فرو غ علم اوراسلامی نظام تعلیم کا احیاء چاہتے ہیں،غلام عباس

فرو غ علم اوراسلامی نظام تعلیم کا احیاء چاہتے ہیں،غلام عباس

  

( پ ر )اسلامی تحریک طلبہ مسلمان طلبہ میں عشق رسولﷺ،غلبہ دین،پاکستان سے محبت اوروفا کا جذبہ بیدار کرنے میں سرگرم عمل ہے ،فرو غ علم،اسلامی نظام تعلیم کا احیاء چاہتے ہیں چیئرمین اسلامی تحریک طلبہ غلام عباس صدیقی نے ان خیالات کا اظہار میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ فرقہ پرستی،لسانیات نہیں مدینہ منوہ سے نبئ مکرم ﷺ کے چودہ سو سالہ قبل پیش کردہ وحدت امت کے عالمی فرمان کو زندہ کر رہے ہیں،آج مسلمان لسانیت،فرقہ پرستی،سیاسی خلفشار کا شکار ہیں جس کے باعث کرہ ارض جہنم کا منظر پیش کر رہی ہے ،اکثرطلبہ تنظیموں کی بنیاد وحدت نہیں بلکہ فرقہ پرستی،لسانیت،تقسیم پر ہے جس سے اسلامی تحریک طلبہ کا کوئی تعلق نہیں ،جب تک مسلمان اپنے فروعی اختلافات ختم کرکے ایک نہیں ہو جاتے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔

،اسلامی تحریک طلبہ کے سربراہ نے کہا کہ عشق رسولﷺ،غلبہ دین اور پاکستان سے محبت ووفا ہمارے بنیادی اہداف میں سے ہے ،پاکستان دنیا کی قیادت کر سکتا ہے مگر بدقسمتی سے مخلص قیادت کا فقدان ہے ،غلام عباس صدیقی نے کہا کہ اسلامی نظام تعلیم کے احیاء کیلئے طلبہ تنظیموں کے ساتھ مل کر اور تنہا مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں سیکولر نظام تعلیم کسی قیمت پر قبول نہیں کریں گے حکومت سیکولر نظام تعلیم جبراً مسلط کرکے پاکستانی طلبہ کے ساتھ سخت زیادتی کر رہی ہے ،ایسے گھناؤنے اقدام سے طلبہ کا مستقبل اور پاکستان کا اسلامی تشخص مجروح ہوگا۔ اسلامی اقداروروایات کا امین قومی زبان پر مشتمل یکساں نظام تعلیم ملک بھر میں فوراً لاگو کیا جائے تاکہ پاکستان کو مخلص قیادت میسر آسکے۔خواتین کیلئے ملک بھر الگ الگ تعلیمی دارے قائم کئے جائیں ،مخلوط نظام تعلیم نسل نو کو بے حیاء بنانے کی گہری سازش ہے ۔جسے یکسر مسترد کرتے ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ مغربی مفکرین بھی اب اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مخؒ وط نظام تعلیم سے معیار تعلیم بری طرح مجروح ہوتا ہے طلبہ وطالبات کیلئے الگ الگ تعلیمی ادارے ہونا از حد لازم ہے مگر افسوس ہمارے حکمران اسلام کے آفاقی اصول کو نظرانداز کرکے نسل نو کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں تمام طلبہ تنظیموں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقعہ ملنا چاہیے ،انتظامیہ یا بڑی طلبہ تنظیموں کی طرف سے جبر کسی قیمت پر قبول نہیں کریں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -