بھارت میں کہیں بابری مسجد تعمیر نہیں ہونی چاہئے، سربراہ وشواہندو پریشد

بھارت میں کہیں بابری مسجد تعمیر نہیں ہونی چاہئے، سربراہ وشواہندو پریشد

  

احمدآباد( مانیٹرنگ ڈیسک/ آن لائن) بھارت میں صرف بھارتیہ جنتا پارٹی ہی مسلمانوں کے خلاف مورچہ زَن نہیں دیگر انتہا پسند ہندو سیاسی جماعتیں بھی بھارتی مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور نفرت آمیز بیان بازی کرنے سے باز نہیں آتیں ، بھارت کی بڑی سیاسی جماعت وشواہندو پریشد کے صدر پراوین توگڑیا نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف اجودھیا ہی نہیں پورے بھارت میں کسی جگہ بھی مسلمان حکمران ظہیر الدین بابر کے نام پرکوئی مسجد تعمیر نہیں ہونی چاہئے،بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کا واحد راستہ پارلیمنٹ میں قانون سازی ہے ،مسلمانوں کی دوسری شادی پر بھی بھارت میں پابندی ہونی چاہئے ،4شادیوں سے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ،حکومت فوری پابندی لگائے۔ ’’انڈیا ٹی وی ‘‘ کے مطابق توگڑیا نے احمد آباد میں وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے مشترکہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کان کھول کر سن لے، صرف اجودھیا ہی نہیں پورے بھارت میں کسی جگہ بھی ظہیر الدین بابرکے نام پرکوئی مسجد تعمیر نہیں ہونی چاہئے، سردار پٹیل نے سومناتھ مندر کی تعمیر کے لئے مسلمانوں کی داڑھی نہیں پکڑی تھی نہ ہی کسی ٹوپی والے کو گلے لگایا تھا، اس وقت کی مرکزی حکومت کی رضامندی سے ڈنکے کی چوٹ پر مندر کی تعمیر ہوئی تھی،اب بھی رام مندر کی تعمیر کے لئے مودی حکومت کو ایسا ہی کرنا چاہئے پارلیمنٹ میں قانون کے ذریعے مندر بناناہی واحد راستہ ہے، اگر ایسا نہیں ہوا تو پورے بھارت سے لوگ اجودھیا آ کر خود رام مندر تعمیر کریں گے۔انہوں نیمودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کو 4شادیوں اور25بچے پیدا کرنے کی اجازت دینے سے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ،ہندوؤں کے جمع کئے ہوئے ٹیکس مسلمانوں پر خرچ ہو رہے ہیں ،اس لئے مسلمانوں کی دوسری شادی اور 2سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر پابندی ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں دوبارہ سے ہندو پنڈتوں کو آباد کیا جائے پورے بھار ت میں مسلمانوں کے ذبیحہ خانوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -