نئی ائر کنڈیشنڈ بس کا خوشگوار سفر

نئی ائر کنڈیشنڈ بس کا خوشگوار سفر
 نئی ائر کنڈیشنڈ بس کا خوشگوار سفر

  

بس کا دروازہ کھلا، اندر سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا، بہت اچھا لگا، قدم بڑھا کر سوار ہو گئے، اندر دیکھا تو صرف تین افراد بیٹھے تھے۔ حیرت ہوئی کہ نئی ائرکنڈیشنڈ بس اور مختصر مسافر، سوچا شاید یہ ٹرمینل کے بعد دوسرا یا تیسرا بس سٹاپ ہے، آگے چل کر مزید مسافر سوار ہو جائیں گے۔’’آپ کے پاس کارڈ ہے‘‘ اچانک کنڈکٹر کی آواز آئی، اس وقت تک ہم کرایہ دینے کے لئے پرس نکال چکے تھے، ہم نے دریافت کیا، کون سا کارڈ، کیا شناخت کی ضرورت ہے، جواب ملا، جی! نہیں، ’’سمارٹ کارڈ، میٹرو بس والا‘‘ گزارش کی کہ ہمارے پاس تو نہیں ہے۔بتایا گیا کہ آپ 200 روپے کا کارڈ خرید سکتے ہیں، پوچھا: آپ کے پاس ہے تو کنڈکٹر نے کارڈ دکھایا، ہم نے چونکہ بس کے سفر کا ارادہ کیا ہوا تھا، اِس لئے فوراً 200 روپے ادا کر کے کارڈ خرید لیا،کنڈکٹر نے ہمارے سامنے سکین کیا تو ای مشین نے 20 روپے کی کٹوتی ظاہر کر دی۔

قارئین! یہ کالم گواہ ہے کہ جب کبھی سفر کی بات ہوئی تو ہم نے پبلک ٹرانسپورٹ کی بھرپور حمایت کی اور ہمیشہ تجویز کیا تھا کہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنانے سے ٹریفک کا بوجھ بھی کم ہوگا اور تنخواہ دار طبقے کی جیب پر وزن میں بھی کمی ہو جائے گی، اِس سلسلے میں ہم نے کئی بار لاہور اومنی بس سروس کی مثال دی، جو پبلک سیکٹر کی بہترین ٹرانسپورٹ سروس ثابت ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ پنجاب ٹرانسپورٹ بھی تھی جو انٹر ڈسٹرکٹ روٹ پر چلتی تھی، ہر دو سروسز عوام کے لئے بہت ہی مفید اور سہولت والی تھیں، صد افسوس کہ ان کو مرتشی سرکاری اہلکاروں اور نالائق کارکنوں نے تباہ کیا، جو سفارش یا رشوت سے بھرتی ہوئے تھے اور پھر وہ دن آ گئے جب باری باری دونوں سروسز بند ہو گئیں، تب سے اب تک عوام کسی اچھی بس سروس کا انتظار کر رہے تھے، اس دوران نجی بس سروس اور ویگن والوں کی چاندی رہی، ان فٹ گاڑیوں کو چلا کر پیسے کماتے چلے جا رہے ہیں، مسافر مجبوراً سفر کرتے اور خوار بھی ہوتے ہیں، شکایات عام لیکن شنوائی کوئی نہیں،ہم مسلسل پبلک ٹرانسپورٹ کی حمایت کرتے چلے آئے۔ اس عرصہ میں ڈائیوو سٹی بس سروس شروع ہوئی جو ریلوے سٹیشن سے ڈیفنس اور دوسرے دو روٹوں پر بھی چلیں اور پھر دائرہ کار مریدکے اور گوجرانوالہ تک بھی بڑھا دیا گیا، کرایہ زیادہ ہونے کے باوجود یہ سروس مقبول ہوئی اور بسیں اوور لوڈ چلتی رہی ہیں اور چل رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے پہلے میٹرو بس کا بیڑہ اٹھایا اور شدید تنقید اور تحفظات کے باوجود اسے چلا کر رہے ہم نے تب بھی گزارش کی کہ میٹرو بس کی افادیت اپنی جگہ،لیکن یہ شہر کے ایک روٹ پر ہے (جنوب سے شمالی) دوسرے مقامات کے مسافر پریشان ہیں اِس لئے بس سروس کے بغیر گزارہ نہیں، اللہ اللہ کر کے اب شہر کی بھی باری آ گئی،وزیراعلیٰ کی نگرانی میں 200 بہترین ائرکنڈیشنڈ بسیں منگوا لی گئیں، ان کو میٹرو اورنج ٹرین اور میٹرو بس سے لنک کیلئے شٹل سروس کے طور پر چلانے کا اعلان کیا گیا، اور ساتھ ہی کچھ روٹ بھی متعین کر کے باقاعدہ تشہیر کی گئی کہ مسافر 15، 20اور25روپے میں ٹھنڈی بس میں سفر کر سکیں گے۔ تاہم اشتہار میں صرف ای ٹکٹنگ تحریر کر کے چھوڑ دیا گیا اور تفصیل بیان نہ کی گئی۔

ہم اس سروس کے اجراء سے بہت خوش ہوئے کہ چلو، رکشا، ویگن اور نجی ٹیکسی سے نجات ملی اور ہم سستا اور آسان سفر کر سکیں گے۔ اس روز ہم گھر سے قریباً ڈیڑھ سے پونے دو کلو میٹر پیدل چل کر بس سٹاپ پر آئے تھے، بس میں سوار بہت خوش کہ سفر انتہائی آرام دہ تھا، ہر سٹاپ پر بس رکتی، دروازے کھلتے اور مسافر آگے بڑھتے، ان میں سے اِکا دُکا کارڈ والے تو کارڈ پنچ کر کے بیٹھ جاتے، عام مسافر کو جب کارڈ کی قیمت بتائی جاتی تو وہ سوار ہو نے کی بجائے ویگن کا انتظار کرنے لگ جاتا تھا۔ یوں چلتے چلتے ہم وحدت روڈ سے ہوتے ہوئے فیروز پور روڈ کے راستے قرطبہ چوک پہنچ گئے، اترنے سے پہلے بھی کارڈ پنچ کرنے کی ہدایت گاڑی ہی میں دی جا رہی تھی، کارڈ مشین کے سامنے رکھا تو اچانک جھٹکا لگا جو کم علمی کے باعث تھا، کنڈکٹر سے پوچھا کہ 200روپے کا کارڈ تھا، اچانک 55روپے رہ گئے ہیں۔ بتایا گیا کہ کارڈ کی قیمت ایک سو تیس( 130) روپے ہے، ہم حیران ہو کر دفتر چلے آئے اور حساب لگا کہ 200 روپے کے کارڈ سے تو بمشکل چار پھیرے لگیں گے۔ یوں 50روپے فی پھیرا ہوا، اِسی سوچ بچار میں دفتر کا کام مکمل کیا اور واپسی کے لئے بھی بس ہی کا رُخ کیا کہ کارڈ تو پورا کیا جائے۔ یوں بھی سفر بہترین اور خوشگوار تھا، واپسی میں چند کارڈ والوں کا ساتھ ہو گیا اور ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ تعلیم اور علم میں کتنا فرق ہے ان حضرات کے پاس سمارٹ کارڈ تھے اور یہ میٹرو کا سفر کرتے ہیں۔ یہ بتا رہے تھے کہ یہ کارڈ تا مدت استعمال ہو گا، کارڈ کی ابتدائی سیکیورٹی 130روپے ہے جو محفوظ رہے گی، جب باقی 55ختم ہونے کو ہوں تو یہ کارڈ موبائل کی طرح ری چارج کرایا جاسکتا ہے، کسی بھی میٹرو سٹیشن سے 50روپے سے ایک ہزار روپے تک کا بیلنس بھروایا جا سکتا ہے اور وہ سب محفوظ ہو گا اور سفر کیلئے کام آئے گا، اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ کارڈ شٹل سروس کے ساتھ میٹرو بس کیلئے بھی قابل استعمال ہے اور اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اگر میٹرو بس یا شٹل بس سے مسافر نے کسی اگلے لنک کیلئے سفر کرنا ہے تو ایک بس سے اُترنے اور دوسری بس میں چڑھنے، اُترنے اور سوار ہونے تک کیلئے کارڈ پنچ کرنے کا وقفہ اگر30منٹ کے اندر ہو گا تو اگلی منزل کیلئے صرف5 روپے کرایہ کٹے گا۔ یوں پورا سفر 20 یا 25 روپے میں ہو گا۔ مزید حیرت اُس وقت ہوئی جب بتایا گیا کہ اگر کسی کا دِل اُکتا جائے یا اُسے یہ سفر نہ کرنا ہو تو وہ یہ کارڈ واپس بھی کر سکتا ہے، کسی بھی میٹرو سٹیشن پر کارڈ واپس دے تو صرف 10 روپے کی کٹوتی کے بعد110روپے واپس مل جائیں گے۔ یہ تفصیل سُن کر بہت دُکھ ہوا کہ شہریوں کے علم میں کمی ہے، بس کیلئے بہت اشتہار دیئے گئے، لیکن کسی نے یہ تکلف نہیں کیا کہ کارڈ کی تفصیل بتا دے تاکہ شہری خوشی سے کارڈ خرید کر اپنا سفر آسان بنا سکیں، اب تو شہر میں بہت روٹ چلا دیئے گئے ہیں، جو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں، اب بھی ضرورت ہے کہ شہریوں کی مشکل آسان کی جائے اور اس سارے سلسلے کی تشہیر اشتہارات اور ویڈیو کے ذریعے کی جائے تاکہ غلط فہمیاں دور ہوں۔ علم بڑھے اور لوگ اس تحفے سے مستفید ہوں، اس کیلئے تجویز ہے کہ ہر ٹرمینل پر پوسٹر لگائے جائیں، کارڈوں کی فروخت اور ای چارج کا انتظام کیا جائے، وزیراعلیٰ کو بہت مبارک اور توقع کہ اِس سلسلے کو مزید بڑھایا جائے گا اور شعیب بن عزیز کی توجہ تعلیم اور علم کے فرق کی طرف،شکریہ!

مزید :

کالم -