ملبوسات اور چادروں کی برآمدات میں 5فیصد اضافہ ہوا

ملبوسات اور چادروں کی برآمدات میں 5فیصد اضافہ ہوا

  

لاہور(جنرل رپورٹر) مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی آزاد علی تبسم نے معاشی ترقی پر حقائق نامہ جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال2016-17ء کے دوران بستر کی چادروں اور تیار ملبوسات کی ملکی برآمدات میں بالترتیب5 اور4فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان(پی بی ایس) کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ مالی سال کے ابتدائی 8ماہ کے دوران 1337.43 ملین ڈالر کی بسترکی چادریں برآمد کی گئی تھیں جن کی برآمدات جاری مالی سال میں1405.21 ملین ڈالر تک بڑھ گئیں اسی طرح تیار ملبوسات کی برآمدات گذشتہ مالی سال میں1437.27 ملین ڈالر سے رواں مالی سال میں1499.13 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران مجموعی ملکی برآمدات میں بستر کی چادروں کا حصہ9.6 فیصد تھا جو رواں مالی سال کے دوران10.6 فیصد تک بڑھ گیا ہے ۔ حقائق نامہ میں مزید کہاگیا ہے کہ ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال میں فروری 2017ء کے دوران طبی اور جراحی کے آلات و مصنوعات کی برآمدات کا حجم 3.128 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے جبکہ گذشتہ مالی سال میں فروری 2016ء کے دوران ملکی برآمدات کا حجم 2.863 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس طرح فروری 2016ء کے مقابلہ میں فروری 2017ء کے دوران طبی اور جراحی کے آلات و مصنوعات کی برآمدات میں 9 فیصد سے زائد یعنی 0.265 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ملبوسات تیار و برآمد کرنے والی چینی صنعت میں مہنگی افرادی قوت کے باعث پاکستان کی معیشت کو سالانہ 20 تا 40 ارب ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے۔ چین میں ملبوسات تیار کرنے والی صنعت کی افرادی قوت کے معاوضے میں ایک ڈالر فی گھنٹہ کی شرح سے ہونے والے اضافہ کے باعث چینی صنعتکاروں کو سخت مسائل کا سامنا ہے پاکستان، بنگلہ دیش اور ویتنام میں چین کے مقابلہ میں ملبوسات تیار کرنے والی صنعتوں کی افرادی قوت کا معاوضہ تین گنا یعنی 0.3 ڈالر فی گھنٹہ تک کم ہونے کی وجہ سے چین کے برآمدکنندگان اور صنعتکار ان ممالک کی سستی افرادی قوت سے استفادہ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین ملبوسات کا دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے جو سالانہ 80 ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات کرتا ہے پاکستان میں سستی افرادی قوت کی دستیابی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کے تحت ملبوسات تیار و برآمد کرنے والی 30 تا 50 فیصد صنعتوں کی پاکستان میں منتقلی متوقع ہے جس سے قومی معیشت میں سالانہ 20 تا 40 ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے جبکہ صنعتوں کی منتقلی سے بے روزگاری کے خاتمہ میں بھی نمایاں مدد ملے گی اور ملک میں تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کا فروغ ہوگا۔پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے خواتین کا کردار بہت اہم ہے ۔پنجاب حکومت نے سرکاری بورڈز میں خواتین ممبران کا کوٹہ 33فیصد رکھا گیا ہے ۔ حکومت پنجاب ڈرپ اریگیشن سسٹم لگانے پر 60فیصد سبسڈی فراہم کر رہی ہے جبکہ باقی 40فیصد کاشتکار ادا کرے گا ۔ڈرپ ایرگیشن سسٹم ایک صاف ستھرا اور آسان نظام ہے جس میں کھالے بنانے کی فکر نہیں ہوتی اور نہ ہی پانی لگانے کا مسئلہ ہوتا ہے ۔اس طریقہ میں کھاد ، وقت ، مزدوری اور پانی کی 50فیصد تک بچت ہوتی ہے، کینو،آم اور امردور کی پیداوار بڑھانے کے لئے انقلابی اقدامات کئے گئے ہیں۔ حکومتی ٹھوس اقدماات سے زرعی پیداوار میں بہتر ہو گی اورزرعی اجناس کی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوگا، زیتون وادی کے قیام سے تیل کی درآمدات میں کمی ہوگی ،کپاس کی ریکارڈ پیداوار ہونے امکانا ت روشن ہیں جس سے فیکٹری کاپہیہ گھومے گا اور کسان خوشحال ہوگا ،صنعت کارووں میں نیا اعتماد آئے گا ۔پنجاب میں تین بڑے پاور پلانٹ چلنے سے صنعتی پہہہ ملسل گھومے گا

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -