گجرات، مسلم کش فسادات، ایک شخص ہلاک 14زخمی

گجرات، مسلم کش فسادات، ایک شخص ہلاک 14زخمی

گجرات (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے آبائی علاقے گجرات میں مسلم کش فسادات میں ایک شخص ہلاک جبکہ 14زخمی ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق گجرات میں ہندو اور مسلمان سکول طلبا کے درمیان ہونے والے فسادات میں ایک طالب علم ہلاک جبکہ 14افراد زخمی ہوگئے۔گجرات میں ضلع پٹن کے گاؤں وڈاوالی میں 5ہزار افراد کے ہجوم نے مسلمان آبادی پرحملہ کردیا اور ان کے گھروں اور گاڑیوں کو نذر آتش کردیا جس کے بعد ضلع بھر میں حالات کشیدہ ہوگئے۔مسلم کمیونٹی کی جانب سے اس حملے کے بعد پتھراؤ کیا گیاجس پر پولیس نے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔خیال رہے کہ بھارتی ریاست گجرات کی سنگین فرقہ وارانہ فسادات کے حوالے سے تا ریخ رہی ہے۔ گجرات میں سال2002 میں ہونے والے مسلم کش فسادات میں ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار کے قریب مسلمانوں کا قتل عام کیاگیاتھا، اُس وقت وزیراعلیٰ نریندر مودی تھے۔بھارت میں سال 2013 میں سپریم کورٹ کی طرف سے گجرات میں ہونے والے فسادات کی تحقیقات کیلئے بنائے گئے پینل کی تحقیقات میں ناکافی ثبوتوں کی بنا پرنریندر مودی کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔واضح رہے کہ پٹن ضلع کے انتظامی عہدیدار کے کے نائرالہ کا کہناہے کہ مسلم ہندو فسادات کے بعد صورت حال کنٹرول میں ہے اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر