گردشی قرضہ کا مسئلہ حل نہ کیا تو توانائی کابحران شدید ہوجائے گا

گردشی قرضہ کا مسئلہ حل نہ کیا تو توانائی کابحران شدید ہوجائے گا

اسلام آباد(اے این این) حکومت جلد از جلد گردشی قرضہ کا مسئلہ حل کرے ورنہ توانائی کا شدید بحران جنم لے گا جو ملکی ترقی کے تمام اقدامات کو رائیگاں بنا ڈالے گا۔ ملک میں تیل اور ایل این جی کی درامد میں زبردست خلل واقع ہو گا جس سے عوام صنعت اور زراعت متاثر ہونگی اور شرح نمو گر جائے گی۔مالی خسارہ بڑھنے کے خوف سے گردشی قرضہ کی ادائیگی میں مزید تاخیر معیشت کیلئے مہلک ہو گی۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر عاطف اکرام شیخ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے2013 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد 480 ارب روپے کا گردشی قرضہ ختم کر دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اب یہ معاملہ ہمیشہ کیلئے حل ہو گیا ہے مگر حکومت کے مطابق یہ قرضہ دوبارہ 393 ارب روپے تک جا پہنچا ہے جبکہ نجی بجلی گھروں کے مالکان کا دعویٰ ہے کہ قرضہ 414 ارب روپے ہے۔بجلی گھروں کو ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے جسکی وجہ سے وہ پی ایس او کو تیل کی قیمت کی ادائیگی کی مد میں 274 ارب روپے ادا نہیں کر رہے جس سے اس ادارے کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پی ایس او کے پاس رقم نہیں ہے جسکی وجہ سے اس نے کویت اور قطر کی تیل اور ایل این جی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو 63 ارب روپے کی ادائیگی روک دی ہے جسکی وجہ سے تیل اور گیس کی سپلائی کسی بھی وقت منقطع ہو سکتی ہے۔ اس ساری صورتحال میں وزارت خزانہ گردشی قرضہ کی مد میں چھ ارب روپے سے زیادہ کی ادائیگی کو تیار نہیں جو اونٹ نے منہ میں زیرہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ خسارہ بڑھنے کے خوف سے گردشی قرضہ کو حل نہ کرنے کے سنگین نتائج برامد ہو سکتے ہیں اسلئے پالیسی ساز سارے معاملہ پر دوبارہ غور کریں۔

مزید : کامرس