بلوچستان کی خوش رنگ تصویر

بلوچستان کی خوش رنگ تصویر

  

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ آج مُلک اور قوم فوج کی وجہ سے محفوظ ہیں، بلوچستان میں دہشت گردی آخری سسکیاں لے رہی ہے، آخری سانسیں لینے والے دہشت گرد بھی ختم کر دیں گے، دشمن کی سازشیں سی پیک کے خلاف بڑھ رہی ہیں، روکنا ہمارا کام ہے، دشمن کے آل�ۂ کار ہی بلوچستان کے حالات خراب کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، دشمن کتنا ہی ازلی، موذی اور بے ایمان کیوں نہ ہو قوم کے تعاون سے فورسز نے اس کا قلع قمع کرنا ہے۔ مذہب کے نام پر فساد کرنے والوں کا خاتمہ کریں گے۔ ترقی بلوچستان اور پاکستان کو آواز دے رہی ہے، فتح بہت قریب ہے وہ دن دور نہیں جب دہشت گردی بالکل ختم ہو جائے گی۔ لورا لائی(بلوچستان) میں سکول آف ایف سی اینڈ ٹریننگ سنٹر میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا ایف سی بلوچستان میں 64سکول چلا رہی ہے، جن میں19ہزار سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں۔ بلوچستان کے عوام نے بڑے مسائل دیکھے ہیں بہت قربانیاں دی ہیں،لیکن سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور کوششوں سے بلوچستان میں امن بحال ہوا اور خوشی ہے کہ ایف سی اپنی ذمے داریوں سے بڑھ کر کردار ادا کر رہی ہے۔ امن، تعلیم اور دیگر شعبوں میں ایف سی کا کردار حقوق العباد کی ادائیگی ہے ایف سی اِس اچھے کام کو جاری رکھے۔

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اپنی تقریر میں قوم کو ایک روشن کل کی نوید سنائی ہے اور اِس توقع کا اظہار کیا ہے کہ مُلک سے دہشت گردی بالکل ختم ہونے والی ہے اور ایسا سیکیورٹی فورسز (کے افسروں اور جوانوں) کی قربانیوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ سی پیک کے خلاف دشمن سازشیں کرتے رہتے ہیں، جنہیں ناکام بنانا ہمارا کام ہے،دراصل یہ جتنا بڑا منصوبہ ہے، جس کی وجہ سے اگر اس میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے تو ایسے تیرہ باطنوں کی بھی کمی نہیں جو اسے ناکام بنانے کے منصوبے بھی بنا رہے ہیں۔ بھارت حیلوں بہانوں سے اِس منصوبے کی مخالفت کر رہا ہے، کبھی وہ چین کی قیادت سے مل کر اپنے خبثِ باطن کا اظہار کرتا ہے اور کبھی یہ اعتراض کر دیتا ہے کہ اِس منصوبے کے تحت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں منصوبے کیوں بنائے جا رہے ہیں۔ مودی کے یہ سارے خدشات ایک ایک کر کے رد کر دیئے گئے ہیں تو اُن کی فرسٹریشن بڑھ رہی ہے، پھر بلوچستان میں تخریب کاری کے لئے بھارت نے جو منصوبہ بنایا اُس کا نیٹ ورک بھی کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کی وجہ سے ناکام ہو گیا۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے بجا طور پر سی پیک کے منصوبے کو ایک مقناطیس قرار دیا ہے، جو عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب کھینچ رہا ہے، خود بھارتی میڈیا میں یہ بات شائع ہو چکی ہے کہ دُنیا کے62 مُلک اِس منصوبے سے مستفید ہو سکتے ہیں ایسے میں ضرورت تو اِس بات کی تھی کہ مودی بھی کوئی ایسی حکمتِ عملی تیار کرتے، جس کی وجہ سے بھارت بھی اِس سے مستفید ہوتا،کیونکہ یہ صرف پاکستان کا نہیں پورے خطے کا منصوبہ ہے اور علاقے کے بہت سے مُلک اِس کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب آ جائیں گے، اُن کے تجارتی راستے سُکڑ کر چھوٹے ہو جائیں گے، کئی ممالک کو جو خشکی میں گھرے ہوئے ہیں گوادر کی بندرگاہ سے استفادہ کرنے کی سہولت میسر آ جائے گی۔ وہ اپنا تجارتی سامان کم وقت اور کم معاوضے میں باہر بھیج سکیں گے اور اپنے ممالک میں منگوا سکیں گے۔ اِن حالات میں چودھری نثار علی خان نے بروقت خبردار کر دیا ہے کہ سی پیک کے خلاف سازشیں بڑھیں گی،اُنہیں ناکام بنانا ہمارا کام ہے۔ انہوں نے ایف سی کے ایک ایسے کام کی طرف بھی توجہ دلائی، جس پر عام طور پر پردہ پڑا رہتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایف سی بلوچستان میں سکولوں کا ایک سلسلہ بھی چلا رہی ہے، جس میں20ہزار کے قریب طلبا تعلیم پا رہے ہیں یہ ایسا کام ہے، جس کی تحسین کی جانی چاہئے۔ یہ وہ خدمت ہے جو ایف سی اپنی ذمے داری سے آگے بڑھ کر ادا کر رہی ہے۔

مزید :

اداریہ -