پیپلزپارٹی پنجاب میں دوبارہ قدم جمانے کے لئے کوشاں (1)

پیپلزپارٹی پنجاب میں دوبارہ قدم جمانے کے لئے کوشاں (1)
 پیپلزپارٹی پنجاب میں دوبارہ قدم جمانے کے لئے کوشاں (1)

  


ذوالفقار علی بھٹو نے فیلڈ مارشل ایوب خان کی عنایت کردہ وزارتِ خارجہ کو چھوڑ کر پاکستان پیپلزپارٹی کے نام سے نومبر 1967ء میں جو نئی سیاسی پارٹی قائم کی ، پورا مغربی پاکستان اس سیاسی پارٹی کا دیوانہ ہو گیا۔ ایک تو اس کا روٹی، کپڑا، مکان کا نعرہ ہی بہت زبردست تھا۔ دوسرے 1958ء میں مارشل لاء نافذ کر کے اقتدار پر زبردستی فوجی قبضہ کو بہت عرصہ گزر چکا تھا اور لوگ اب ہر صورت میں جمہوری عمل کی واپسی کے خواہاں تھے۔ گو اس نعرے اور پارٹی کو پاکستان کے دوسرے صوبہ، یعنی مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں پذیرائی نہ مل سکی، کیونکہ وہاں عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن نے علیحدگی کے بیج بو دیئے تھے،لیکن جہاں تک مغربی پاکستان کا تعلق ہے اس کے حصوں،یعنی پنجاب۔ سرحد۔ بلوچستان اور سندھ میں ہر جگہ بھٹو زندہ باد کے نعرے گونجنے لگے۔

بھٹو نے اگلے تین سال، یعنی 1968-69ء اور1970ء مُلک بھر کی یونیورسٹیوں کے دوروں میں صرف کئے اور خاص طور پر21 برس اور اس سے زیاہ عمر والے ووٹروں پر ہی اپنی تمام تر توجہ دی۔(یاد رہے کہ آئین پاکستان کے تحت اس وقت ووٹر کی عمر 21 سال تھی جسے بعد میں آئینی ترمیم کے ذریعے18برس کر دیا گیا تاہم 1970ء کے عام انتخابات میں ووٹر کی کم سے کم عمر21برس ہی تھی)

نوجوانوں نے سارے مغربی پاکستان میں بیرسٹر بھٹو کو خوش آمدید کہا اور اُن کے جلسوں، جلوسوں کی زینت بنے، جبکہ پارٹی سربراہ نے بھی الیکشن1970ء کے وقت پارلیمینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے زیادہ تر ٹکٹ انہی نوجوانوں کو(بلکہ جیالوں) کو دیئے اور وہی ہر جگہ وزارتوں میں بھی دکھائی دیئے۔ الیکشن کا نتیجہ آیا تو مغربی پاکستان میں بھرپور اکثریت پاکستان پیپلز پارٹی کو ملی،جبکہ پاکستان مسلم لیگ (کونسل) کو برائے نام چند نشستیں ملیں۔ مشرقی پاکستان میں اکثریت عوامی لیگ کو ملی۔ وہاں پر پی پی پی کا کوئی نام لیوا بھی نہ تھا۔

اس داستان میں جائے بغیر کہ کس طرح اُس وقت صدرِ پاکستان جنرل یحییٰ خان نے قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلوا کر ہمارے مشرقی پاکستانی بھائیوں کو ہم سے بدظن کر دیا اور انہوں نے آزاد مُلک بنانے کے لئے بھارت کی مدد حاصل کر کے جنگ 1971ء کا سامان پیدا کر دیا اور ہمیں جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ہمارے بھائی ہم سے مشرقی پاکستان کا حصہ کاٹ کر الگ ہو گئے اور ہمارے 95ہزار سول اور فوجی ملازمین جنگی قیدی بنا لئے گئے۔ بیرسٹر بھٹو کی حکومت مغربی پاکستان میں قائم ہو گئی۔ اس وقت تک چونکہ ون یونٹ بھی ختم ہو گیا تھا، لہٰذا آسانی کے ساتھ چاروں صوبوں،یعنی پنجاب۔ سرحد۔ بلوچستان اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومتیں قائم ہو گئیں اور وفاقی سطح پر پیپلزپارٹی نے بیرسٹر بھٹو کو وزیراعظم منتخب کر کے حکومت قائم کر لی۔ اقتدار سنبھالتے ہی بیرسٹر بھٹو نے اپنی پہلی توجہ بھارت سے جنگی قیدی رہا کرانے اور مُلک کے اقتصادی نظام کو تبدیل کرنے پر صرف کر دی۔ ایک طرف اقوام متحدہ کو ثالث بنا کر بھارت کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا گیا تو دوسری جانب ساڑھے پانچ ہزار کے قریب مُلک کے بڑے کارخانے اور صنعتی ادارے قومی تحویل میں لے لئے گئے اور اعلان یہ کیا گیا کہ محض22خاندانوں نے مُلک کا استحصال کیا ہوا تھا، لہٰذا اب کروڑوں مزدوروں کو صنعتی اداروں اور کارخانوں کی آمدنی میں حصہ دار بنایا جائے گا اور جہاں اُن کے معاوضوں میں اضافہ کیا جائے گا وہاں ٹریڈ یونین ازم کے حقوق کی رو سے اُنہیں اپنی ملازمتوں کا استحکام بھی ملے گا تاکہ کوئی سیٹھ ساہوکار یا فیکٹری مالک اُنہیں نوکری سے نکالنے کی جرأت نہ کر سکے۔ اگر کسی صنعتی کارکن کا قصور ہو تو اسے سزا دینے کا اختیار اس غرض کے لئے بنائی گئی خصوصی عدالتوں کو ہو جو فریقین کا وقف سُن کر ہی کوئی فیصلہ دیں۔

تو جناب یہی وہ نکت�ۂ آغاز ہے جہاں سے اتفاق فونڈری لاہور کے مالک میاں محمد شریف کے بیٹوں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی نسبتاً سادہ زندگی کا خاتمہ اور سیاسی زندگی کی شروعات ہوئیں۔ قومی تحویل میں لی گئی صنعتوں میں اتفاق فونڈری بھی شامل تھی۔ سردی ہو یا گرمی صبح ساڑھے سات بجے ہی دفتر میں میاں شریف کے ساتھ جانے والے میاں نواز اور شہباز ،والد کو اپنے دفتر میں چھوڑ کر کالج چلے جاتے اور وہاں سے واپسی پر والد کے کاروبار کا حصہ بن جاتے تھے، فیکٹری چلی گئی تو بچوں کی یہ مصروفیت ختم ہو گئی۔ مشکلات خصوصاً مالی مشکلات کا دور آیا تو میاں صاحبان کے بہت سے خاندانی دوستوں نے اپنا اپنا حصہ ڈال کر دوستی کا حق ادا کیا اور شریف خاندان کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا پورا پورا موقع دیا اور اس خاندان نے لاہور سے 12 سے13کلو میٹر کی دوری پر پرائیویٹ فونڈری قائم کر کے پھر سے لوہے کا اپنا کام شروع کر دیا۔ تاہم نوجوان نواز شریف کی جبلت(INSTINCT) میں ہی پیپلز پارٹی سے دشمنی کا ایسا عنصر پیدا ہوا جو پھر آنے والے وقتوں میں کم کم ہی باہر نکال سکا۔ (کس کس طرح متاثرہ صنعت کاروں کے ساتھ وہ بھٹو دشمنی میں آگے آگے رہے) کس کس طرح میڈیا پر متاثرہ خاندانوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش جاری رکھی کہ بیرسٹر بھٹو نے صنعتیں قومی تحویل میں لے کر پاکستان کو صنعتی ترقی میں سو سال پیچھے دھکیل دیا ہے اور صنعتکار اپنا پیسہ مُلک سے باہر لے جانے پر مجبور ہوئے ، اس کی ایک مسلسل اور طویل داستان الگ ہے۔

بیرسٹر بھٹو کا زوال شروع ہوا اور جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا تو صوبوں میں گورنر راج قائم کر دیا گیا۔ انہوں نے تلاش کر کر کے چاروں صوبوں میں پیپلزپارٹی کے دشمنوں کو ساتھ ملایا اور پنجاب کے اُس وقت کے گورنر اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر غلام جیلانی خان نے میاں نواز شریف کو پنجاب کا وزیر خزانہ نامزد کر دیا۔ یوں میاں نواز شریف الیکشن کے ذریعے نہ سہی، نامزدگی کے ذریعے ہی سہی سیاست کے افق پر اُبھرے۔ تاہم جہاں تک پیپلزپارٹی دشمنی کا سوال ہے وہ اپنی جگہ بلکہ گھٹی میں شامل ہو کر قائم و دائم رہا۔ ایک طرف خود ضیا الحق نے بھی پی پی پی کو ختم کرنے کی ٹھان لی اور مجلس شوریٰ میں بہت سے جیالوں اور پی پی پی رہنماؤں کو بھی شامل کر لیا، جبکہ دوسری طرف ’’میری عمر بھی نواز شریف کو لگے‘‘ کا جو نعرہ انہوں نے چند برس بعد لگایا اس پر بھی کام شروع کر دیا۔ غیر جماعتی انتخابات 1985ء میں کرائے گئے تو میاں نواز شریف کو پنجاب کا وزیراعلیٰ منتخب کرا لیا گیا اور یوں لاہور کا ایک ’’سوہنا منڈا‘‘ پنجاب کا چیف ایگزیکٹو بن گیا۔ اُن کی صلاحیتوں کو مزید پالش کرنے کے لئے محمد حسین حقانی عرف حسین حقانی کو(جو بعد میں غلام مصطفی جتوئی قائم مقام وزیراعظم کے پریس سیکرٹری وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات۔ سری لنکا اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر بھی رہے) پنجاب میں میاں نواز شریف کا سپیشل اسسٹنٹ(بلکہ وزیر اطلاعات) تعینات کرایا گیا۔ (جاری ہے)

1986-87ء کا یہ وہ زمانہ تھا جب میاں نواز شریف کے مری کے پرانے دوست حسن محمود پیرزادہ عرف حسن پیرزادہ کی زیر نگرانی ایک ایسی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کے ذمے صرف یہ کام تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو دوسرے صوبوں سے نہیں تو کم از کم پنجاب سے نکال دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ یہ کمیٹی پرائیویٹ سطح کی تھی۔ فنڈز بھی اس کے لئے انہی لوگوں سے لئے گئے، جو صنعتوں کو قومی تحویل میں لینے کی بدولت پہلے سے ہی اس کے خلاف تھے۔ ضیا الحق نے کافی صنعتیں پرانے مالکان کو واپس بھی کر دی تھیں،لیکن پھر بھی بینک اور انشورنش کمپنیاں واپس نہیں ہو سکی تھیں۔ یہ وہی زمانہ تھا جب آگے چل کر1988ء کے الیکشن میں میاں نواز شریف تن تنہا مُلک کی ایک بڑی اور مضبوط پارٹی،یعنی پی پی پی کے خلاف، بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف میدان میں آئے تو چاروں صوبوں کے عوام اُن کے گرویدہ ہو گئے۔ وہ جہاں بھی جلسہ کرنے (خصوصاً پنجاب میں) جاتے اور لوگوں سے بھرپور انداز میں سوال کرتے کہ لوگو بتاؤ، روٹی، کپڑا اور مکان کون دیتا ہے تو ہزاروں آوازیں آئیں کہ ’’اللہ، تو وہ بھی ہاتھ اُٹھا کر کہتے کہ بے شک روٹی کپڑا اور مکان اللہ دیتا ہے،لیکن یہاں ایک سیاسی پارٹی کہتی پھرتی ہے کہ ہم دیتے ہیں اس پر چاروں طرف سے ’’لعنت، لعنت‘‘ کے نعرے لگتے۔ یہ نعرہ اِس قدر عام ہوا کہ اس کی پانچ پانچ منٹ کی دستاویزی فلمیں بنا کر سینما گھروں میں چلائی گئیں۔ یوں پی پی پی کی توڑ پھوڑ کا آغاز پنجاب سے کر دیا گیا۔ لاکھوں مساجد میں جمعہ کے خطبہ میں امام صاحبان یہی کہنا شروع ہو گئے کہ کوئی سیاسی پارٹی روٹی، کپڑا اور مکان نہیں دیتی۔ کروڑوں پمفلٹ تقسیم کرائے گئے اور کروڑوں پمفلٹ مساجد کی دیواروں پر اسی مضمون کے لگائے جاتے رہے اور پھر چل سو چل یہ سلسلہ جاری و ساری رہا اور میاں نواز شریف آگے چل کر جب وزیراعظم (1990ء) بنے تو اس مشن کو مزید تقویت حاصل ہوئی۔ پیپلزپارٹی کو خاص طور پر پنجاب سے ختم کرنے کے جس کام کا آغاز 1987-88ء میں ہوا تھا وہ اس تواتر کے ساتھ جاری رہا کہ آخر 2013ء میں یہاں پر اس پارٹی کی آخری ہچکی سنائی دی۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پنجاب میں پی پی پی کا جہاز ایک ایسے گہرے سمندر میں چین کی نیند سو رہا ہے جسے کوئی معجزہ ہی واپس سطح سمندر پر لا سکتا ہے۔ رہی2007ء والی میثاق جمہوریت کی بات، تو اس کے بارے میں تو برادر خورد رؤف کلاسرہ ہی بہتر رائے دے سکتے ہیں کہ آخر کیوں کر میاں نواز شریف نے اور کس دِل کے ساتھ اس پر اپنے دستخط کئے تھے۔

جہاں تک اس پارٹی کو پنجاب سے باہر نکالنے کی جدوجہد ہے تو اس کا تمام تر سہرہ میاں نواز شریف کے سر ہے البتہ کچھ حصہ مشرف دور میں چودھری ظہور الٰہی کے خاندان نے بھی اس کام میں ڈالا ہے۔ جب چودھری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی کے ذریعے پیپلزپارٹی کے منتخب ارکان پارلیمینٹ سے پاکستان مسلم لیگ (ق)کے لئے ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنانے کے لئے ووٹ لیا گیا۔(فیصل صالح حیات نواز شکور وغیرہ) پی پی پی کے پنجاب سے تعلق ر کھنے والے زعما کو پلاٹوں کی سیاست کے ذریعے ہی نہیں ایل این جی۔ سی این جی۔ پٹرول پمپس وغیرہ کی سیاست میں بارہا اُلجھایا گیا۔ اس پر تو اب بہت سی کتابیں بھی آنے والی ہیں۔میثاق جمہوریت کو ویسے بھی اب دس برس کا عرصہ ہو چلا ہے اور اس کا طلسم بھی اب وہ نہیں رہا، جو شروع میں تھا۔میرا جہاں تک یقین ہے اگر آنے والے الیکشن میں آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کے لئے میاں نواز شریف سے پنجاب میں کچھ قومی یا صوبائی اسمبلی کی نشستیں بھیک میں بھی مانگیں تو یہ صریحاً ظلم و زیادتی ہو گی اگر اس درخواست پر کسی نے غور بھی کیا۔میرے خیال میں تو حمزہ شہباز شریف کھلم کھلا مخالفت کریں گے اور کہیں گے کہ پیپلزپارٹی کے لئے ذرہ بھر بھی لچک نہ دکھائی جائے۔ یہ وہی پارٹی ہے جس کے سربراہ، یعنی بھٹو نے پنجاب میں ہر سال وزیراعلیٰ تبدیل کئے،بلکہ ایسے ایسے قصے بھی سُننے کو ملے کہ جب حنیف رامے کو نکال باہر کیا گیا تو وہ وائی ایم سی اے ہال لاہور میں ایک جلسہ کی صدارت کر رہے تھے۔ وہاں پر کمشنر لاہور یہ پیغام لایا کہ آپ جلسہ ختم کریں اور پیدل گھر روانہ ہو جائیں(وہ بھی ننگے پاؤں) کیونکہ اب آپ چیف منسٹر نہیں ر ہے۔ سرکاری گاڑی بھی واپس بلوا لی گئی ہے۔

آصف علی زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب حسین حقانی نے ہی دیا تھا جب وہ میاں نواز شریف کی ٹیم میں تھے۔ (1988-89ء) اور بعد میں مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ کا خطاب بھی اُنہی کا دیا ہوا ہے۔ لہٰذ کسی بھی طرف سے اب اگر پنجاب میں پی پی پی اپنے اربوں روپے خرچ،یعنی تباہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے تو اس پیسہ کو بچا لے۔پاکستان پیپلزپارٹی کا اگر صوبہ پنجاب کے لئے کوئی میڈیا سیل یا میڈیا کے لئے دیکھ بھال کرنے والا کوئی مخلص شخص یا گروپ یہاں موجود ہے تو وہ بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے پارٹی کے مالکان،یعنی سیٹھ صاحبان تک یہ صورتِ حال پہنچائیں تاکہ اُنہیں بھی مکمل آگاہی حاصل ہو۔ یہ وہی صوبہ ہے جہاں ریڑھی والے سے لے کر تانگہ بان تک اور تھڑے پر بیٹھ کر داستان سنانے والے سے لے کر اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے جیالے بھی پی پی پی کے لئے ہر وقت جان لڑانے کے لئے تیار رہتے تھے۔ اُن دنوں توپارٹی کے جلسوں اور جلوسوں میں جگہ کم پڑ جاتی تھی،لیکن پھر ایسا ہوا کہ محترمہ بے نظیر برسر اقتدار آئیں تو پارٹی کارکنوں کو کسی نے بھی نہ پوچھا اور یہی واردات اُن کے ساتھ ایک بار پھر 1993ء میں بھی ہو گئی۔ چنانچہ انہوں نے اس کا بدلہ1997ء میں ایسے لیا کہ یہ جیالے1997ء کے عام انتخابات میں پورے پنجاب کی کسی بھی یونین کونسل میں ووٹ دینے سرے سے پولنگ سٹیشنوں پر ہی نہیں گئے اور پی پی پی الیکشن ہار گئی۔ اللہ تعالیٰ کے کرم سے اب تو یہ جیالے ساٹھ ستر سال سے بھی زیادہ عمر کے ’’بابوں‘‘ میں ڈھل چکے ہیں،لہٰذا یہ اب جواب میں صرف یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ’’جاؤ۔ بابا اللہ بھلا کرے۔ ہمارے آرام میں مت دخل دو‘‘۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے1972ء کے بعد آج تک کبھی نوجوانوں کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا، نہ ہی اُن کا کوئی معروف یا مقبول لیڈر کبھی کسی یونیورسٹی میں طلباء سے خطاب کرنے گیا ہے اور نہ ہی آج تک ایسی کوئی تقریب منعقد کی گئی ہے، جس سے صرف اور صرف 18سے25 یا تیس برس عمر کے لوگوں کو بلوایا گیا ہو یا اُن کی عمر کے نوجوانوں کا کوئی کنونشن منعقد کرایا گیا ہو۔

مزید : کالم