وزیراعلیٰ شاہدرہ کو کرائم فری زون بنائیں ڈولفن فورس کی تعیناتی کا پرزور عوامی مطالبہ

وزیراعلیٰ شاہدرہ کو کرائم فری زون بنائیں ڈولفن فورس کی تعیناتی کا پرزور ...

 لاہور( لیاقت کھرل) 15مارچ کی صبح ڈاکوؤں نے قیصر ٹاؤن کے رہائشی شیخ مشتاق احمد کو گھر واپسی پر لوٹنے کے دوران مزاحمت پر قتل کر دیا لیکن پولیس اس قتل کو ڈکیتی قتل ماننے پر تیار ہی نہیں،تفتیش کہاں تک پہنچی اور اور قاتل کب گرفتار ہوں گے؟مقتول کے ورثا یہ جاننے کے لئے ہر روز تھانے کے چکر لگاتے ہیں لیکن ان کو یہ کہہ کر ٹرخا دیا جاتا ہے کہ تفتیش جاری ہے ،قیصر ٹاؤن کے رہائشی قاسم علی، ذوالقرنین علی، مقتول کے چھوٹے بھائی ظفر علی، ہم زلف ارسلان شیخ، مرزا محمود احمد، سلطان خان، سیف اللہ چٹھہ اور راشد ریاض نے روزنامہ پاکستان کو بتایا ہے کہ واقعہ پر پورے علاقے میں خوف و ہراس پایا جا تاہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شاہدرہ میں منشیات فروشوں،ناجائز قابضین اور چوروں کے خلاف گرینڈ آپریشن کا حکم دیں اور شیخ مشتاق کے قتل کا نوٹس لیں ۔ذرائع کے مطابق رواں ماہ کے پہلے تین ماہ میں اب تک تھانہ شاہدرہ کی حدود میں ڈکیتی کی وارداتوں میں کمی جبکہ نقب زنی کی وارداتیں بڑھ گئیں ہیں۔علاقے میں جرائم کا یہ حال ہے کہ اب تک 258 مقدمات درج کئے جا چکے ہیں۔ تھانہ شاہدرہ پولیس کے ریکارڈ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ تھانہ شاہدرہ کی حدود میں ہر قسم کا جرائم ہوتا ہے ۔ مقبرہ جہانگیر کے گردونواح میں منشیات فروشی کا دھندہ عام ہے۔قیصر ٹاؤن میں ارسلان، برکت ٹاؤن میں فیاض عرف پھجااور سعید پارک میں عباس باسو پولیس کے لئے چیلنج بن چکے ہیں۔ لڑکیوں کے اغوا ہونے کے واقعات بھی زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ علاقے میں قبضہ گروپ بھی موجود ہیں جنہوں نے غریب عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس شاہدرہ ٹاؤن پھاٹک ،ٹی پوائنٹ اور قیصرٹاؤن میں گشت کے باوجود جرم روکنے میں ناکام چلی آ رہی ہے۔ ڈولفن فورس کے اہلکار کہیں نظر تک نہیں آتے۔علاقے میں مشکوک افراد کی نقل و حرکت زیادہ ہے۔

مزید : علاقائی