں گی، ضروری ہوا تو ڈی این اے کے لئے موقع پر ہی نمونے لئے جائیں گے، تین روز میں اِس کی رپورٹ آئے گی، پراسیکیوشن افسر متاثرہ خاتون کو قانونی امداد بھی فراہم کریں گے اور تفتیشی افسران کے ساتھ مل کر ثبوت جمع کرنے میں مدد دیں گے، تھانے میں ہی ایف آئی آر درج کی جائے گی جہاں تفتیش کے لئے ایک ایس پی سطح کی لیڈی افسر اُن کی نگرانی پر مامور ہے، جبکہ ایک انسپکٹر، دو سب انسپکٹر، دو اے ایس آئی، تین ہیڈ کانسٹیبل اور چوبیس کانسٹیبل ہیں، متاثرہ خواتین کو شیلٹر ہوم یا دارالامان بھجوایا جائے گا، احاطہ میں ہی عدالتی افسران کیسوں کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

ہمارے مُلک میں خواتین کی آبادی اب50فیصد سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، اِس حساب سے اُن کے لئے سہولتوں میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے،لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ ایسا نہیں ہو رہا، خواتین کی تعداد کے حساب سے اُن کے لئے سہولتیں بہت کم ہیں جن میں اضافے کی اشد ضرورت ہے، خصوصاً جو خواتین مختلف مصائب کا شکار ہو جاتی ہیں اُن میں اُن کی داد رسی کا تسلی بخش انتظام نہیں ہے۔ ایک زمانے میں خواتین کے لئے مخصوص تھانے بنائے گئے تھے،لیکن ان تھانوں سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ بوجوہ پوری نہیں ہوئیں، خواتین اپنے مسائل کے حل کے لئے پولیس کی مدد کے حصول سے گزیز کرتی رہی ہیں اور ظلم و جبر تو برداشت کرتی رہیں، داد رسی کے لئے تھانوں سے رجوع نہیں کرتی رہیں، نتیجہ یہ ہوا کہ خواتین تھانوں کا یہ تصور ناکام ہو گیا اور بظاہر یہی محسوس کیا گیا کہ خواتین کے اِن تھانوں کی ضرورت ہی نہیں، حالانکہ ضرورت تو تھی البتہ داد رسی کے لئے رجوع کرنے کا رجحان نہیں پنپ سکا۔ اب ملتان میں خواتین کے لئے جو وسیع تر داد رسی سنٹر قائم کیا گیا ہے جو ایشیا میں اپنی نوعیت کا سب سے پہلا مرکز ہے، جس میں بہت سی سہولتیں ایک ہی کمپلیکس کے اندر جمع کر دی گئی ہیں، دیکھنا ہو گا کہ یہ کس حد تک کامیاب ہوتا ہے، اگر تو اس سنٹر کو توقع کے مطابق کامیابی حاصل ہوئی تو پھر ضرورت محسوس ہو گی کہ ایسے سنٹر دوسرے علاقوں اور شہروں میں بھی قائم کئے جائیں، لیکن اگر یہ سنٹر توقع کے مطابق کامیاب نہ ہو سکا تو پھر جو تجربات سامنے آئیں گے اُن کی روشنی میں سنٹر کی افادیت کا ازسر نو جائزہ لینا ہو گا یا پھر ضرورت کے مطابق ردّو بدل کرنا ہو گا۔

پاکستان کے معاشرے میں خواتین خاندان کے اجتماعی نظام کا اہم حصہ ہیں،لیکن بدقسمتی سے اُن کے مسائل حل کرنے کی بجائے اُن سے چشم پوشی کا رجحان زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن دفاتر میں خواتین کی اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے وہاں بھی اُن کے لئے سہولتوں کا فقدان ہے۔ پنجاب حکومت نے کام کی جگہوں پر خواتین کی شکایات کے ازالے کے لئے بہت سے انتظامات تو کئے ہیں اور داد رسی کا یہ کمپری ہنسو مرکز جو ملتان میں قائم کیا گیا ہے اِسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ یہ مرکز اگر کامیاب ہوتا ہے تو خواتین گھر سے باہر بھی اپنے لئے ایک ایسی جگہ پا سکیں گی جہاں اُن کے مسائل سنے جائیں گے، اُن کا ازالہ کیا جائے گا اور اُنہیں تشدد سے ہونے والے نفسیاتی اثرات سے بچایا جائے گا اور اِس سلسلے میں جس قسم کے علاج معالجے کی سہولت درکار ہو گی وہ بھی فراہم کی جائے گی۔

ہمارے معاشرے میں خواتین کی بہتری کے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خواتین کو ترقی کے مساوی مواقع حاصل ہیں،لیکن آج بھی بہت سے شعبے ایسے ہیں جہاں خواتین کو اس کام کی مساوی اُجرت نہیں ملتی جو مردوں کو ادا کی جاتی ہے، پھر گھریلو تشدد ایک ایسا معاملہ ہے، جس سے صرف خواتین کو ہی سابقہ پیش آتا ہے اور عمومی طور پر مرد اس سے محفوظ رہتے ہیں، ایسی صورت میں گھر بھی خواتین کے لئے ’’غیر محفوظ‘‘ جگہ بن کر رہ جاتی ہے۔ اِن حالات میں خواتین کے لئے جدید داد رسی سنٹر کا قیام وقت کی ضرورت تھی ابھی پورے مُلک میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہے،لیکن اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گا تو ایسے مزید مراکز کی ضرورت بھی محسوس ہو گی۔ اِس کام میں پہل حکومتِ پنجاب نے کی ہے، دوسرے صوبوں کو بھی آگے بڑھنا ہو گا،لیکن جن صوبوں میں جاگیرداری کلچر کے اثرات زیادہ گہرے ہیں اور جہاں اِس جدید دور میں بھی ’’قرآن سے شادی‘‘ کا جاہلانہ تصور موجود ہے تاکہ خواتین کو اُن کے حصے کی جائیداد سے محروم رکھا جا سکے، وہاں داد رسی کے نام پر ایسے سنٹروں کی کامیابی کے امکانات محدود ہیں۔ بہرحال دیکھنا ہو گا کہ پنجاب حکومت نے اگر اِس کام میں پہل کی ہے تو وہ اسے کامیاب کرنے میں کیا کردار ادا کرتی ہے اور کیا اِس میں دوسرے صوبے بھی کوئی کشش محسوس کرتے ہیں یا پھر اس سنٹر کا حشر بھی خواتین تھانوں جیسا ہوتا ہے، جو ایک ناکام تجربہ ثابت ہوا۔

مزید :

اداریہ -