پکتیکا،ڈرون حملے میں مرنے والا القاعدہ کا قاری یاسین میریٹ ہوٹل اور سری لنکن ٹیم پر حملے میں ملوث تھا

پکتیکا،ڈرون حملے میں مرنے والا القاعدہ کا قاری یاسین میریٹ ہوٹل اور سری ...

واشنگٹن(بیورورپورٹ)امریکی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ 19 مارچ کو افغانستان میں القاعدہ کے سینیئر رہنما قاری یاسین کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔پینٹاگون سے جاری ہونے والے اعلان کے مطابق یہ فضائی کارروائی پکتیا صوبے میں کی گئی ۔یاد رہے کہ قاری یاسین پر متعدد حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔قاری یاسین پر 2008 میں اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام تھا۔ اس حملے میں دو امریکی فوجی اہلکاروں سمیت 50 سے زیادہ شہری ہلاک ہوگئے تھے۔اس کے علاوہ قاری یاسین پر لاہور میں 2009 میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملے میں ملوث ہونے کا الزام بھی ہے۔ اس حملے میں چھ پاکستانی پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی وزیرِ دفاع جیمز میتھس کا کہنا تھا کہ قاری یاسین کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے انصاف سے بچ نہیں سکتے ۔قاری یاسین کا تعلق بلوچستان صوبے سے بتایا جاتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستانی دفترِ خارجہ متعدد بار یہ موقف اختیار کر چکا ہے کہ پاکستان کے اندر حملے کرنے والے دہشتگردوں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے اور قاری یاسین کی افغانستان میں ہلاکت بظاہر اس دعوے کا ثبوت ہے۔ امریکہ نے اب اس بات کی تصدیق کی ہیکہ میرٹ ہوٹل اور سری لنکن ٹیم پر حملے میں ملوث القاعدہ کا اہم کمانڈرقاری یاسین افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا،ینٹاگان نے کہا ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والا کمانڈر19مارچ کو پکتیکا میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ اعلامیے کے مطابق 19 مارچ کو افغانستان میں القاعدہ کے سینیئر رہنما قاری یاسین کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ امریکی وزیردفاع جیمز میٹس نے کہا کہ قاری یاسین اسلام کے نام پر معصوم لوگوں کو نشانہ بناکر مذہب کو بدنام کرنے کا واضح ثبوت ہے، مگر ایسے لوگ بچ نہیں سکیں گے۔بیان کے مطابق قاری یاسین کا شمار القاعدہ کے اہم رہنماں اوردہشتگردوں میں ہوتا تھا،اور وہ پاکستان میں دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث تھا۔ادھر افغانستان کے صوبے ننگر ہار میں داعش کے خلاف فضائی کارروائیاں کی گئیں ، جس کے دوران داعش رہنماؤں سمیت 22 دہشت گرد مارے گئے۔افغان میڈیا کے مطابق ننگر ہار کے ضلع نازیاں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔حملے میں 22 دہشتگرد مارے گئے اور متعدد زخمی ہوئے ۔ دہشتگردوں کی تلاش کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے ۔ حملے میں داعش کے کمانڈر ذبیح اللہ آلیاس شینو اور داز گل کے مارے جانے کی اطلاع ہیں ۔ ننگرہار کے شہر جلال آباد کو دو برس سے طالبان نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا ہے ۔طالبان نے مجموعی پر ہلمند کے 10 سے 14 اضلاع پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے،پینٹاگون کے مطابق اس موسم بہار میں افغان صوبے ہلمند میں 300 کے قریب میرینز بھیجے جائیں گے، جہاں امریکی فوج 2014 سے طالبان کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہے، یہ میرینزافغان فوج کو تربیت دینے والے فوجی اتحاد نارتھ ائٹلانٹک ٹریٹی آرگنائیزیشن (نیٹو)کی مدد کریں گے۔

قاری یاسن

مزید : صفحہ اول