صارفین پٹرولیم مصنوعات کی بھاری قیمت ادا کر نے پر مجبور ہیں

صارفین پٹرولیم مصنوعات کی بھاری قیمت ادا کر نے پر مجبور ہیں

  

اسلام آباد (اے این این) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے ایف بی آر کی جانب سے محاصل وصول کرنے کو مسلسل کوتاہی کی وجہ سے حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پرضرورت سے زیادہ ٹیکس لگا رکھے ہیں جس نے معاشی ترقی میں رکاوٹ ڈالی ہوئی ہے۔ پاکستان میں صارفین بین الاقوامی منڈی کے مقابلہ میں پٹرول، ڈیزل اور دیگر مصنوعات کی بھاری قیمت ادا کر نے پر مجبور ہیں جس سے عوام کے مسائل اور تجارت سے وابستہ افراد کی کاروباری لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔پٹرولیم کی مختلف مصنوعات پربہت زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جو ظلم ہے کیونکہ اسکا براہ راست اثر غریب عوام پر پڑتا ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اگر ایف بی آر میں کرپشن کم ہو جائے اور غریبوں کو نشانہ بنانے اور اشرافیہ نوازی کے بجائے ان سے کچھ ٹیکس وصول کیا جائے تو عوام پر بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ایندھن ڈیزل کے صارفین نے ہر لیٹر پر ساڑھے انتیس روپے جنرل سیلز ٹیکس اور چھ روپے پٹرولیم لیوی کی مد میں ادا کئے جس سے صنعت، زراعت اور ٹرانسپورٹ پر منفی اثرات مرتب ہوئے تاہم حکومت کی آمدنی میں اربوں روپے کا اضافہ ہوا۔ پٹرول کے ہر لیٹر پر پندرہ روپے بائیس پیسے جنرل سیلز ٹیکس، مٹی کے تیل کے ہر لیٹر پر تیرہ روپے اٹھارہ پیسے اور لائیٹ ڈیزل کے ہر لیٹر پر بارہ روپے اکیس پیسے جنرل سیلز ٹیکس وصول کیا گیا۔ سال رواں میں پٹرول پر دس روپے اکہتر پیسے جنرل سیلز ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔پنجاب میں سی این جی کی مسلسل بندش سے بھی پٹرول کی فروخت اور حکومت کا منافع بڑھایا گیا۔ اس وقت حکومت پٹرولیم مصنوعات پر پچیس ارب روپے ماہانہ جنرل سیلز ٹیکس اوردس ارب روپے پٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے جبکہ دیگر محاصل اسکے علاوہ ہیں۔

مزید :

کامرس -