گدھا گاڑی چلانے والا ڈکیتی مزاحمت پر قتل ،2بچے یتیم

گدھا گاڑی چلانے والا ڈکیتی مزاحمت پر قتل ،2بچے یتیم

  

لاہور (خبر نگار ) سگیاں پل کے قریب مردہ حالت میں پائے گئے محنت کش کو نامعلوم افراد نے سر میں گولی مار کر قتل کر دیا،مقتول دو بچوں کا باپ تھا۔ورثا کا کہنا ہے کہ گدھا گاڑی چلانے والے کی کسی سے کیا دشمنی ہو گی البتہ دیہاڑی کے چند ہزار لوٹنے کی خاطر ڈاکوؤں نے ہمارے خاندن کے فرد کو موت گھاٹ اتار دیا ہے۔پولیس تمام پہلوؤں پر غور کر رہی ہے۔تفصیل کے مطابق گزشتہ روز پولیس کو اطلاع ملی کہ ایک نامعلوم شخص مردہ حالت میں پڑا ہے ،پولیس نے موقع پر پہنچ کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ دائیں کنپٹی پر گولی ماری گئی جو سر پھاڑ کر دوسری جانب سے جا نکلی تھی۔پولیس کو جیب سے شناختی کارڈ ملا جس پر مقتول کا نام حق نواز درج تھا۔ حق نواز کے اہل خانہ کو اس کے قتل کی اطلاع ملی تو کہرام برپا ہو گیا۔ تھانے میں نعش کی شناخت کے وقت عزیز و اقارب دھاڑیں مارکرروتے رہے۔اس موقع پر مقتول کے بڑے بھائی محمد علی نے روزنامہ پاکستان کے نمائندہ کو بتایا کہ حق نواز گدھا گاڑی چلا کر روزی روٹی کماتا تھا اور اس کے دو بچے ہیں۔وہ مصری شاہ میں اپنے ماموں سسر کے گھرمیں رہائش پذیر تھا اور مصر ی شاہ میں گودام پرمحنت مزدوری کرتا تھا۔ مقتول کے ہم زلف وحید خاں ،پرویز احمد اور دیگر رشتے داروں کے مطابق حق نواز اتوار کی شام محنت مزدوری کے بعد گھر نکلااور گھر سے جاتے وقت اس کی جیب میں دس ہزار روپے تھے جو غائب پائے گئے ہیں۔ایس ایچ او سہیل کاظمی کے مطابق واقعہ بظاہر قتل ہے اور ڈکیتی قتل نہ ہے۔ نعش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا۔ کمسن بچے باپ کی نعش سے چمٹ کر روتے رہے ، والدہ ،بیوہ اور بہنوں پر غشی کے دورے پڑتے رہے ۔اس موقع پر تمام علاقہ سوگوار پایا گیا۔

مزید :

علاقائی -