معاشی استحکام کی جانب

معاشی استحکام کی جانب
 معاشی استحکام کی جانب

  

خبریں3ہیں، مگر یہ صرف خبریں ہی نہیں خوشخبریاں ہیں، لیکن ان خوشخبریوں کا ذکر کرنے سے پہلے اپنا ایک پنجابی شعر یاد آرہا ہے، پنجابی شاعری میں ہم نے اور توکچھ ’’کھٹیا، کمایا‘‘ نہیں، البتہ چند شعر ضرور پوری دنیا میں ’’وائرل‘‘ ہیں، یہ شعر بھی نہ صرف پوری دنیا میں مشہور ہے، بلکہ ملکوں ملکوں آباد پنجابی بولنے والے میرے اس شعر کا مختلف زبانوں میں ترجمہ اور تشریح بھی کرتے رہتے ہیں، تاکہ جن ممالک میں یہ پنجابی آباد ہیں، وہاں کے اصل مکینوں کو بھی شعر پوری طرح سمجھا سکیں، چھوٹی بحرکی غزل کا یہ شعربہت آسان اور سادہ ہے:

جھلیا!جی نوں جی ہوندی اے

ہور محبت کیہ ہوندی اے

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے جذبہ خیر سگالی کے تحت افغان سرحد کھولنے کا اعلان کیا تو ہمیں اپنا یہ شعر یاد آگیا۔ کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم پاکستان کا جذبہ ’’ جی نوں جی‘‘ اور خیرسگالی کی اعلیٰ ترین مثال ہے، افغان حکومت کا بھی فرض ہے کہ اس ’’جی‘‘ کا جواب جی سے دے تاکہ دونوں ممالک میں محبت مضبوط ہو اور نفرتیں ختم ہوں۔۔۔ اس میں بھی شک نہیں کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے ہمیں بہت ڈسا ہے، اس وقت بھی افغانستان میں بہت سارے جتھے ہیں، جو پاکستان پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم سمیت پاکستان کا بچہ بچہ ان دہشت گردوں سے آگاہ ہے۔ وزیر اعظم نے افغان سرحد کھولنے کا اعلان کرتے وقت دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ حالیہ دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، لیکن ہمسایوں کے لئے دروازے زیادہ دیر بند نہیں رکھے جاسکتے۔ وزیر اعظم خوب جانتے ہیں کہ پاکستان بالعموم اور صوبہ خیبر پختونخوا بالخصوص افغانوں کے ساتھ سماجی و معاشی رشتے رکھتا ہے۔ زیادہ عرصہ بارڈر بند رکھ کر ان رشتوں کا تقدس پامال نہیں کیا جا سکتا۔

وزیراعظم پاکستان کا جذبۂ خیر سگالی بے حد مثالی ہے اور افغان حکومت کا بھی فرض بنتا ہے کہ پیار کا جواب پیار سے دے، اپنی سرحدوں میں چھپے دہشت گردوں کا نہ صرف قلع قمع کرے، بلکہ پاکستان کے خلاف ہر قسم کی بیان بازی کا سلسلہ بھی بند کرے۔اس میں شک نہیں کہ افواج پاکستان جس کامیابی سے آپریشن رد الفساد کو آگے بڑھا رہی ہیں، اس کا ثمر بہت جلد ملک و قوم کو ملنے والا ہے، دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہونے والا ہے، افغان حکومت کو بھی چاہئے کہ اس بڑے آپریشن کی کامیابی کے لئے ہر سطح پر تعاون کرے تاکہ نوبت یہاں تک نہ آئے کہ ہماری افواج کو سرحد عبور کرکے افغانستان میں چھپے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل آپریشن کرنے پڑیں۔ افغانستان میں موجودنیٹو فورسز کا بھی فرض بنتا ہے کہ فارغ بیٹھ کر مکھیاں مارنے کی بجائے پاکستان پر حملہ آور ہونے والے دہشت گردوں کا خاتمہ کریں۔

دوسری بڑی خبر بھارت کے حوالے سے ہے، پاکستان نے بھارت کو کان سے پکڑ کر آبی وسائل میں موجود مسائل پر مذاکرات کے لئے میز پر بٹھایا ہے۔ ہندوبنیا نہ صرف پاکستان کے حصے کا پانی چوری کررہا ہے، دریاؤں پر ناجائز ڈیم بنا رہا ہے، بلکہ ہمیں دھمکی بھی دیتا رہا ہے کہ ہمارے دریاؤں کا رخ موڑ دے گا۔ حکومت پاکستان نے ماہرین کی مدد سے بھارت کو باور کرادیا ہے کہ وہ ہمارے دریاؤں کا رخ کسی طور نہیں موڑ سکتا، دوسری جانب بھارت کو اس زعم سے بھی نکالا ہے کہ وہ نئی سرنگوں کے ذریعے مزید پانی چوری نہیں کر سکتا۔ آبی وسائل میں موجود مسائل کا حل اک دوجے کو ’’تڑیاں‘‘ لگانے یا بلیک میل کرنے میں نہیں، بلکہ مذاکرات میں ہے، سو اس حوالے سے، مذاکرات کی ایک بہتر روش چل نکلی ہے جو آگے جا کر دونوں ممالک کے لئے فروٹ فل ثابت ہوگی، یوں ایک طرف دونوں ممالک کی زمینیں بنجر ہونے سے بچیں گی، بلکہ پاک بھارت کشیدگی میں بھی واضح کمی آئے گی۔

تیسری خوشخبری پاکستان کے معاشی استحکام کے حوالے سے ہے، امریکی جریدے ’’یو ایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ‘‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان معاشی طور پر دنیا کے مضبوط ترین ممالک میں شامل ہو گیا ہے اور اس وقت دنیا کا 23واں مضبوط ترین معیشت کا حامل ملک ہے۔مذکورہ رپورٹ میں امریکہ، روس، چین ، برطانیہ سمیت پاکستان کو دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شامل کیا گیا ہے اور ایسے 50 ممالک کی فہرست ترتیب دی گئی ہے جو حالیہ برسوں میں معاشی طور پر ترقی و کامرانی کی نئی منزلیں طے کررہے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اقتصادی و معاشی ترقی کی نئی راہیں تلاش کی ہیں اور موجودہ حکومت کی دانشمندانہ پالیسیوں سمیت نئی معاشی اصلاحات کی بدولت پاکستانی معیشت کو بے بہا ’’بوسٹ‘‘ ملا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ اس بڑی کامیابی کے پیچھے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا وژن اور وزیر خزانہ اسحق ڈار کی انتھک محنت ہے۔ اس موقع پر ہمیں ممتاز صوفی شاعر میاں محمد بخش کا شعر یاد آرہا ہے:

مالی دا کم پانی لانا بھربھر مشکاں پاوے

خالق دا کم پھل پھُل لانا، لاوے یا نہ لاوے

لیکن لگتا ہے کہ خالق کائنات میاں محمدنواز شریف اور اسحق ڈار کے مشکیزوں پر مہربان ہوئے ہیں، انہوں نے معاشی کھیتی کو مشکیں بھر بھر کرجو پانی لگایا ہے،اس کی بدولت خوب پھل پُھل آرہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ معاشی استحکام کا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے اندر خوشحالی کا نیا سورج طلوع ہوگا، ہر طرح کی غربت، بیروزگاری، بھوک، افراتفری اور نفسا نفسی کا دور دورہ ختم ہوگا اور نعرے بازی سے ہٹ کر روٹی، کپڑے اور مکان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا۔ کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں خوفناک دہشت گردی اور سیاسی استحکام کے باوجود اپنی معاشی سِمت بہتر کی ہے، جب پاکستان بہتر حالات میں اپنا سفر شروع کرے گا تو ترقی کے حوالے سے ’’ دن دگنی، رات چوگنی‘‘ کا محاورہ سو فی صد فٹ بیٹھے گا۔۔۔آخر میں اس دُکھ کا اظہار لازم ہے جو سپاٹ فکسنگ میں ملوث پاکستانی کرکٹروں نے پوری قوم کو دیا ہے۔ ہم پی ایس ایل کروا کر پوری دنیا میں خود کو سر بلند کر چکے تھے، ہر کسی کی نظریں پاکستان کے عروج پر تھیں، لیکن بدقسمتیوں کا کیا کیا جائے کہ ہوس پرست چند کھلاڑیوں نے قوم کا ’’مورال‘‘ ڈاؤن کیا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ کرکٹ کے لئے دھبہ بننے والے ایسے کھلاڑیوں کو سخت سزا ملے۔

مزید :

کالم -