ابوظہبی،پاکستانی نے 10بھارتیوں کو بچا لیا

ابوظہبی،پاکستانی نے 10بھارتیوں کو بچا لیا

  

ابوظہبی(اے این این) متحدہ عرب امارات کے شہر ابو ظہبی میں پاکستانی شہری نے اپنے بیٹے کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والے 10بھارتی باشندوں کومعاف کردیا ۔میڈیارپورٹ کے مطابق ابوظہبی کی العین عدالت نے بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے دس نوجوانوں کو سال 2015ء میں ایک جھڑپ کے دوران پشاورسے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد فرحان کے قتل کا مجرم قراردیتے ہوئے موت کی سزا سنائی تھی تاہم مقتول کے والد محمد ریاض نے اپنے بیٹے کے قاتلوں کو معاف کر دیاہے جس کے بعد عدالت نے موت کی سزا پانے والے بھارتی نوجوانوں کی سزا معاف کرنے کے بدلے خوں بہا جمع کروانے کی منظوری دی ہے۔ عدالت میں خوں بہا جمع کرانے کا انتظام بھارتی نژاد ایس پی سنگھ اوبرائے نے کیا ہے جو دبئی میں کاروبار کرتے ہیں۔ اوبرائے’ سربت دا بھلا ‘نام کی این جی او کے صدر ہیں جو اس طرح کے معاملات میں گرفتار افراد کی مدد کرتی ہے۔ اوبرائے نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ26 اکتوبر کو جن دس نوجوانوں کو موت کی سزا دی گئی تھی، اس معاملے میں ہم سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ محمد ریاض کو تین دن پہلے پاکستان سے بلایا گیا ، ہم نے ان کے لیے ویزا ،ٹکٹ اور یہاں رہنے کا انتظام کیا اور اب شریعت کورٹ کے قانون کے مطابق ہم نے دو لاکھ درہم خوں بہاکی رقم عدالت میں جمع کروائی ہے۔. دوسری جانب مقتول کے والد محمد ریاض بھارتی نوجوانوں کی سزائیں معاف کرانے کے لیے اپنے خاندان اور کچھ دوستوں کے ساتھ پشاور سے ابو ظہبی پہنچے ۔انھوں نے معاہدے کے کاغذات عدالت میں جمع کرائے جس پر مزید کارروائی کے لیے 12 اپریل 2017 کی تاریخ دی گئی ہے۔ محمد ریاض نے کہاکہ میں نے اپنے بیٹے کو کھو دیا یہ میری بدقسمتی تھی۔ اگر میں ان لڑکوں کو معاف نہیں کرتا تو کیا ہوتا؟ میں نوجوان نسل سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایسے جھگڑے نہ کریں، اپنے کام سے کام رکھیں اور اپنے ملک اور والدین کا نام روشن کریں۔ محمد ریاض نے کہا میں نے ان دس لوگوں کو معاف کر دیا ان کی زندگی اللہ نے بچائی ہے، میرا تو صرف نام ہے۔ یہاں آنے والے ہر ایک شخص کے ساتھ دس لوگوں کی زندگیاں جڑی ہوتی ہیں، ان کے والدین، بیوی اور بچوں کی

مزید :

صفحہ اول -