150ارب سے پنجاب میں رورل روڈز پروگرام: ایک انقلابی اقدام

150ارب سے پنجاب میں رورل روڈز پروگرام: ایک انقلابی اقدام

  

صوبائی وزیرسی اینڈڈبلیو ملک تنویر اسلم اپنی صلاحیتوں اور وسیع تجربہ کی بناء پر کمیونیکیشن اینڈ ورکس جیسی اہم وزارت چلا رہے ہیں ۔اُن کی زیر نگرانی ہائی وے ڈیپارٹمنٹ تمام صوبائی سڑکوں کی تعمیر و مرمت وغیرہ کا خیال رکھ رہا ہے۔1947کو پاکستان کی آزادی کے وقت 4305کلو میٹر میٹلڈ روڈزحصہ میں آئی تھیں۔1980تک ترقی کی رفتار سست رہی اور سڑکوں میں سالانہ اضافہ 5فیصد تک ہی ممکن رہ سکا۔اس کے بعد :فارم ٹو مارکیٹ:پروگرام کی تشکیل کی گئی اور اس طرح سالانہ اضافہ 13فیصد تک پہنچ گیا۔موجودہ دور میں ہائی وے ڈیپارٹمنٹ 38,000کلومیٹر تک سڑکوں کا جال سنبھال رہا ہے۔موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہائی وے ڈیپارٹمنٹ نے BOTکے نام پر تیز اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ڈیپارٹمنٹ میں میٹیریل چیکنگ،سڑکوں اور پلُوں کی ڈیزائن کی سہولیات موجود ہیں۔نارتھ ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کے چیف انجینئر کی حدود بڑھاکرسول ڈویژن آف لاہور،گوجرانوالہ،سرگودھا اور راولپنڈی تک بڑھا دی گئی ہیں جبکہ ساؤتھ زون کے چیف انجینئر کی حدود سول ڈویژن آف فیصل آباد،ملتان،بہاولپور اور ڈی جی خان تک بڑھادی گئی ہیں۔ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کے2 زون ہیں جنکو چیف انجینئر ہیڈ کرتے ہیں اور یہ ساؤتھ اور نارتھ زون پر مشتمل ہیں۔ ان کے بنیاد بنیادی مقاصد ہوتے ہیں کہ ADPمیں آنیوالی منظور شدہ اسکیموں کو آگے فیلڈ تک پہنچانا اور اس کی تعمیر و مرمت کے لئے بجٹ میں سے فنڈز ٹرانسفر کرنا۔

KPRRPکے نام سے حکومت پنجاب کا فلیگ شپ پروگرام :خادم پنجاب دیہی روڈزپروگرام: صوبہ بھر میں 150ارب روپے کی مالیت سے خادم پنجاب رورل روڈز پروگرام جاری ہے۔پلان کے مطابق 15000کلومیٹر سڑکوں کی مرمت جبکہ 5000کلومیٹر کی نئی سڑکوں کی تعمیر بھی کی جائے گی اور یہ پروگرام 2018میں مکمل کیا جائے گا۔اس پروگرام کی مانیٹرنگ صوبائی وزیر سی اینڈ ڈبلیو ملک تنویر اسلم کے ذمہ ہے جو تمام امور اسٹیئرنگ کمیٹی کے ذریعے دیکھتے ہیں۔اس حوالے سے فیز ون،فیز ٹو اور فیز تھری کاکام مکمل ہوچکا ہے جبکہ فیز فور جاری ہے۔تفصیل کے مطابق فیز ون میں 16.360بلین کی لاگت سے2022کلومیٹر پر محیط 251سڑکوں کی تعمیرومرمت کا کام مکمل کیا گیا۔اس پر کام اپریل 2015میں شروع ہو کر جون 2016میں اختتام پذیر ہوا۔ فیز ٹو میں 16.800بلین سے 1570کلومیٹر پر محیط 154سڑکوں کی تعمیرومرمت کا کام مکمل کیا گیا۔(118پرانی سڑکوں کے ساتھ33نئی سڑکوں کی تعمیر)اس پر کام نومبر 2015میں شروع ہو کر جون 2016میں اختتام پذیر ہوا۔فیز تھری میں 18.000بلین کی لاگت سے1650کلومیٹر پر محیط166 سڑکوں کی تعمیرومرمت کا کام مکمل کیا گیا۔(136پرانی سڑکوں کے ساتھ 30نئی سڑکوں کی تعمیر)اس پر کام جون 2016میں شروع ہو کر 30-11-2016 میں اختتام پذیر ہوا۔

فیز تھری میں سڑکوں کی تعمیرومرمت کے حوالے سے لاہور124کلومیٹر کی 11،گوجرانوالہ223کلومیٹر کی 23، راولپنڈی 125کلومیٹر کی 15، سرگودھا 151کلومیٹر کی 15، ساہیوال117کلومیٹر کی12،فیصل آباد 185کلومیٹر کی21 ،ملتان192کلومیٹر کی 13،بہاولپور141کلومیٹر کی 18،ڈی جی خان105کلومیٹر کی 8سڑکیں شامل ہیں ۔نارتھ زون میں 76جبکہ ساؤتھ زون میں60سڑکیں شامل ہیں۔ نئی سڑکوں میں لاہور22کلومیٹر کی 3، گوجرانوالہ 56 کلومیٹر کی6،راولپنڈی24کلومیٹر کی3، سرگودھا12کلومیٹر کی 1، ساہیوال 21کلومیٹر کی3،فیصل آباد38کلومیٹر کی6 ،بہاولپور43کلومیٹر کی 6،ڈی جی خان15کلومیٹر کی2سڑکیں شامل ہیں ۔نارتھ زون میں16جبکہ ساؤتھ زون میں14سڑکیں شامل ہیں۔

فیز فور کا آغاز15.900بلین کی لاگت سے جنوری 2017میں کیا جا چکا ہے۔اس منصوبے میں 1456کلومیٹر پر محیط 154سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا کام مکمل کیا جائے گا(133پرانی سڑکوں کی مرمت کے ساتھ 21نئی سڑکوں کی تعمیر شامل ہے)۔اس منصوبے کا اختتام 30-06-2017کو کیا جا ئے گا۔

خادم اعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق :پکیاں سڑکاں،سوکھے پینڈے: کے عنوان سے پنجاب بھر میں بین الاقوامی معیار کی سڑکوں کا جال بچھا یا جا رہا ہے تاکہ دیہی آبادی میں تعلیم و صحت کی سہولیات تک بروقت رسائی ممکن ہو سکے۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات حکومت پنجاب نے : خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام: میں ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ہے ۔18ارب روپے کی لاگت سے 1650کلومیٹر سے زائد دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے تیسرے مرحلے کی کامیاب تکمیل ہوچکی ہے اور اب تک 51ارب روپے کی لاگت سے 5000کلومیٹر سے زائد دیہی سڑکوں کی بین الاقوامی معیار کے مطابق تعمیر و بحالی کا کام مکمل کیاجا چکا ہے۔سڑکوں کی چوڑائی 10فٹ کی بجائے 12فٹ کر دی گئی ہے اور اب مال مویشی اور زرعی اجناس کی منڈیوں تک رسائی با آسانی ہو رہی ہے۔ حکومت پنجاب کے تعاون سے متعدد ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے تیزی کے ساتھ کام جاری و ثاری ہے۔

صوبائی وزیر کی زیر نگرانی آرکیٹیکٹ ڈیپارٹمنٹ بنیادی طور پر گورنمنٹ آف پنجاب کے مختلف اداروں کو اپنی خدمات پیش کررہا ہے۔یہ ادارہ خاص طور پر گورنمنٹ کے پراجیکٹس میں پلاننگ،ڈیزائننگ اور نگرانی کے امور سر انجام دیتا ہے۔متعلقہ ادارے کے ساتھ ملکر پہلے ایک آئیڈیا پھر اسکا ڈیزائن اور بعد ازاں فزیبیلٹی رپورٹ مرتب کراتا ہے۔آجکل کمپیوٹر کی مدد سے 2 D اور 3Dکی بدولت کام کی ڈرائنگ اور پریزینٹیشن تیار کی جا تی ہے۔کام کے آغاز اور اختتام پر تمام امور کا جائزہ لیا جا تا ہے اور ہر طرح سے تسلی کی جاتی ہے۔یہ ادارہ گورنمنٹ کو بہت مناسب ریٹس پر اپنی سروسز فراہم کرتا ہے۔

محکمہ مواصلات و تعمیرات سے ملحقہ ڈسٹرکٹ سپورٹ اینڈ مانیٹرنگ ڈیپارٹمنٹ کا بنیادی مقصد گورنمنٹ کے تمام ترقیاتی کاموں کو ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ساتھ ملکر مانیٹر کرنا اور تمام ٹیکنیکل سپورٹ مہیا کرنا ہے۔یہ ادارہ چیف انجینئر،ڈائریکٹر (ایڈمنسٹریٹو اینڈ ورکس)،4ڈپٹی ڈائریکٹرز (ٹیکنیکل) ،3اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور ایک ایڈمنسٹریٹو آفیسرپر مشتمل ہوتا ہے۔اس کا بنیادی کام ہر ڈسٹرکٹ کی سڑکوں اور بلڈنگز کی ماہانہ پراگرس رپورٹ تیار کرنا ،عدالتوں او پنجاب محتسب میں چلنے والے ہر ڈسٹرکٹ کے کیسز کو ڈیل کرنا،تعمیراتی کاموں میں کسی بھی قسم کی شکایات کو دیکھنا،تعمیر کے حوالے سے اسمبلی میں پوچھے جانیوالے سوالات کا جواب تیار کرنا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ ڈیویلپمنٹ /ڈرائنگ،ٹینڈرزاور بڑے پراجیکٹس کے لئے کنٹریکٹرز/کنسلٹنٹ کے معاملات کو بھی دیکھتا ہے۔سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ بلاشبہ ایک منفرد ادارہ ہے جو کہ ملک تنویر اسلم جیسی شخصیت کی زیر نگرانی پنجاب بھر میں ترقیاتی منصوبوں میں اپنا اہم کردار نبھا رہا ہے ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -