بلدیاتی نظام غیرفعال ،اتوار بازاروں کا براحال ،صارفین خوار

بلدیاتی نظام غیرفعال ،اتوار بازاروں کا براحال ،صارفین خوار

  

لاہور(جنرل رپورٹر 228اپنے نمائندے سے) صوبائی دارالحکومت میں ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام لگائے جانے والے سستے اتوار بازار بدانتظامی کی نذر ہو گئے ۔ گزشتہ تین ماہ سے شہر کے 20 کے قریب اتوار بازاروں میں نگران تعینات نہیں کئے گئے۔ جس کے باعث ان بازاروں میں گرانفروشی عام ہو گئی۔ ہر بازار میں گلی سڑی سبزیاں اور پھل، غیر معیاری مصالحہ جات کی مقررہ نرخوں سے زائد پرفروخت عام ، ٹاؤنوں کی فراغت کے بعد تاحال نیا نظام نہ آ سکا ۔ ٹھیکیدار مافیا دکانداروں سے مل کر شہریوں کو زائد قیمتوں پر اشیاء فروخت کر کے دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہاہے۔ یہ انکشافات گزشتہ روز شہر بھر کے سستے اتوار بازاروں میں ایک سروئے کے دوران سامنے آئے ۔پنجاب حکومت کی جانب سے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں قائم سستے اتوار بازاروں کی انتظامیہ عوام اور خریداروں کے لئے وبال جان بن گئی ،منہ مانگی قیمت پر ناقص اور حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف اشیا ء خوردونوش کی فروخت معمول بن گئی ہے ،احتجاج کرنے والے خریداروں سے انتظامیہ کی جگہ موجود اہلکار بدتمیزی اور گالی گلوچ سے پیش آتے ہیں ، اور بازار سے باہر نکال دیتے ہیں ،یہاں تک کہ پرائس کنٹرول اور اشیاء کی کوالٹی چیک کرنے آنے والے سرکاری اہلکاروں کو بھی بازار میں میں کھلے عام چیکنگ کی اجازت نہیں ،بازاروں میں خریداری کے لئے آنے والی خواتین کی اکثریت نے کہا ہے کہ سستے بازار کم اور سیاسی اکھاڑہ زیادہ لگتے ہے یہاں آکر لگتا ہے کہ عوام کو سستے داموں اشیاء خوردونوش مہیاکرنے کا دعویٰ ہمارے حکمرانوں کی سیاسی قلابازی اورسیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے ،ہم خواتین کو ادھر آکر عدم تحفظ کا شدید احساس ہوتا ہے کیونکہ ادھر سب چیزوں کے من مانے ریٹ مقرر ہیں خریدا ر محمد زوہیب،علی مرتضیٰ،ذیشان احمد،محمد رفیق اور محمد کلیم نے بتایا کہ بازاروں میں ہر چیز کا اپنی مرضی کا ریٹ کا مقرر کیا گیا ہے ،مہنگائی کم کرنے کا دعویٰ کرنے والے حکمران کبھی ادھر کا بھی دورہ کر لیں تو انہیں پتہ چل جائے گا کہ عوام کس حال میں ہیں اور ان کو ووٹ دے کر منتخب کرنے کی کیا سزا مل رہی ہے ، سستے بازاروں کا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی اجارہ داری ہے جس کی بناء پر ادھر دوکاندار بھی اپنے آپ کو ان داتا سمجھتے ہیں اور انتہائی غلط طریقے سے پیش آتے ہیں ،پھلوں ،سبزیوں کا یہ معیاریہ ہے کہ کئی کئی دن کی باسی سبزیاں اور پھل فریج میں رکھ کر دوبارہ انہیں سٹال پر سجا کر فروخت کیا جارہا ہے یہ زائد المعیاد سبزیاں اور پھل کھانے سے بیماریوں کا خطرہ رہتا ہے ۔ اصغر علی،خیام حسین،مراتب علی،سید شاہد حسین شاہ اور غلام رسول نے کہا کہ ہم ادھر صرف مجبور ی میں آتے ہیں اور لاوارثوں کی طرح اپنی ضرورت کی چیزیں خرید کر ساتھ میں مفت کی بے عزتی کروا کر گھر چلے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے میئر لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی ہر بازار میں ڈیوٹی لگائی گئی ہے جہاں بھی شکایات موصول ہوئیں ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیا نظام ابھی تاحال مکمل طور پر لاگو نہیں ہوا جس کے باعث مسائل سامنے آ رہیں مگر جلد مسائل پر قاؤ پا لیں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -