تاریخ میں سی پیک جیسی سرمایہ کاری کی مثال نہیں ملتی

تاریخ میں سی پیک جیسی سرمایہ کاری کی مثال نہیں ملتی

  

انٹرویو : نعیم الدین ، غلام مرتضی

تصاویر : عمران گیلانی

تعارف: شیخ صلاح الدین احمد دبئی میں طویل عرصہ سے تجارت کررہے ہیں وہ پاکستان چین اور دیگر ممالک سے اشیاء دبئی درآمد کرتے ہیں۔ دبئی اور پاکستان کی معیشت پر ان کی گہری نظر ہے وہ دبئی کے تجارتی حلقوں میں اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں وہ انتہائی سادہ شخصیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے بچپن سے ہی انتہائی محنت کرکے خود کو منوایا اور دنیا پر یہ ثابت کیا کہ سچی نیت ، خلوص اور ایمانداری سے کوئی شخص محنت کرتا ہے تو دنیا میں اﷲ تعالی بھی انسان کی رہنمائی فرماتا ہے ان کا کہنا ہے کہ میں آج جس مقام پر بھی ہوں ، اس میں میری شب و روز کی محنت اور اﷲ کی مہربانی شامل ہے ۔ گذشتہ دنوں وہ پاکستان تشریف لائے تو روزنامہ پاکستان نے شیخ صلاح الدین احمد سے خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس کا احوال قارئین کی نذر ہے

بزنس پاکستان : دبئی کی معاشی صورتحال پر آپ کی گہری نظر ہے ، ہمیں اس بارے میں کچھ بتائیں ؟

شیخ صلاح الدین احمد : دبئی اس وقت معاشی ترقی میں بہت آگے ہے ، لیکن اس وقت دبئی کی صورتحال70،80 اور 90 کی دہائی کے مقابلے میں وہ نہیں ہے کیونکہ 9/11 کے بعد پوری دنیا میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور اس کے اثرات خاص طور پر مسلم ممالک پر بہت زیادہ منفی پڑے ہیں ، عراق افغانستان کی جنگ ،شام لیبیا کے حالات کی خرابی کے اثرات دبئی کی معیشت پر واضح نظر آتے ہیں ، لیکن اثرات کو اگر ایسا دیکھا جائے کہ وہاں ترقی ضرور ہوئی ہے لیکن چونکہ ماضی میں دبئی میں تعمیراتی کام جاری تھے ، اُس وقت پاکستان اور دیگر ممالک کے مزدور یا کاریگر طبقے کی تعداد بہت زیادہ تھی اور دبئی میں روزگار کے مواقع بھی بہت تھے، لیکن وہ کام کسی حد تک مکمل ہونے کے باعث اب عام لیبر کیلئے روزگار کے ذرائع پہلے کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہیں۔ اور حالیہ برسوں میں بڑی تعداد میں لیبر دبئی کو خیرباد کہہ کر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکی ہے۔ اس وقت وہ ٹیکنیکل لوگ موجود ہیں جو دبئی کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس میں جدید دور کے تقاضوں کو سامنے رکھا جائے تو کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور آفس ورک کیلئے لوگوں کو پاکستان اور دیگر ممالک سے بلایا گیا ہے اور وہ وہاں جانفشانی سے کام کررہے ہیں ۔ میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ 1974 سے پہلے دبئی کی صورتحال پاکستان سے زیادہ اچھی نہیں کہہ سکتے تھے، کیونکہ دبئی ایئرپورٹ کا معیار پاکستان کے ایک عام ایئرپورٹ کے مقابلے میں تھا ،یعنی ہم اس کو ملتان کے ایئرپورٹ سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ریت ایئرپورٹ کی بلڈنگ کے اندر تک آجاتی تھی، ٹرمینل پر ایئرکنڈیشنڈ کا نظام بھی نہیں تھا۔ مگر آج دیکھیں تو دنیا کے بہترین ایئرپورٹس میں دبئی ایئرپورٹ کا شمار کیا جاتا ہے ۔جتنی بڑی ڈیوٹی فری شاپ دبئی کی ہے، اس کی مثال دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بہت کم ملتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آج دبئی ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ اور اگر میں اس کے مقابلے میں کراچی کو دیکھتا ہوں جو کہ کبھی روشنیوں کا شہر اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تھا، رات بھر ہوٹل کھلے رہتے تھے، سڑکیں دھلتی تھیں، اور آدھی رات کے وقت بھی ٹرانسپورٹ مل جاتی تھی، یہاں سیاحوں کی آمد ہوتی رہتی تھی ، لیکن آج کراچی کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ جگہ جگہ پر کچرے کے انبار لگے ہوئے ہیں، گٹر ابل رہے ہیں، سیوریج کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے، جبکہ امن و امان کی صورتحال بھی کچھ سالوں سے بہتر ہوئی ہے، لیکن اگر ہم دبئی کا موازنہ کراچی سے کریں تو ہمیں یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ دبئی میں اس وقت ایسی عمارتیں بن گئی ہیں جو آسمان کو چھو رہی ہیں۔ دبئی میں بنجر زمینوں کو آباد کیا گیا ہے، جبکہ کراچی کی آباد زمینوں کو بنجر کردیا گیا ہے۔ دبئی میں جنگلات لگائے گئے ہیں حالانکہ صحرا میں درخت لگانا انتہائی مشکل کام تھا۔ دبئی میں قانون کی پاسداری ہے ، لوگ بے فکری سے کاروبار کرتے ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاری کا نہ رُکنے والا سلسلہ تاحال جاری ہے، جن میں بہت سے نامور پاکستانی شخصیات کاروبار کررہی ہے۔ امن و امان کی صورتحال مثالی ہے ، جبکہ ٹریفک کا مثالی اوربہترین نظام موجود ہے ۔ اسکے برعکس اگر کراچی میں ان تمام سہولیات کی طرف نگاہ ڈالی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ٹریفک کا نظام انتہائی درہم برہم ہوچکا ہے، لوگ ون وے اور سگنل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ اور یہی لوگ جب بیرون ملک جاتے ہیں تو اس ملک کے قانون کو اپنانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اداروں میں کرپشن کا رحجان ہے ، عام آدمی کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔

بزنس پاکستان : آپ کیا سوچتے ہیں کہ گوادر کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد دبئی میں کاروباری صورتحال پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ؟

شیخ صلاح الدین احمد : دیکھیں دبئی تقریباً ترقی کی منازل طے کرچکا ہے، اور کرتا چلا جارہا ہے۔ لیکن جب گوادر مکمل ہوگا تو اس وقت دبئی مزید آگے جاچکا ہوگا۔ لیکن میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان میں اب ترقی کے دروازے کھل چکے ہیں، سی پیک منصوبہ پاکستان کو آگے لے جانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس منصوبے سے پاکستان کے لوگوں کی تقدید انشاء اﷲ ضرور بدلے گی اور ملکی تاریخ میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کی مثال نہیں ملتی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ سی پیک کے اثرات ملکی معیشت کو دنیا کے اہم ممالک کی صف میں لاکھڑا کریں گے۔ غیر ملکی سرمایہ کار بھی اس طرف توجہ دیں گے ، جس سے ملک میں بیروزگاری کا خاتمہ یقینی نظر آرہا ہے۔ لیکن اس کے لیے ہمارے لیڈر حضرات کو اپنی سوچ کو مثبت کرنا ہوگا تاکہ ترقی کا یہ پہیہ جاری و ساری رہے۔

بزنس پاکستان : دبئی میں مہنگائی کی کیا صورتحال ہے ؟

شیخ صلاح الدین احمد : دیکھا جائے تو اس وقت پوری دنیا مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، مکانوں کے کرائے بہت زیادہ ہیں، تعلیم کا معیار بھی انتہائی مہنگا ہے ، جبکہ کھانے پینے کی اشیاء کو بھی آپ سستا نہیں کہہ سکتے ہیں۔ہاں البتہ ہم کراچی کو سستا یا غریب پرور شہر کہہ سکتے ہیں ، کیونکہ میرا تعلق کراچی سے بھی رہا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کراچی کے مقابلے میں دبئی سستا ہوگا۔

بزنس پاکستان :پاکستان میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کی صورتحال پر کیا تبصرہ کریں گے ؟

شیخ صلاح الدین احمد : میں بھی ملک کا ایک عام شہری ہوں ، ایک زمانہ تھا کہ صنعتی پیداوار زوروں پر تھی اور ملکی برآمدات بہت زیادہ تھی ۔ لوگوں کو روزگار کے ذرائع میسر تھے ، بڑی بڑی ٹیکسٹائل ملز کام کررہی تھیں، جن میں ایک وقت میں ہزاروں افراد کی شفٹیں ہوتی تھیں ، لیکن آج دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں ہمارے مال کی کھپت نہ ہونے کے برابر ہے۔ چین ، بھارت جیسے ممالک اپنی اشیاء بین الاقوامی منڈی میں منوانے میں کامیا ب رہے ہیں۔ اور ان کی تجارتی پالیسیاں مثبت کردار ادا کرررہی ہیں۔

بزنس پاکستان : دبئی کے بینکاری نظام کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟ کیا وہاں غیر سودی نظام ترقی کررہا ہے ؟

شیخ صلاح الدین احمد : وہاں سودی اور غیرسودی بینکاری نظام دونوں چل رہے ہیں، عام شہری دونوں بینکوں سے لین دین کرتا ہے۔ اس وقت عام شہری خوشحال ہے جبکہ غیرملکی افراد کو ترقی کرنے کیلئے سخت جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔

بزنس پاکستان : دبئی کے عام آدمی کی ذرائع آمدنی کیا ہے ؟

شیخ صلاح الدین احمد : جیسا کہ آپ کے علم میں کہ اﷲ تعالی نے مشرقی وسطی کے تمام ممالک کو تیل کی دولت سے مالا مال کیا ہوا ہے اور متحدہ عرب امارات بھی ان ہی ممالک میں سے ایک ہے جو اس نعمت سے دن دُگنی رات چوگنی ترقی کررہا ہے ، لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں دبئی کی ترقی میں اس کی سیاحت کا بھی بڑا دخل ہے جس کی وجہ سے بڑی مقدار میں زرمبادلہ آتا ہے جبکہ بلند ترین عمارتوں کے کرائے ، کثیرالمنزلہ ہوٹل بھی آمدنی کے ذرائع میں شامل ہیں۔

بزنس پاکستان : آپ پاکستانی عوام کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟

شیخ صلاح الدین احمد : میں آپ کے توسط سے صرف یہی کہوں گا کہ ہمارے بعد آزاد ہونے والے ممالک جن میں چین ، جاپان، بنگلہ دیش شامل ہیں ، آپ ان کی ترقی پر غور کریں تو ان ممالک کی عوام نے قومی یکجہتی کو فروغ دیا ، ایمانداری اپنائی، اور صرف صرف عوام کی بقاء و بہتری کو ترجیح دی۔ اگر ہم صحیح معنوں میں قائد اعظم کے سنہری اصول یعنی ’’اتحاد، ایمان اور یقین محکم‘‘ کو اپنا لیں تو کچھ بعید نہیں کہ پاکستان دنیا کے نقشے میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوا نظر آئے ۔ اب یہ عوام پر منحصر ہے کہ وہ پاکستان کے موجودہ نظام میں کونسی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ نظام کی خرابی ہی ملک کو پسماندگی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ہمارا ملک اﷲ کی طرف سے ایک نعمت ہے ، ہر طرح کی معدنیات سے مالا مال ملک کو ایمانداری سے چلانے کی ضرورت ہے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -