مقبوضہ کشمیر،مودی کے دورے سے قبل سکیورٹی کے سخت اقدامات ،مجاہدین کی کارروائیاں تیز

مقبوضہ کشمیر،مودی کے دورے سے قبل سکیورٹی کے سخت اقدامات ،مجاہدین کی ...

  

سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں دو اپریل کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے سے قبل وادی میں جہاں سکیورٹی کے سخت اقدامات کئے گئے ہیں وہیں مجاہدین کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے 12گھنٹوں کے دوران چار مختلف واقعات میں بھارت کی قابض فورسز کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے،اس دوران ایک اہلکار زخمی ہوا ایک ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق بڈگام میں نا معلوم مسلح افراد نے ڈی ایس پی جیل پولیس ابداال بھٹ کے گھر میں داخل ہو کر اس وقت اہل خانہ کو یرغمال بنا لیا جب وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔بعد میں قابض فورسز کے پہنچتے ہی وہ فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے ۔مسلح افراد نے ڈی ایس پی کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ شوپیاں میں ود مسلح افراد نے چیئرمین انجمن منہاج الرسول مولانا سید اطہر دہلوی کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار کی آنکھوں میں مرچیں ڈال کر اس سے اے کے47سرکاری رائفل چھین لی،ملزموں نے فرار ہونے سے قبل گن کا بٹ مار کر پولیس اہلکار محمد حنیف کو زخمی کر دیا ۔کولگام میں مسلح افراد نے سی آر پی ایف کے کیمپ پر فائرنگ کی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔؂دریں اثنا نامعلوم مسلح افراد نے شوپیان کے حرمین علاقے میں پولیس کی ایک گاڑی پر گھات لگاکر حملہ کیا تاہم کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ْمودی نے اودھم پور میں ایشیا کی سب سے بڑی ریل سرنگ کا افتتاح کرنا ہے ۔اس دوران بھارتی فوج کے شمالی کمان کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل ڈی انوبو نے وادی کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا۔انکے ہمراہ پندرہویں کور کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل جے ایس ساندھو بھی تھے۔دفاعی ترجمان نے کہا کہ شمالی کمان کے سربراہ نے لائن آف کنٹرول پر فوجی تیاریوں اور زمینی صورتحال کے حوالے سے جانکاری حاصل کی۔لیفٹنٹ جنرل انوبو نے فوج پر زور دیا کہ وہ اور زیادہ متحرک رہیں اور در اندازی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنائیں۔

مقبوضہ کشمیر

مزید :

راولپنڈی صفحہ اول -