اسلامی ممالک گستاخانہ مواد کیخلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں: سردار عتیق

اسلامی ممالک گستاخانہ مواد کیخلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں: سردار عتیق

جدہ (محمد اکرم اسد) سابق وزیراعظم و صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ تمام اسلامی ممالک سعودی عرب کی تقلید کرتے ہوئے ’’اظہار رائے کی آزادی‘‘ کے بارے میں اپنے ہاں کانفرنسز کریں اور ایک مشترکہ لائحہ عمل بنائیں اگر یورپین پاکستان جیسے ممالک ایک مشترکہ فیصلہ کرسکے ہیں تو مسلمان کیوں نہیں۔ آج دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے اور رسول پاکؐ کی شان میں گستاخیاں کی جا رہی ہیں جس کا مشترکہ طور پر جواب دینا ہوگا تاکہ دنیا بھر میں ایک موثر کرداراداکیا جائے۔ وہ یہاں مکہ مکرمہ میں سعودی عرب کی طرف سے رابطہ عالم اسلامی میں منعقدہ ’’اظہار رائے کی آزادی‘‘ کانفرنس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات چیت اور مسلم کانفرنس کے کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے جس کی صدارت محمد اشفاق خان صدر مسلم کانفرنس سعودی عرب نے کی جبکہ نظامت کے فرائض سیکرٹری جنرل راجہ زرین خان نے ادا کیے۔ سردار عتیق نے کہا کہ کانفرنس بہت کامیاب رہی جس میں مسلمانوں کے ہر ملک کے لوگوں نے شرکت کی جس کے دور رس نتائج برآمد ہونگے۔ کشمیر کے معاملے میں وہ بہت رنجیدہ تھے ان کا کہنا تھا کہ وانی برہان کی شہادت کے بعد جس طرح نہتے کشمیری اپنے خون سے ایک نئی تاریخ لکھ رہے ہیں اور بھارتی فوج نے ان پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے ہوئے ہیں تو ہمارے حکمران واجپائی سے مبارکبادیں وصول کر رہے ہیں جبکہ پوری حریت قیادت کو یوم پاکستان کے موقع پر پابند سلاسل کر دیا گیا۔ ہمارے حکمرانوں کے منہ سے مذمت کا ایک لفظ بھی نہیں نکل سکا۔ سردار عتیق نے کہا کہ بھارت سے محبت کی پینگیں بڑھانے سے کام نہیں چلے گا۔ کشمیر پر دو ٹوک بات کشمیریوں کے ساتھ مل کر کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان ہمارا سرمایہ افتخار اور ہمارے وقار اور عزت کے محافظ ہیں۔ پاکستان میں اداروں کو تباہ کر دیا گیا ہے اب صرف ایک ہی ادارہ رہ گیا ہے جو حقیقی معنوں میں پاکستان کی خدمت کر رہا ہے جو مسلح افواج کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی فوجی حکمرانوں نے بھارت کو دو ٹوک جواب دیا مگر سیاستدان مصلحتوں کا شکار ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ پاکستانی عوام اور افواج کی پالیسی اپناتے ہوئے مسئلے کے حل کی جانب بڑھیں تاکہ معاملہ بہتر انداز میں حل ہو۔ کیونکہ پاکستان کے عوام اور افواج مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق پاکستانی آرمی چیف راحیل شریف نے جس طرح پاکستان کا وقار دنیا بھر میں بلند کیا وہ تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا۔ پاکستانی افواج کی پالیسی ہی کی وجہ سے آج سی پیک منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ پاکستان کیلئے معاشی انقلاب ثابت ہوگا۔ سردار عتیق نے کہا کہ کشمیریوں کی شمولیت کے بغیرکوئی حل نہیں نکلے گا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کو موجودہ حکمرانوں نے نظر انداز کر دیا ہے جو مسئلہ کے اصل فریق ہیں۔ ماضی میں حریت قیادت کو صلاح و مشورے کیلئے پاکستان بلایا جاتا تھا اور اس کے مطابق چلا جاتا تھا کیونکہ اصل میں وہی قربانیاں دے رہے ہیں اور اگر انہیں کو نظر انداز کر دیا جائے تو پھر پتہ چلتا ہے کہ حکمران کس پالیسی پر چل رہے ہیں۔ مسلم کانفرنس کے سعودی عرب کے چیف آرگنائزر لطیف عباسی نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔

مزید : عالمی منظر