داد رسی سنٹر کا قیام : بہت بڑا کارنامہ

داد رسی سنٹر کا قیام : بہت بڑا کارنامہ
داد رسی سنٹر کا قیام : بہت بڑا کارنامہ

  

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف یا وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف جب بھی ملتان آتے ہیں تو یہاں کے مسلم لیگی رہنما انہیں مُنہ دکھانے کے لئے ساری تقریب کو اتھل پتھل کر کے رکھ دیتے ہیں، یہ لیگی رہنما ملتان کے عوام کی کیا خدمت کر رہے ہیں؟ اس کا کم از کم مجھے تو کچھ پتہ نہیں، البتہ جب وزیراعلیٰ نے آنا ہو تو یہ سب کلف لگے کپڑے پہن کر تقریب میں پہنچ جاتے ہیں، پھر یہ حکم بھی جاری کرتے ہیں کہ اُنہیں ہر صورت اگلی صفوں میں بٹھایا جائے تاکہ وہ وزیراعلیٰ کو اپنا مُنہ دکھا سکیں۔ مجھے یاد ہے جب میٹرو بس منصوبے کا افتتاح ہوا تو یونیورسٹی کا جناح آڈیٹوریم وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی آمد سے پہلے ہی کھچا کھچ بھر چکا تھا، اگلی نشستوں پر انتظامیہ غیر ملکی سفیروں اور باہر سے آئے ہوئے دیگر مہانوں کو بٹھانا چاہتی تھی، مگر ان پر مقامی لیگی کارکن اور رہنما قابض ہو چکے تھے۔ ہم نے خود دیکھا کہ مہمان پچھلی نشستوں پر جگہ ڈھونڈتے رہے۔ اِس بار یہ قصہ اُس تقریب میں دہرایا گیا جو خواتین کے داد رسی سنٹر کے افتتاح کے موقع پر سجائی گئی۔ وزیراعلیٰ کی آمد سے پہلے ہال کے اندر گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا۔ ضلعی انتظامیہ کے افسران چاہتے تھے کہ اگلی نشستیں وزیراعلیٰ کے ساتھ آنے والے مہمانوں اور غیر ملکی سفارت کاروں کے لئے محفوظ رکھی جائیں، لیکن لیگی رہنما بضد تھے کہ وہ اُن پر بیٹھیں گے۔ معاملہ توتکار اور گرمی سردی تک پہنچ گیا۔ لیگیوں کا غصہ دیکھ کر بے چارے ای ڈی سی جی زاہد اکرم جان بچا کر نکل گئے، ہر لیگی رہنما، جن میں خواتین بھی تھیں، یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح اپنا چہرۂ مبارک وزیراعلیٰ کو دکھا سکے، جیسے وہ اُن کا چہرہ دیکھنے ہی تو ملتان آئے تھے۔ انہیں جہاں سے کوئی انتظامیہ کا آدمی اٹھانے کی کوشش کرتا وہ اونچی آواز میں شور مچا کر یہ کہنے لگ جاتا تم وزیراعلیٰ کے خلاف سازش کر رہے ہو، ہمیں اُن سے دور رکھنا چاہتے ہو۔ عجیب بات ہے کہ یہ لوگ عوام سے تو کوسوں دُور ہیں، مگر وزیراعلیٰ کے قریب رہنا چاہتے ہیں، ایسے لوگوں سے مسلم لیگ(ن) کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے، اس پر وزیراعلیٰ کو بھی غور کرنا چاہئے۔

خیر اس جمل�ۂ معترضہ کے بعد اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ ملتان میں ایشیا کا پہلا خواتین داد رسی سنٹر کھل گیا ہے، جس روز وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف اِس سنٹر کا افتتاح کرنے ملتان پہنچے، اُسی شام سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی بھی ملتان آئے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں اِس بات پر تنقید کی کہ وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف اُن کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میاں محمد شہباز شریف نے جس خواتین داد رسی سنٹر کا افتتاح کیا ہے، وہ اُن کا منصوبہ تھا جو انہوں نے ویمن کرائسز سنٹر کے نام سے شروع کیا۔ اِسی طرح چلڈرن کمپلیکس، کڈنی سنٹر، کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ کی توسیع کے منصوبے بھی انہی کے دور میں شروع ہوئے۔ میاں محمد شہباز شریف نے صرف ایک جنگلہ بس بنائی ہے، جس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں۔ یہ منصوبہ صرف کمیشن کھانے کے لئے بنایا گیا۔ میاں محمد شہباز شریف نے اگرچہ اپنی تقریر میں کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ اُن سے پہلے ہر منصوبے میں کمیشن کھایا جاتا رہا، مگر اُن کے دور میں ہر منصوبہ شفاف ہے۔ اُن کا اشارہ غالباً آصف علی زرداری کے الزامات کی طرف تھا، کیونکہ اُس وقت تک پرویز الٰہی کی پریس کانفرنس نہیں ہوئی تھی، اس سے پہلے تو پرویز الٰہی یہ الزام دیتے رہے ہیں کہ میاں محمد شہباز شریف نے ہر اُس منصوبے پر کام روک دیا جو ہم نے شروع کیا، مگر ملتان میں تو انہوں نے یہ کہا کہ میاں محمد شہباز شریف اُن کے شروع کردہ منصوبوں کا افتتاح کر رہے ہیں۔ اِس کا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ میاں محمد شہباز شریف نے پرویز الٰہی کے منصوبوں پر خطِ تنسیخ نہیں پھیرا، بلکہ اُنہیں پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں منصوبوں کا اعلان یا انہیں شروع کرنا کتنا آسان ہے،اصل بات ان کی تکمیل ہے، جو اکثر نہیں ہوتی۔

ملتان میں چلڈرن کمپلیکس، کڈنی ہسپتال اور خواتین دادرسی سنٹر کے منصوبوں کی تکمیل خوش آئند ہے۔ اس پر تنقید کی بجائے اطمینان کا اظہار کیا جانا چاہئے کہ یہ منصوبے مکمل ہو گئے۔ جہاں تک خواتین کے لئے داد رسی سنٹر کے قیام کا تعلق ہے تو یہ ایک بہت بڑا کام ہوا ہے،خاص طور پر جنوبی پنجاب کے دِل ملتان میں اس کا قیام ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ جنوبی پنجاب میں خواتین کے خلاف جرائم کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ غربت، جہالت، وڈیرا شاہی اور عورت کے بارے میں متعصبانہ سوچ اس کے بنیادی اسباب ہیں۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں خواتین انصاف کے لئے تھانوں کے سامنے خود سوزی کر لیتی ہیں مختاراں مائی کیس جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں، شوہر بیویوں پر تیزاب پھینک دیتے ہیں یا پھر اُن کی ناک کاٹ کر اُنہیں عمر بھر کے لئے عبرت کا نشان بنا دیتے ہیں۔ پولیس اور معاشرے کا رویہ ہمیشہ خواتین کے خلاف ہوتا ہے۔ وہ اجتماعی زیادتی کا بھی شکار ہوں، تب بھی قصور وار اُسے ہی ٹھہرایا جاتا ہے، کاروکاری کی رسم کے ذریعے اسے بھیڑ بکریوں کی طرح ایک عذاب سے گزار کر اپنی پنچایت کی دھاک بٹھائی جاتی ہے۔ ہم نے بڑی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مظلوم خواتین کے لئے دارالامان تو بنا دیئے تھے، مگر اُنہیں داد رسی کا کوئی روزن فراہم نہیں کیا تھا۔ وہ دارالامان کے گھٹن زدہ اور پُر خوف ماحول میں سسک سسک کر زندگی گزارتی تھیں۔ یہ دارالامان ان کے لئے جیلوں سے کم نہیں کہ جہاں وہ اپنی مرضی سے سانس بھی نہیں لے سکتیں۔ پنجاب حکومت نے اِس صورتِ حال کا ادراک کرتے ہوئے خواتین داد رسی سنٹر بنایا ہے، جس کی ہر سطح پر ستائش کی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف سے لاکھ اختلاف کیا جائے، مگر اِس بات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ انہوں نے صوبے میں بہتری لانے کے لئے اپنے تئیں کوشش بھی کی ہے اور اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے وہ تھانہ اور پٹوار کلچر تبدیل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، جس کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ملتان کے تمام تھانوں میں فرنٹ ڈیسک قائم کر دیئے گئے ہیں، جبکہ ریونیو معاملات کے لئے ون ونڈو سنٹرز کام کر رہے ہیں جن سے لوگوں کو بڑی حد تک ایک خاص کرپٹ کلچر سے نجات مل گئی ہے۔ ظاہر ہے ابھی آئیڈیل صورتِ حال پیدا نہیں ہوئی، ملازمین کے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، تاہم ایک نئی سمت کا آغاز تو ہوا ہے، رفتہ رفتہ اِس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئیں گے جہاں تک خواتین کے اس داد رسی سنٹر کا تعلق ہے تو اس کی کار کردگی پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہو گی۔ چاروں طرف پھیلے ہوئے ظلم کے نظام میں خواتین کے لئے امن و سلامتی کا جو جزیرہ قائم کیا گیا ہے، اسے مگر مچھوں کی دستبرد سے بچانا ہوگا۔ تحفظ اور داد رسی کے خوشنما نعرے صرف اُسی صورت میں عملی شکل اختیار کر سکتے ہیں،جب اِس سنٹر کے لئے وضع کردہ نظام کی پوری طرح مانیٹرنگ کی جائے۔ جو لوگ خواتین کے لئے باعثِ عذاب بنتے ہیں،وہ عام لوگ نہیں ہوتے،اُن کا شمار سیاسی یا مالی طور پر معاشرے کی باشعور کلاس میں ہوتا ہے۔ عموماً یہ شکایت ملتی ہے کہ پولیس خواتین کے خلاف جرم کے مقدمات میں بااثر لوگوں کی آلہ کار بن جاتی ہیں۔ مظلوم خواتین کی داد رسی کے لئے جو محکمہ سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے، وہ پولیس ہے۔ پولیس اگر اِس حوالے سے اپنی کمزوری پر قابو پا لے اور خواتین کے خلاف جرائم کا قلع قمع کرنے کے لئے اسے اپنی ترجیحات میں شامل کر لے تو بہت جلد تبدیلی آ سکتی ہے۔ خاص طور پر داد رسی سنٹر میں آنے والی عورتوں کو تحفظ اور امداد دینے کے لئے اگر کوئی پالیسی وضع کر لی جائے تو اس داد رسی مرکز کے ذریعے معاشرے کو ایک مثبت پیغام مل سکتا ہے۔

امید ہے اس سنٹر کی بہتر کارکردگی کو یقینی بنا کر دیگر شہروں میں بھی اس قسم کے مراکز قائم کئے جائیں گے۔ میاں محمد شہباز شریف مُلک کا پہلا خواتین داد رسی سنٹر قائم کر کے پھر آگے نکل گئے ہیں۔ مُلک میں ہر جگہ خواتین کے ساتھ ظلم ہوتا ہے، ہر صوبے کو ایسے مراکز قائم کر کے نہ صرف مظلوم خواتین کی مدد کا روزن کھولنا چاہئے، بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا چاہئے کہ جس میں خواتین بھی ایک مکمل انسان کے طور پر زندہ رہ سکیں۔

مزید :

کالم -